haji2019

حج میں تاخیر کرنا

EjazNews

عمر بھر میں صرف ایک بار حج کرنا فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
ترجمہ:حج ایک مرتبہ فرض ہے جو اس سے زیادہ کرے وہ نفل ہے۔ (نسائی)
مندرجہ بالا شرطوں کپے ائے جانے کے بعد حج فرض ہو جاتا ہے بغیر معقول عذر کے تاخیر کرنا درست نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: حج کی طرف جلدی چلو کیونکہ آئندہ معلوم نہیں کیا حادثہ پیش آجائے ۔ (احمد)
آپ ﷺ نے فرمایا:
جو حج کاارادہ کرے تو جلدی کرے کیونکہ بیمار کے بیمار ہو جانے اور سواری کے گم ہوجانے اور دیگر ضروریات کے پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ (احمد)
اسی لئے بعض آئمہ نے فوری حج کرنے کو واجب قرار دیا ہے۔
حج فرض ہو جانے کے بعد اگر کوئی بغیر حج کئے مر جائے تو وہ سخت گنہگار ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ، جو بغیر اسلامی حج کئے مر گیا حالانکہ روکنے والی بیماری نے نہیں روکا اور نہ ظاہری حاجت نے روکا اور نہ ظالم بادشاہ نے منع کیا تو وہ یہودی اور نصرانی ہو کر مرے۔ (نیل الاوطار)
اور فرمایا:
جو زاد و راحلہ کا مالک ہو گیا تھا جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے حج نہیں کیا تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے۔ (ترمذی)
اسلام کے پانچوں رکنوں میں سے ایک رکن حج بھی ہے جس پر اسلام کی بنیاد قائم ہے۔
حج کا چھوڑنے والا پورا مسلمان نہیں ہے۔ (احمد)
سب نیکیوں کے کرنے میں جلدی کرنی چاہیے قرآن مجید میں فرمایا :
ترجمہ: اور خیر کی طرف سبقت کرو۔
حج کو بھی جلدی کر لو، کیاخبر آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ خدانخواستہ اگر آئندہ استطاعت باقی نہ رہے اور بغیر حج کئے ہوئے مر گئے تو آخرت میں بہت افسوس کرنا پڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: یہاں تک کہ جب اس میں سے کسی کےپ اس موت آجاتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب تو مجھے دوبارہ دنیا میں لوٹا دے تاکہ نیک عمل کر کے واپس آجاﺅں اب ہرگز یہ نہ ہوگا۔(المومنون)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:
ترجمہ: یہ اس شخص کیحالت ہے جس نے باوجود قدرت کے حج نہ کیا ہو۔ موت کے وقت جب اس تارک حج پر لعنت پڑے گی تو بہت افسوس وندامت کے ساتھ دوبارہ زندگی کی خواہش کرے گا تاکہ فریضہ حج کو ادا کر سکے اور اسی حسرت کے عالم میں نامراد دنیا سے رخصت ہوگا۔ (حسن الاختتام)
اور مرنے کے بعد اس پر کیا گزرے گی۔ اس کا ادراک اس وقت ہوگا جب وہ بالکل مجبور ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  صفا و مروہ کی فضیلت

بار بار حج کرنا
عمر بھر میں استطاعت کی حالتمیں صرف ایک بار حج کرنا فرض ہے اس کے بعد نفل کا درجہ ہے۔ حج کی فضیلت کو مدنظر رکھتے ہوئے استطاعت کی صورت میں بغیر کسی کی حق تلفی کے دوبارہ سہ بارہ حج کرنا افضل ہے، انبیاءعلیہم السلام بار بار تشریف لاتے تھے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے متعدد دفعہ حج کیا ہے۔ خدا کی محبت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس گھر کی بار بارزیارت کی جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: اور جب کہ ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے مرجع بنا دیا ہے اور امن کی جگہ ۔ (البقرہ)
مثابہ کا کئی ایک مطلب ہے۔ (۱)بیت اللہ سب کا قبلہ ہے۔ ہرنماز میں اس کی جانب منہ کرنا فرض ہے۔ بار بار اس طرف منہ کرنا (۲) حج و عمرہ کے لئے چل کر یہاں آنا (۳) ثواب کی جگہ ایک نیکی کا ثواب لاکھ نیکی کے برابر ہے۔ (۴) بار بار حج کے لئے جانا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مرجع ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس سے کبھی دل نہیں بھرتا۔ ایک بار حج کرنے کے بعد بار بار اس کی طرف آنے کو جی چاہتا ہے۔ (درمنثور)

یہ بھی پڑھیں:  رسول اللہﷺ کا حج

نفلی حج پرحاجتمند کو ترجیح دینا افضل ترین ہے
غریبوں اور حاجتمندوں کی اعانت و ہمدردی فرائض کی ادائیگی کے بعد سب سے افضل عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ، سب کاموں سے یہ بہتر کام ہے کہ کسی ے دل کو خوش کر دو یعنی اگر وہ برہنہ ہے تو اس کو کپڑا پہنا دو اگر بھوکا ہے تو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دو۔ پیاسا ہے تو پانی پلا دو اور کسی چیز کا ضورت مند ہو اس کی حاجت پوری کرو۔(الطبرانی فی الاوسط)
کسی مصیبت زدہ مضطر کی حاجت روائی کرنا فرض ہے۔ فرض چھوڑ کر نفل ادا کرنا خلاف عقل و نقل ہے۔