سیرو تفریح

ہم سیروتفریح کرنا چاہتے ہیں

EjazNews

سیرو سیاحت تقریباً تمام انسانوں کو پسند ہوتی ہے لیکن ہر ایک کامزاج مختلف ہوتا ہے ۔ کچھ لوگ پارکوں میں بیٹھ کر تفریح حاصل کرتے ہیں، کچھ سینما گھروں میں، کچھ ڈرائیونگ کر کے، کچھ ریسٹورنگ میں کھانا کھا کر ، جیسا جس کا موڈ ویسی وہ اپنے لیے تفریح حاصل کر لیتا ہے۔ ہمارے ہاں ہمیشہ سے سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہےلیکن سنجیدہ کوشش غالباً ہمارے ملک کے بننے کے بعد صرف ذوالفقار علی بھٹو دور میں ہوئی جس میں ایسا ماحول بنایا گیا کہ لوگ سیرو سیاحت کو ضرور نکلیں۔ ایک وقت تھا جب تقریباً ہر گھر میں سے چھٹی والے دن فیملیز پارکوں کا رخ کرتی تھیں لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ ختم ہوتا گیا اور آج سیرو تفریح کے لیے نکلنے والے جب پارکوںیا دوسری تفریح گاہوں میں جاتےہیں تو ان کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے جیسے عید الاضحی ہو اور وہ قربانی کے جانور۔ کینٹینوں پر ناقص ترین اشیاء مہنگے داموں بکتی ہیں اور ہم ا گلے دن یہ خبر پڑھ کر خوش ہو جاتے ہیں کہ وزیراعلیٰ نے پارکوں میں مہنگی اور ناقص اشیاء بیچنے والوں کیخلاف سخت نوٹس لے لیا ہے اور پھر اگلی چھٹی والے دن پہلے سے بھی زیادہ مایوس ہو کر گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وویمن ٹی ٹونٹی کیمرے کی آنکھ سے
گریٹر اقبال پارک میں فیملیز کشتی کے سفر سے محظوظ ہوتے ہوئے

اگر ہم سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے ملک کے لوگوں کو سیرو تفریح کی عادت ڈالنی ہوگی اور ان کیلئے ایسا ماحول بنانا ہوگا کہ وہ بے د ھڑک پارک میں بیٹھ کر کچھ بھی کھا سکیں، اپنے بچوں کو کھلا سکیں، پارک میں موجود جوہلوں پر تفریح کروا سکیں۔

پارک میں مختلف فیملیز سیر کی غرض سے آئی ہوئیں
پارک میں بچے سلائیڈز سے لطف اندوز ہوتے ہوئے
شاہی قلعہ کے باہر مختلف خاندان
پارک اور قلعہ سے ملحقہ دیواروں پر سجے سٹالز سے لوگ خ ریداری کر رہے ہیں