cripto crancy

دنیا کاغذ کی کرنسی سے آگے بڑھنے والی ہے

EjazNews

دنیا بدل رہی ہے ۔ ایک وقت تھا جب دنیا ایک چیز کے بدلے دوسری چیز خریدا کرتی تھی۔جسے زمانہ قدیم میں باٹر سسٹم کہا جاتا تھا اور اب بھی دنیا کے کچھ کونوں میں یہ رائج ہے۔ اس کے بعد سونے کے سکے آئے اور اس کے علاوہ بہت سے ملکوں میں بہت کچھ رائج رہا۔ وقت نے پلٹا کھایا اور ان تمام چیزوں کی جگہ کاغذ کے ٹکڑوں نے لے لی اور یہ کاغذ کے ٹکڑے دنیا کی کرنسی بن گئے۔ اب وہ ڈالر کی صورت میں بھی ہیں۔ روپے ، درہم اور دینار ،یورو، پائونڈ لیکن سب ہیں کاغذ ہی ۔ دنیا کے ذہین دماغ اب اس سے بھی آگے کا سوچ رہے ہیں۔اب مالیاتی کمپنیاں اور بینک کرنسی کی ایک جدید قسم کی جانب جا رہے ہیں جو پیپر منی یا کیش نہیں بلکہ الیکٹرانک کیش ہے۔ قریب ہی ہے کہ پیپر منی استعمال کرنا شاذو نادر اور قدیم جانا جائے کیونکہ مستقبل میں آج کی پیپرمنی محض الیکٹرانک کیش کی معیاری قیمت برقرار رکھنے کے لئے استعمال ہوگی اور تمام لین دین ایک نئی کرنسی کرپٹو کرنسی کے ذریعے ہو گا۔
کرپٹو کرنسی مستقبل میں ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہوگی۔ کرپٹوکرنسی بلاک چین ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہایت محفوظ اور فاسٹ کرنسی سمجھی جاتی ہے۔یہ بڑے بڑے کمپیوٹر سرورز کے ذریعے شمار کیے جانے والے ایسے اعدادو شمار ہوں گے جن کا تبادلہ زیادہ تر کمپیوٹرز اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ہو گا اور یہ بینکوں کا کردار بڑی حد تک ختم کر دے گی۔یہ جدید کرنسی مالیات کا ایک نیا نظام قائم کرنے والی ہے۔اگلی صدی میں مالیات کی دنیا کو سب سے زیادہ درہم برہم کرنے والی ٹیکنالوجی بلاشبہ بلاک چین اور کرپٹوکرنسی ہی نے ہونا ہے۔ کرپٹو کرنسی کے ساتھ ساتھ اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ عنقریب کارڈ لیس اے ٹی ایمز متعارف کروا دئیے جائیں ۔کرپٹو کی خرید و فروخت، چیک ڈِپازِٹ، جہاز کی ٹکٹس خریدنا یا ایسی دیگر سہولیات فراہم کریں گی۔ عین ممکن ہے کہ بائیومیٹرک کی مدد سے اے ٹی ایم مکمل طور پر کارڈ لیس ہو جائیں لیکن ایک بات طے ہے کہ مستقبل میں اگر اے ٹی ایم استعمال میں رہے تو بینکوں کو ان کو انتہائی جدید بنا کر کرپٹو کرنسی سے ہم آہنگ کرنا پڑے گا۔
دنیا بھر کے دماغ اس پر کام کر رہے ہیں۔ فیس بک جیسے بڑے ادارے نے بھی ڈیجٹیل کرنسی متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے اور وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ ذراسوچئے کہ جب کاغذ کے نوٹ بھی نہیں رہیں گے اور آنے والے بچے مثال دیا کریں گے کہ ایک وقت تھا جب کاغذ کو بطور کرنسی استعمال کیا جاتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
ممبئی میں بارشوں سے18افراد ہلاک
بھارتی میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق انڈیا میں ممبئی میں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد 18افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 3بچے بھی ہیں۔جبکہ انڈیا کے محکمہ موسمیات نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔شہر میں سرکاری چھٹی کا اعلان کیا گیا ۔ سرکاری دفاتر کی بندش کے ساتھ ساتھ سکول ، کالج بھی بند ۔بارش کے باعث شہر میں ٹرانسپورٹ اور ریل کانظام بری طرح سے متاثر ہوا اور سڑکیں سیلاب کا منظر پیش کررہی ہیں ۔خراب موسمی صورتحال اور شدید بارشوں کے پیش نظر فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا ہے جس کے باعث 52 پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں جب کہ 54 پروازوں کا رخ موڑ دیاگیا ہے۔پانی میں گھرے افراد کی مدد کے لیے بھارتی بحریہ نے ریسکیو آپریشن بھی شروع کردیا ہے۔مون سون کے موسم میں ہر سال جون سے لے کر اکتوبر تک ممبئی سیلابی صورتحال کا سامنا کرتا ہے۔
