Skin-elearji

موسم کی مناسبت سے جلد کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے

EjazNews

جلد،جسم کا ایک اہم ترین عضو ہے،جو تین پرتوں پر مشتمل ہے۔ درحقیقت، یہ ایسی چادر ہے، جو سر تا پائوں انسان کو ڈھانپ کر رکھتی ہے اور موسمی اثرات، چوٹوں اور جراثیم وغیرہ سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ جلد پر موجود بالوں کی جڑوں میں پسینہ اور چکنائی پیدا کرنے والے غدود پائے جاتے ہیں، جو جسم کا درجۂ حرارت نارمل رکھنے سمیت اضافی نمی کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔ جلد بعض بیرونی اور اندرنی عوامل کے باعث مختلف اقسام کی خرابیوں سے بھی دوچار ہوسکتی ہے۔ بیرونی عوامل میں کئی قسم کے جراثیم شامل ہیں، جو جلد میں داخل ہو کر دانوں، پھوڑوں اور زخموں کا باعث بنتے ہیں، بعض اُڑنے والے حشرات جیسے کھٹمل، جوئیں، مچھر جلد سے خون چوس کر مختلف بیماریوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔ جیسے ملیریا، ڈینگی وائرس اور چکن گونیا وغیرہ۔ اسی طرح رینگنے والے حشرات الارض، مثلاً سانپ، بچھو، کن کھجورا وغیرہ بھی جلد پر حملہ آور ہو کر اپنا زہر جسم میں داخل کردیتے ہیں۔ سمندر میں پائی جانے والی جیلی فش، جب انسانی کھال سے ٹکراتی ہے، تو تمام ڈنک اس میں چبھو کر اپنا زہر انڈیل دیتی ہے اور اگر بروقت علاج نہ ہو، اُس کا زہر دل پر اثر انداز ہوجائے، تو موت یقینی ہے۔ تالابوں، کھڑے پانی، دلدل میں پائی جانے والی جونک جلد پر چپک کر خون چوس لیتی ہے، تو مکھیوں میں شہد کی مکھی کے کاٹنے سے پیلا بخار ہوسکتا ہے۔ اگر خدا نہ خواستہ یہ مکھیاں پورے جسم پر چپک جائیں، تو کاٹ کاٹ کر اس قدر زہر جسم کے اندر داخل کردیتی ہیں کہ جان بھی جاسکتی ہے۔ اسی طرح سیاہ اور پیلے بھنورے کا زہر جلدی الرجی کا سبب بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، وائرس سے ہونے والی بیماریوں میں خسرہ، چکن پاکس اور ہرپیز کی دونوں اقسام شامل ہیں، جو جلد پر دانوں، چھالوں کی صورت ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض وائرس، جلد پرجگہ جگہ مسوں کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔
ذیا بطیس کے سبب لاحق ہونے والے جلدی امراض میں انگلیاں پک جانا سر فہرست ہے، خصوصاً ہاتھوں کی انگلیاں، ناخن کے پاس سے سُوج کر پک جاتی ہیں، جن میں پھر شدید تکلیف ہوتی ہے۔ جبکہ پائوں کی انگلیوں کی درمیانی جگہ سُرخی مائل ہوکر آس پاس کی جِلد ہلکی سی سفیدی مائل رنگت اختیار کرلیتی ہے، جس میں ذرا سا پانی لگنے سے جلن محسوس ہوتی ہے۔ مشاہدے میں ہے کہ زیادہ تر مریض یہ سوچ کر کہ پانی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ان کے ہاتھوں اور پیروں میں یہ تکلیف ہورہی ہے، نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بعد ازاں بغل، سینے کے نیچے، ران کے پاس اور فربہ افراد میں پیٹ کے نچلے حصے کی جلد اُدھڑنے لگتی ہے، جبکہ جسم پر بار بار خارش، دانے اور پھوڑے بننا، ادویہ استعمال کرنے کے باوجود زخم ٹھیک نہ ہونا اہم علامات ہیں۔ علاوہ ازیں، ماہرین ذیابطیس نے زبان خشک رہنا، مسوڑھوں میں درد، خون رِسنا، دانتوں کا جھڑنا، پائوں کی حس کم ہوجانا اور زخم بننا مرض کی خاص علامات قرار دی ہیں۔ جس طرح لبلبہ شوگر کنٹرول رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، بالکل اسی طرح جگربھی جسم کا نظام، منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے فعل میں کوئی بگاڑ واقع ہوجائے، تو خرابیٔ جگر رنگت کی پیلاہٹ اور آنکھوں کی زردی کی صورت ظاہر ہوتی ہے۔ نیز، خارش اور بار بار پتّی اُچھلنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات رنگت کی پیلاہٹ اتنی واضح نہیں ہوتی، مگر مسلسل پتی اُچھلنے اور ٹھیک نہ ہونے کی شکایت کئی سال تک پیچھا نہیں چھوڑتی۔ پھر ہمارا جسم بعض اہم ہارمونز کی بدولت کنٹرول میں رہتا ہے، جن میں تھائی رائیڈ ہارمونز، ایسٹروجن، پروجسٹرون، ٹیسٹرون، پرولیکٹن وغیرہ شامل ہیں۔ اگر ان میں سےکوئی ہارمون اپنا توازن کھو بیٹھے، تو اس کےمضر اثرات ظاہر ہوتے ہیں، جیسا کہ تھائی رائیڈ ہارمونز کی رطوبت میں کمی یا زیادتی کے نتیجے میں جِلد پر داغ دھبے ظاہر ہونے لگتے ہیں، خارش، پتّی اُچھلنے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح خواتین کے ہارمونز میں ردّوبدل وزن میں اضافے، چہرے پر بال،دانے نکلنے، بال جھڑنے، ایام کی کمی اور بانجھ پن کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح گُردے، جسم کے فاضل مادّوں کو ایک مربوط نظام کے تحت جسم سے خارج کرتے ہیں۔ اگر یہ درست کام کرنا چھوڑ دیں، تو زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔جن افرادکے گُردوں کی کارکردگی متاثر ہوجاتی ہے، اُن کے خون میں یوریا کی مقداربڑھنے سے جلد کی رنگت زردی مائل ہوجاتی ہےاور خشک خارش بھی ہوسکتی ہے۔ پھرچاہے، جس قدر اینٹی الرجیز استعمال کرلیں، مکمل طور پر افاقہ نہیں ہوتا۔ لیکن جب گُردوں کی خرابی کا علاج کروایا جائے، تو آرام آ جاتا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر روزمرّہ کی غذا متوازن ہو، کھانا درست طریقے سے چبا کر کھایا جائے اور معدہ، جگر، لبلبہ، آنتیں سب اپنے اپنے افعال ٹھیک طرح سے انجام دیں، تو چہرہ خود تندرستی کی گواہی دیتا ہے، لہٰذا روزمرّہ خوراک میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹ، چکنائی، نمکیات اور وٹامنز مقررہ مقدار میں استعمال کیے جائیں، تاکہ جلد پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ یاد رہے، گوشت، مچھلی، انڈے، دودھ اور اس سے تیارکردہ اشیاء پروٹین کا بہترین ماخذ ہیں، تو دالوں کی افادیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ جب کہ پھلوں اور سبزیوں میں شامل نمکیات اور وٹامنز جِلد کی چمک اور خُوب صُورتی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کوئی مرض لاحق ہونے کے سبب کھانا ہضم نہ ہو اوربار بار دست ہوں، تو نمکیات اور پانی کی کمی سے جِلد خشک، بال اور ناخن بدرنگ ہو کر ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ خون کی کمی ہوتی ہے اور نتیجتاً خاص طور پر خواتین میں تتلی کی مانند سیاہ داغ، دونوں رخسار وںسے لے کر ناک تک پھیل جاتا ہے۔ اسی طرح ایام کی خرابی سے بھی رنگت متاثر ہو سکتی ہے۔پیدائشی طور پر بعض بچّوں کی جِلد بے حد خشک ہوتی ہے۔ ان کے پورے جسم سے خشکی کے ساتھ چھلکے اُترتے ہیں۔ موسمِ سرما میں ان کی ٹانگوں، بازؤں اور پیٹ کی جِلد پر ویزلین لگائی جائے،تو کچھ ہی دیر بعد جلددوبارہ خشک ہو جاتی ہے، البتہ گرمیوں میں بہتری آجاتی ہے۔مشاہدے میں ہے کہ بعض بچّوں میں بلوغت کے بعد یہ شکایت کم ہو جاتی ہے۔اسی طرح بعض بچّوں کے چہرے یا جسم پر پیدایش کے وقت گلابی یا نیلے دھبّے ہوتے ہیں، جو رفتہ رفتہ کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض بچّوں میں تھوڑا بڑا ہونے پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔
بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرکے جلدی خرابیوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ اگر جسم کا کوئی حصّہ چوٹ لگنے سے خارش زدہ ہوجائے، تو فوری طور پر علاج کروائیں، تاکہ جراثیم کو پنپنے کا موقع نہ مل سکے۔ گھر اور اطراف کی صفائی پر خاص توجّہ دیں۔ گھر میں کوڑا کرکٹ بند ڈبّوں میں رکھیں، تاکہ مکھیاں نہ ہوں اور گلی کُوچوں میں جگہ جگہ گندگی نہ پھلائیں۔ پھر چوں کہ صفائی ستھرائی کے فقدان کے باعث مچھروں کی بھی بہتات ہے، تو گھروں میں جالی لگوائیں، شام کے وقت پوری آستین کے کپڑے پہنیں۔ بچّوں کو ہاف کی بجائے فل پاجاما پہنائیں، جہاں پانی کھڑا ہو، اُس پر تھوڑا سا مٹّی کا تیل چھڑک دیا جائے، تو مچھروں کے انڈے فوراً ہی مَرجاتے ہیں۔ ذیابطیس سے متاثرہ افراد ہاتھوں، پائوں پر باقاعدگی سے ویزلین وغیرہ لگائیں، تاکہ جِلد خشک ہو کر نہ پھٹے۔ اگر طبیعت میں گرمی محسوس ہو، تو معالج سے لازمی رابطہ کریں۔ نیز، کھانے پینے کے معاملے میں معالج کی ہدایت کو فوقیت دیں اور جن اشیاء کا پرہیز تجویز کیاجائے، اُن سے لازماً پرہیز کریں۔ ایک بات کا خاص خیال رکھیں کہ صرف ایک کھانے کو ضرورت سے زیادہ عادت نہ بنائیں۔آج کی نئی نسل کو گوشت، خصوصاً چکن سے تیارکردہ کھانے بے حد مرغوب ہیں، وہ کھانے میں سبزی دیکھ کر بھوکا رہنا پسند کرتے ہیں۔ دالوں کوتو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ ان پر توجّہ دی جائے۔ پھل بھی بہت شوق سے نہیں کھاتے۔ دودھ کی جگہ کولڈ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس وغیرہ پسندیدہ مشروب ہیں، لسّی کو دیہاتی ڈرنک سمجھ کر اس سے دُور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاں کہ قدرت نے دودھ کوبیلنس ڈائٹ بنایا ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ چند کلو کا نومولود بچّہ دو برس تک ماں، بکری، گائے، بھینس کا دودھ پی کر کس قدر خُوبصورت اور توانا ہوجاتا ہے۔ دودھ اور اس سے تیار کردہ اشیاء کو اپنی غذا کا لازمی حصّہ بنائیں کہ ان سے ہڈیوں کو طاقت ملتی ہے۔ پھر آج کل چلنا پھرنا بھی کم ہو گیا ہے، لوگ دھوپ بھی نہیں لیتے، جس کے نتیجے میں جسم سے کیلشیم اور وٹامن ڈی خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔ کم عُمر بچّے اور نوجوان ہڈیوں میں درد کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں، لہٰذا سب سے پہلے تو اپنا غذائی شیڈول درست کریں، پھر صُبح یا شام کے وقت کی دھوپ لازماً لیں، تاکہ قدرتی طور پر وٹامن ڈی کی کمی پوری ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  فیشل ماسک کی اہمیت