infloinza

موسمی بخار سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر

EjazNews

دنیا بھر میں موسمی بخار سے بچنے کے لیے کئی احتیاطی تدابیر اپنائی جاتی ہیں۔ ہم انہیں اکثر نظرانداز کرتے ہیں مثلاً حج کا موقع ہویا کوئی بڑی عالمی کانفرنس ہو ،حتیٰ کہ وہاں پہ موسمی بخار کا انجکشن لگانا انتہائی ضروری ہے ،اس کے بغیر آپ حج فلائٹ پر بیٹھ نہیں سکتے اور بیرون ملک یونیورسٹیوں میں شرکت کے وقت طالب علم کو حتیٰ کہ استاد کو بھی موسمی بخار کا ٹیکہ لگانا پڑتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ ذرا مختلف انداز کا ہے۔ ہمارے گھروں کی بناوٹ ایک مخصوص انداز کی ہے۔ جس میں سردیوںمیں لوگ ا یک جگہ پر جمع ہو جاتے ہیں اورگرمیو ں میں بکھر جاتے ہیں۔60سال یا 60سال سے زائد افراد یا شوگر کے مریض یا کسی بھی کمزوری کا شکار افراد موسم کی تبدیلی کے آغاز میں ہی اپنی خوراک کو بہتر بنائیں۔ ان تمام افراد کے لیے موسمی بخار کا ٹیکہ لگانا بہترین ہے، چھوٹے بچوں اور عمر رسیدہ افراد میں اس کی علامات زیادہ شدت سے آتی ہیں پیچیدگیاں بھی اسی عمر میں زیادہ ہوتی ہیں دیکھاگیا ہے کہ جو لوگ شروع میں آتے ہیں علامات کے ظاہر ہوتے ہی جیسے کہ ہلکا سا گلا خراب ہوا یا چھینکیں آئیں تو ان کا علاج انتہائی آسان ہے۔ ہلکی سی کھانسی آنے کی صورت میں بھی اپنے آرام میں اضافہ کر لینا چاہیے ،شوگر کو کنٹرول کرنا چاہیے اور خوراک کو بہتر بنانا چا ہیے اور ممکن ہو تو ہلکی سی دوا لینی چاہیے ٹھنڈے مشروبات کی جگہ نیم گرم پانی استعمال کیجئے۔ ٹھنڈی میٹھی چیزو ں کا استعمال کو کم کر دینے اور خود کو موسمی تبدیلیوں سے بچانے والے جلد ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔سال میں ایک دو مرتبہ انفلونزا کا سامنا کرنے والے افراد کو ہلکی سی بیماری کی صورت میں بھی ان علامات کا فوری علاج کرنا چاہیے اوریہ چند روپے کی گولیوں سے ممکن ہوتا ہے۔ سر درد کی صورت میں اس کی دوا یا گلے کی خرابی کی صورت میں اس کی الگ دوا استعمال کی جاسکتی ہے۔
لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ عالمی ادارہ صحت انفلونزا کے علاج پر بہت توجہ مرکوز کیے ہوئے اور ہرسال وہ اس وائرس کے علاج کے لیے ایک نئی ویکسین جاری کرتا ہے۔ چھوت کی بیماریوں کے علاج کے لیے ہر سال ویکسین کی تبدیلی ہی اس کے بہتر علاج کا سبب بنتی ہے۔ دراصل انسان کو بیمار کردینے والا سب سے چھوٹا خلیہ وائرس کہلاتا ہے اس سے ذرا بڑے کو بیکٹیریا کہتے ہیں بیکٹیریا عام طور پر اینٹی وائرس سے آسانی سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے البتہ وائرس کے لیے کوئی خاص دوا نہیں ہوتی اس کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن جیسا کہ میں نے کہا انجکشن تجویز کرتا ہے۔ انفلونزا کے لیے ایک انجکشن کافی ہے، کامن کوڈ اور انفلونزا میں نمایاں فرق ہے۔ کومن کوڈ میں پورا جسم متاثر نہیں ہوتا مگر انفلونزا میں اس لیے احتیاط ضروری ہے اس میں پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ سکول ، کالج یا بڑی اجتماعات میں رہنے والوں کو یہ حفاظتی ٹیکہ ضرور لگوا لینا چاہیے۔ یہ چیز یاد رکھی جائے کہ یہ ویکسینیشن 15دن پہلے ہونی چاہیے یعنی موسم کی تبدیلی سے لگ بھگ 15دن پہلے۔سکولوں، کالجوں یا بڑے دفاتر سے منسلک افراد ان موسمی بخاری کی ویکسینیشن کروا سکتے ہیں ہرقسم کے انفلونزا کی ویکسینیشن ایک ہی ہے اس انجکشن کا کوئی ذیلی منفی اثر نہیں ہوتا کسی کسی کو ہلکا سا بخار ہو سکتا ہے سب کونہیں ہوتا۔
موسمی بخار کی علامات بڑی سادہ سی ہیں ناک بہنا شروع ہو جاتی،چھنکیں آنا شروع ہوجاتی ہیں اور ہلکا سا بخار ہوتا ہے۔جونہی ناک بند ہوتاہے سینے میں مسائل جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ سانس کا راستہ ہے ۔اس کی بندش پھیپھڑے پر اثر انداز ہوتی ہے بہت سے لوگوں کو کھانسی آئے گی بہت سے لوگوں کو دمہ میں شدت آئے گی۔ اورپھر انفلونزا جسم کے تمام اہم اور بنیادی حصو ں کو متاثر کر سکتاہے۔یہ دل پر بھی اثر ڈال سکتا ہے اور دماغ پربھی۔ یہ علامات تو عام نزلہ کہیں مختلف ہے اس صورت میں ڈاکٹر سے فوراً رجوع کرنا چاہیے۔جب بھی انفکشن ہو ایکسز سائز نہ کریں۔ کسی بھی انفکشن کی صورت میں ورزش نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تھوڑا سا ریسٹ کر لیجئے شوگر کو کنٹرول کیجئے اور اپنی خوراک کو بہتر بنائیں۔ ٹھنڈی میٹھی چیزو ں سے اجتناب کیجئے۔آئلی اور چکنی مصنوعات سے ہاتھ کھینچ لیجئے۔ اس صورت میں اپنی معمول کی سرگرمیوں کو کم سے کم کر دینا چاہیے۔ پروٹین کی خوراک بڑھا دینا چاہیے اور سٹیم باتھ بھی لینا چاہیے۔ اور ہلکی سی اینٹی الرجی اور عام استعمال ہونے والی ادویات ضرور کھا لینا چاہیے اس مرتبہ کچھ لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ انہیں کمزوری یا کمر درد بھی ہوا، لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں یہ اس کی عام علامات ہیں ۔اس کا بہترین علاج جسم کے مدافعاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے اور یہ ریسٹ یعنی آرام اور ہلکی سی دوا کے ذریعے بہتر کیا جاسکتا ہے ۔بیماری کی صورت میں ہمیں اپنی لائف کو ہلکا پھلکا کر لینا چا ہیے ہم بہت ٹینشن بھری زندگی جی رہے ہیں۔ ہمارے آس پاس انتہائی کھچاﺅ کی صورت حال ہے اور یہ کبھی کبھی بیماریوں میں اضافہ کا موجب بن سکتی ہے۔ حقیقت کے اظہار سے قوم پریشان ہو جاتی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں واقعات ہماری طرح ہی چلتے ہیں لیکن وہاںکے لوگ اپنے عوام کو ڈسٹرب نہیں کرتے۔ اگرچہ گھر کے اندر کی پریشانیوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ذہنی پریشانیو ں سے لیکن ہمارے ہاں یہ پریشانی ہے کہ ہم بیماریوں کو قبول نہیں کرتے بہت سے لوگوں کو ڈپریشن ہوتا ہے لیکن وہ یہ نہیں مانتے کہ انہیں یہ مرض ہے ، ہر بندے کے ساتھ بیماریاں جڑی رہتی ہیں لیکن انہیں قابو میں رکھنے کے لیے انہیں کسی حد تک کنٹرول میں رکھا جاتا ہے۔