۔۔۔
چکن بادامی بریانی

یہ بھی پڑھیں:  9ہزار سال پہلے ہلاک ہونے والی خاتون کا چہرہ سائنسدانوں نے کیوں بنایا ؟

چکن بریانی ایک مشہور زمانہ بریانی ہے جو تقریباً ہر گھر میں کبھی نہ کبھی بنتی ہے۔یہ برصغیر پاک و ہند کی ایک مشہور ڈش ہے۔ لیکن ہماری چکن بادامی بریانی کی بات ہی اور ہے اس کے بنانے کیلئے ایک کلو مرغی، تین پائو چاول، ایک پائو دہی، ایک پائو پیاز، نمک اور لا ل مرچ حسب ذائقہ، ادرک آدھی چھٹانک، دار چینی ایک بڑا ٹکڑا، لونگ چار عدد، بڑی الائچی تین عدد، خشخاش چائے کے دو چمچے، زیرہ سفید ایک چٹکی، کالی مرچ چھ عدد، زعفران ایک چمچہ، بادام چھلے ہوئے ایک چھٹاک ، ٹماٹر چار، ہری مرچیںچھ، لہسن بارہ جوئے، گھی ایک پائو۔
آئیے اب اسے پکاناشروع کرتے ہیں۔ گوشت کے ٹکڑوں کو دھو لیں، تھوڑا سا نمک ، لال مرچ ، تھوڑا سا لہسن پیس کر اس پر مل دیں ۔ سرکہ بھی مل دیں۔ چار گھنٹے یونہی پڑا رہنے دیں۔ دہی پھین ٹلیں اور اس میں لال مرچ اور نمک ڈال دیں۔ دیگچی میں گھی اچھی طرح گرم کر لیں۔ اس میں پیاز کے باریک لچھے اور لہسن کے چار جوئے چھیل کر تل لیں ۔ بادامی ہو جائیں تونکال کر پیاز سمیت پیس لیں۔ ای گھی میں تلی ہوئی پیاز اور لہسن ، زیرہ ،لونگ ، دار چینی، ادرک اور الائچی ڈال کر بھون لیں۔ پھر مرغی کے ٹکڑے ڈال کر سرخ کر لیں۔ خشخاش بھی پیس کر ڈال دیں۔ پھردہی ڈال کر آدھی پیالی پانی ڈال دیں اور ڈھکنا مضبوطی سے بند کردیں۔ آنچ دھیمی رکھیں، پانی خشک ہوجائے تو بھون لیں۔ مسالا گھی چھوڑ دے، گوشت گل جائے اور مسالے کی بو مر جائے تو اتار لیں۔
چاولوں کو چن کر، دھوکر ایک دیگچے میں پانی ڈال کر ایک گھنٹے کے لیے بھگو دیں۔ پانی چاولوں کی سطح سے ڈیڑھ انچ اوپر رہنا چاہیے۔ ایک کھلے منہہ کے دیگچے میں سوا سیر پانی ڈا لدیں اور نمک ،لونگ اور دار چینی کا ٹکڑا ڈال کر ابلنے دیں۔ پانی ابلنے لگے تو پانی نتھار کر ڈالیں اور کفگیر چلائیں تاکہ چاول یکساں پکیں۔ پھر دوکنی پر اتار لیں۔ اگر پانی ہو تو نچوڑ دیں۔
ایک کھلے منہ کی دیگچی میں پہلے چاولوں کی ایک تہ جمائیں ، پھر مرغی کے پکڑے اور مسالے کی۔ بادم بھی تل کر ڈال دیں۔ (بعض کشمش بھی ڈال دیتے ہیں)۔ زعفران پیس کر کیوڑے میں حل کر کے یا بغیر کیوڑے کے ڈال دی ں اور ڈھکنا مضبوطی سے بند کر کے دم پر لگادیں۔ چاول گل گئے ہوں اور ذرا سا پانی ہو تو سوکھنے کے لئے دم دیں اور کوہلے دہکا کر ڈھکنے کے اوپر رکھ دیں۔ چاول کھڑے ہوں تو گیلے کپڑے کا دم دیں۔ طشتری میں چاول کفگیر سے پھیلائیں اور بوٹیاں اوپر رکھیں ۔ ری مرچیں اور ہرا دھنیا بھی رکھ دیں۔
۔۔۔۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان قومی اسمبلی کے گوشواروں کی تفصیلات جاری کردیںہیں، جس کے تحت پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری امیر ترین جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مراد سعید غریب رکن اسمبلی ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ گوشوارے
