tax-Amnesty-scheme

ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے جمع ہونے والی رقم 42ارب سے تجاوز کر گئی، ابھی دن باقی ہیں

EjazNews

ایمنسٹی سکیم کے تحت جن لوگوں نے اپنے اثاثے ظاہر کیے ہیں ان کی حتمی تفصیلات تو منظر عام پر نہیں آئیں البتہ کچھ ذرائع سے معلومات اکٹھی کرنے پر معلوم ہوا کہ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں سرفہرست وہ لوگ ہیں جن کی دبئی میں جائیدادیں ہیں اور خزانے میں جمع ہونے والی رقم 42ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ اب ایمنسٹی سکیم میں 3جولائی تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں اس سکیم میں پیسوں اور لوگوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سکیم کو3 جولائی تک اس لیے آگے لے جایا گیا ہے کہ اپنے اثاثوں کو ظاہر کرنے والے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور دوسرا اس میں ایک اہم محرک 3جولائی کو ہونے والا آئی ایم ایف کا اجلاس بھی ہے جس میں فیصلہ کیا جانا ہے کہ پاکستان کو قرض کی رقم دینی ہے یا نہیں۔ کیونکہ آئی ایم ایف بھی اس ساری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اور کچھ لوگوں کو ایسا بھی کہنا ہے کہ آئی ایم ایف اگر سکیم پاس کر دیتا ہے تو اس کے بعد 3سال تک کوئی ایمنسٹی سکیم نافذ العمل نہیں ہوسکتی۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 20لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنے گوشوارے جمع کروائے ہیں جو اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے۔ دوسری جانب عرب دنیا کے معتبر اخبار خلیج ٹائمز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانیوں نے 10کھرب کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔
3جولائی کو ایمنسٹی سکیم کا آخری دن ہو گا۔شام 5بجے تک جن لوگوں نے اثاثے ظاہر کر دئیے وہ کسی قسم کی آنے والی پریشانی سے بچے رہیں گے، اگر اس میں مزید توسیع نہ کی گئی تو اس کے بعد بے نامی جائیداوں کا کمیشن حرکت میں آئے گا۔ اس کمیشن کا اعلان گزشتہ روز مشیر خزانہ نے اپنی پریس کانفرنس سے کیا تھا۔ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والے پاکستانیو ں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جائے گی کیونکہ اب تک 90ہزار کے قریب پاکستانیوں نے اس سکیم سے فائدہ اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیر آغاز تھا، ہندوستان میں مقیم 200 ملین مسلمان نشانے پر ہیں، عالمی برادری کیلئے کچھ کرنے کا بلاشبہ یہی وقت ہے:وزیراعظم عمران خان