Myrtis

9ہزار سال پہلے ہلاک ہونے والی خاتون کا چہرہ سائنسدانوں نے کیوں بنایا ؟

EjazNews

سائنس دانوں نے 9ہزار سال پہلے ہلاک ہوجانے والے انسان کا چہرہ بنا لیا ہوا ہے۔ سائنس دان اپنے آباﺅ اجداد کے نقش و نگار کا پتہ چلانے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں بالخصوص اگر یہ امریکی سائنسدان ہوں تو دلچسپی اور بڑھ جاتی ہے۔ چینیوںنے تو اپنا تعلق معروف مفکر کنفیوشر کے ساتھ جوڑنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کروڑوں چینی اپنے آپ کو فخریہ اس سائنس دان کی نسلوں کی اولاد سمجھتے ہیں۔ مگر امریکی ہیں کہ انہیں اپنے آباﺅ اجداد کی کوئی خبر نہیں۔چنانچہ اسی جستجو میں غیر ملکی سائنس دانوں نے ایتھنز میں 9سو سال پرانے چہرے کے خدو خال تیار کیے ہیں۔ ان کے پاس ایک ٹین ایجر خاتون کا ڈھانچہ موجود تھا۔ یہ کوئی 60سال قبل مسیح کا ہوگا، اس زمانے کو میسو لیک mesolithicدور کہا جاتا ہے۔ خیال ہے اس کی عمر 15سے 18سال ہوگی، سائنس دانوں نے اس کا ناک نقشہ اس کے دانتوں کا سائز اس کی ہڈیوں کی ساکھ سے لگایا۔ سائنس دانوں کا خیا ل ہے کہ اس کے دانت آگے کی جانب نکلے ہوئے تھے شاید بہت زیادہ دبانے یا ہچکچانے کی وجہ سے اس کے جبڑے اور اس کے دانت ابھرے ہوئے تھے۔ سائنس دانوں کے تیار کردہ خدو خال کے مطابق یہ چہرہ کبھی کرخت دکھائی دیتا ہوگا، شاید اس دور کی عورت زیادہ خوش نہ ہوگی، اس کے چہرے پر غمی کی لہر دیکھتے ہوئے سائنسدانوں نے اس لڑکی کا نام ڈوم رکھا، سائنس دانوں نے اس کا آدھا جسم بنایا ہے،کیونکہ اس کا آدھا جسم کمزور ی کی وجہ سے نہیں تھا۔ شاید اسی معذوری کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی ہوگی۔
یہ آدھا دھڑ سائنس دانوں نے 1993ءمیں دریافت کیاتھا ، یہ انہیں غار سے ملاتھا، انہوں نے اس کا نام اورavgiرکھا۔اس کا مطلب ہے گریک فار ڈاﺅن اس کے پیچھے بھی ایک راز ہے۔ اس کے مطابق ایک ایسے عہد سے نکلا جب تہذیب و تمدن کی پو پھوٹ رہی تھی۔ خیال ہے کہ کیپٹرا نامی غار میں لگ بھگ ایک لاکھ سال پہلے لوگ آباد ہوں گے ، سائنسدانوں کا یہ کہنا ہے۔ یہ غار تھیسلے thessalyکے علاقے میں پائی جاتی ہے ۔ سائنس دانوں کواس غار سے اسی زمانے کی تہذیب کے برتن اور سازو سامان بھی ملے ہیںجوایتھنز کے گھر میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک ٹویٹ 31کروڑ 40لاکھ میں فروخت