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی رہنمائوں کے گوشواروں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ان تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان 10 کروڑ 82 لاکھ 36 ہزار روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں، ان اثاثوں میں بنی گالا رہائش کو تحفے کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔وزیر اعظم کے ڈالر، پاؤنڈ اسٹرلنگ اور یورو اکاؤنٹس بھی ہیں جبکہ 2 لاکھ روپے کی 4 بکریوں کے بھی مالک ہیں، ساتھ ہی ان کے پاس 6.2 مربع زرعی اور کمرشل اراضی بھی موجود ہے۔ جبکہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی پیش کیں، جس میں ان کے نام پاک پتن میں 431کینال اراضی اور اوکاڑہ میں 266کینال اراضی ہے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف 18 کروڑ 96 لاکھ روپے سے زائد کے مالک ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی 60 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے رکھتے ہیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری 67 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں ۔ وہ اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری دبئی میں اقامہ بھی رکھتے ہیں۔جاری تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں لیکن ان کے پاس ایک کروڑ روپے کے گھوڑے اور دیگر جانور ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے اثاثوں کی مالیت ایک ارب 54 کروڑ روپے سے زائد ہے جبکہ ان کے دبئی میں 2 ولاز میں شراکت داری بھی ہے۔
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے پاس 3 کروڑ 58 لاکھ روپے کے اثاثے، 8 کروڑ 73 لاکھ روپے کا بینک بیلنس اور 25 لاکھ روپے کے پرائز بانڈ ہیں۔
گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کے پاس 6 کروڑ 60 لاکھ روپے کے اثاثے ہیں، اسی طرح پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ بھی 6 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید ان ارکان قومی اسمبلی میں شامل ہیں جن کے اثاثے کروڑوں میں نہیں ہیں اور ان کے پاس 36 لاکھ نقد اور 15 تولا سونا ہے۔یوں وہ ارکان اسمبلی میں سے غریب ارکان ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی 2 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ وزیر دفاع پرویز خٹک 13 کروڑ 95 لاکھ کے اثاثوں اور ڈھائی کروڑ روپے کا بینک بیلنس رکھتے ہیں۔
جبکہ پی ٹی آئی کے ایم این اے سمیع الحسن گیلانی ایک ارب روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ وفاقی وزیر علی زیدی 3 کروڑ روپے سے زائد اثاثے رکھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
بنگلہ دیش کو انڈیا سے جیتنے کیلئے 315رنز بنانا ہوں گے
بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان کھیلے جانے والے ورلڈ کپ 2019ء کا 40واں میچ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ بنگلہ دیش اگر یہ میچ جیتتا ہے تو اس کے بعد اس کے سیمی فائنل تک رسائی کے چانسز بنتے ہیں جبکہ انڈیا کو صرف ایک میچ جیتنے کی ضرورت ہے وہ یہ میچ جیتے یا پھر اگلا کیونکہ انڈیا اس سے پہلے انگلینڈ سے اپنا میچ ہار چکاہے۔ انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور خوب دھواں دار بیٹنگ کی ۔ کے ایل راہول نے 77 ، روہت شرما نے104، ویراہت کوہلی26، پنٹ48، ہاردک پانڈیاصفر، دھونی35، کارتھک8، کمار2،محمد شامی 1، بمراہ نے صفر سکور بنائے۔ یوں انڈیا ٹیم نے 9وکٹوں کے نقصان پر مجموعی طور پر 314رنز بنا ئے ۔ بنگلہ دیش کی ٹیم نے جس طرح کے کھیل کا مظاہرہ 2019ء کے ورلڈ کپ میں کیا ہے ان کیلئے یہ ٹارگٹ حاصل کرنا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔
ویرات کوہلی کپتان ، روہت شرما، شیکر دھاون، مہندرا سنگھ دھونی، دنیش کارتھک، وجے شنکر، کیدر یادیو، ہاردک پانڈیا، کلدیپ یادیو، کے ایل یادیو، یزوندر چاہل، روندرا جدیجا، جیسپرت بمراہ، محمد شامی اور بھونیشور کمار
۔۔۔۔۔
مشرفی مرتضی کپتان، شکیب الحسن نائب کپتان، تمیم اقبال، لٹن داس، سومیا سرکار، مشفیق الرحیم، محمود اللہ، شکیب الحسن، محمد مٹھن، صابر رحمان، محمد سیف الدین، مہدی حسن، روبیل حسین، مستفیض الرحمان اور ابو جاوید