موسمی بخار ہو جائے تو کیا کیا جائے
اس صورت میں فوری طور پر آرام بڑھا دینا چاہیے۔ شوگر پر قابو پا کر ادویات کا استعمال کرنا چاہیے۔ ورزش بند کر دینا چاہیے،کم از کم آدھا گھنٹہ سٹیم باتھ لینا چاہیے۔ چھوٹے بچو ں اور بڑی عمر کے افراد کو بہت زیادہ ا حتیاط کرنی ہوتی ہے۔ ان دونو ں عمروں میں پیچیدگیاں رونما ہو سکتی ہیں اور کسی اور صورت میں سٹیرائیٹ ادویات استعمال کرنے والے مریضو ں کوبھی احتیاط کرنا چاہیے۔ ان میں مدافعت کم ہوجاتی ہے اور بعض بیماریوں کی صورت میں دوائیں بھی زیادہ پر اثر نہیں رہتیں۔ ورزش بالکل نہ کریں بلڈ پریشر یا کسی دوسری بیماری میں مبتلا افراد اپنی دوسری بیماری کو بھی دواﺅں کے ذریعے بہتر طورپر قابو کرنے کی کوشش کریں یہ ممکن ہے یہ کوئی بڑا یا مشکل کام نہیں۔
یہ کوئی جان لیوا یا موذی مرض ہے
نہیں نہیں نہیں ہرگز نہیں یہ ایک مرض ہے جو صدیوں سے لاحق ہے اور صدیوں سے زیر علا ج بھی ہے ۔اگر خطرناک ہوتا تو اب تک بنی نوع آدم کی نسلیں ختم ہو چکی ہوتیں ،لیکن خطرناک اس صورت میں ہے جب مریض علامات ظاہر ہونے کے بعد اسے یکسر نظر انداز کر دے اور مرض اندر ہی اندر پھیلنا شروع ہو جائے ہم نے اپنے تجربے کے دوران دیکھا کہ بہت سے مریض اسے بہت معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں وہ کومن کوڈ ، انفلونزا میں فرق کو محسوس نہیں کرتے حالانکہ انفلونزا پورے جسم کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اس کا اندازہ ہو جاناچاہیے اس سے علامات اندر ہی اندر شدت اختیار کرلیتی ہیں اگر پورے جسم کے بہت سے حصوں کو متاثر کرتا ہے لیکن پھربھی اس سے ڈرنے ، گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یہ قابل علاج ہے ۔آرام ، ڈاکٹر سے مکمل رابطہ اور بروقت علاج یہ مرض کو پیچیدہ ہونے سے پہلے ہی ٹھیک کردیتا ہے۔ بازاری اشیاءسے پرہیز کرنا چاہیے، گھریلو اشیاءاور ہلکی یا گرمی اشیاءکا استعمال زیادہ مفید رہتا ہے۔ ٹھنڈے پانی، یا ٹھنڈے مشروبات یا آئس کریم وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہیے عمومی طورپر آئس کریم کا کوئی نقصان نہیں لیکن دیکھا گیا ہے کہ کچھ مریضوں سے بیماری کے باوجود کچھ مریضوں نے شام کو آئس کریم انجوائے کی یہ خطرناک ہے ۔ بند ڈبوں کی اشیاءسے بھی گریز کرنا چاہیے چاہے وہ جوسز ہو ں یا فوڈ آئٹمز ہوں ان سے اجتناب ضروری ہے فریج سے نکلی ہوئی چیزیں فوری طور پر نہیں کھانی چاہیے انہیں ذرا گرم ہونے دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  پین کلر۔۔۔۔درد دور کرنے کا فوری مگرآخر ی حربہ، ہرگز نہیں
کیٹاگری میں : صحت