حجاج کرام کو 25سے 58ہزار روپے تک رقم واپس کی جائے گی:وفاقی وزیرمذہبی امور
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات نے وفاقی وزیر مذہبی امور کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی ۔معاون خصوصی برائے اطلاعات نے پہلے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کا وژن اوورسیز پاکستانیوں کو پارٹنرشپ میں لانا ہے۔ ہرحال میں اوور سیز پاکستانیوں کو سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بائیو میٹرک کی آسان شرائط کی ہدایت کی ہے ، گورنر سٹیٹ بینک سے کہا ہے کہ بائیو میٹر کا کوئی دوسرا آپشن ڈھونڈیں۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا شمالی کوریا سے ویزوں کے طریقہ کار کی کابینہ نے منظور دی ہے۔ شمالی کوریا کے ساتھ ورک ویزہ کی منظوری دی گئی ہے۔
سی ڈے اے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس کا پہلا قانون 1960ء میں بنا، وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ سی ڈی اے نیا ماسٹر پلان بنائے، سی ڈی اے اس پر ایکشن لے،کوئی نئی قانون سازی کی ضرورت ہے تو کابینہ میں لایا جائے۔ ساتھ ہی سی ڈی اے کے سپیشل آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا وزیراعظم نے اسلام آباد میں 12ہزار گھروں کی ضرورت کو فوری پورا کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ جبکہ یوتھ امپلائی منٹ آرگنائزیشن اتھارٹی بھی بنائی گئی ہے۔ تاکہ جو نوجوان ڈگریاں لے کر گھوم رہے ہیں نوکریاں نہیں ہیں ان کے مسائل حل ہو سکیں۔
پاکستان سٹیل مل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی نجکاری کی جائے گی۔ مل چلانے کے لیے انٹرنیشنل سرمایہ کار آئیں گے، پاکستان سٹیل پر ای سی سی کے فیصلے کی توثیق کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سٹیل چلے گی تو معیشت کا پہیہ چلے گا۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا 10ماہ میں اپوزیشن نے کون سے میڈل جیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہدایات دی ہیں قانون کا یکساں اطلاع ونا چاہئے، مجرموں کی دل کی دھڑکن ٹھیک رکھنے کے لیے 21ڈاکٹر ز موجود ہیں ۔ ایک بیمار کے لیے 100انار ہیں مگر پھر بھی راضی نہیں ہیں۔ حکومت کو نواز شریف کی صحت کا بہت خیال ہے۔
زبیر گیلانی کو چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ تعینات کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم سینئر سیٹزن بل کی منظور ی بھی دی ہے۔
کابینہ نے چائلڈ رائٹس ایکٹ کی بھی منظور ی دی ہے۔
جبکہ وفاقی وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد تیسری قرعہ اندازی کی گئی ۔ پہلی بار پاکستانی حجا ج کو ای ویز ا کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، عازمین حج کو 25سے 58ہزار روپے تک رقم واپس بھی کی جائے گی۔ جبکہ حجاج 2019-20ء کی جدید ماڈل والی گاڑیوں میں سفر کریں گے۔
یاد رہے وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر ولی عہد شہزاد ہ محمد بن سلمان نے پاکستان کیلئے 16ہزار اضافی حج کوٹے کا اعلان کیا تھا۔ قبل ازیں حج کوٹہ ایک لاکھ 84ہزار 210تھا جو اس سال بڑھ کر 2لاکھ کر دیا گیا ہے۔
تیسری قرعہ اندازی بھی کر دی گئی ہے۔ کامیاب درخواست گزاروں کو بذریعہ ایس ایم ایس آگاہ کیا جارہا ہے۔ قرعہ اندازی میں کامیاب ہو نے والے حجاج کرام کو 10جولائی تک بینکوں میں پیکج کی رقم جمع کرانا ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا میں کپڑے تول کر بھی بکتے ہیں