istanbol

دنیا کے قدیم ترین شہر استنبول کو جانتے ہیں

EjazNews

قسطنطنیہ، گیارہ سو سال تک سلطنت روما کا پایہ تخت رہا۔ یہ اپنے عروج کے زمانے میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا۔ اس کی تہذیب و ثقافت پوری دنیا پر چھائی ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخی اعتبار سے آج بھی استنبول کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ مسیحیوں کے مشرقی کلیسا کا مرکزی شہر بھی یہی تھا، جس کے سربراہ کو ’’بطریرک‘‘ کہا جاتا تھا۔ 29 مئی 1453ء کی صبح سلطنت عثمانیہ کے نوجوان خلیفہ، سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا، تو یہ شہر پوری طرح مسلمانوں کے قبضے میں آگیا، جس کے بعد اس کا نام ’’اسلامبول‘‘ رکھاگیا۔ توپ قاپی میوزیم میں خلافت عثمانیہ کی جو دستاویزات اور کاغذات محفوظ ہیں، ان پر بھی اس کا نام ’’اسلامبول‘‘ ہی درج ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے دورِ حکومت میں یہ شہر، خلافت عثمانیہ کا دارالحکومت بنا اور تقریباً پانچ سو سال تک مسلمانوں کا دارالحکومت رہا، یہاں تک کہ خلافت ختم ہوگئی۔ پھر 1923ء میں ترک جمہوریہ کے قیام کے بعد دار الحکومت استنبول سے انقرہ منتقل کر دیا گیا۔ عثمانی دور میں شہر کا نام قسطنطنیہ رہا، جبکہ سلطنت سے باہر اسے ’’استامبول‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، تاہم 1930ء میں جمہوریہ ترک کےتحت اس شہرکا نام’’ استنبول‘‘رکھاگیا۔

ترکی کا شہر، استنبول مشرق و مغرب کے سنگم پر واقع ایک وسیع و خوبصورت شہر ہے۔تاریخی اعتبار سے روم اور ایتھنز کے علاوہ دنیا کا کوئی دوسرا شہر اس جیسی تاریخ اپنے اندر نہیں سموئے ہوا۔ شہر کی موجودہ آبادی دو کروڑ 55 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کا ایک حصّہ براعظم ایشیاء، جبکہ دوسرا براعظم یورپ میں ہے۔ یعنی یہ شہر دو براعظم میں واقع ہے ایشیاء میں بھی اور یورپ میں بھی ۔

شہر کا ایک خوبصورت منظر

استنبول کا شمار دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پوری دنیا کے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے، جہاں دنیائے مسیحیت سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں کا قدیم کلیسا، روما تہذیب کے آثار اور مسلمانوں سے متعلق قدیم مقدس اشیاء اور تاریخی نوادرات بھی موجود ہیں۔ یہاں مسیحیوں، سیکولرز اور مسلمانوں سمیت ہر طبقہ فکر کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سیاح بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً مئی سے اگست تک تو سیاحوں کا بے پناہ رش ہوتا ہے۔ مختلف یونیورسٹیز سے تعلق رکھنے والے طلبہ، سیاحوں کے گائیڈ کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں۔ یوں ان کی کچھ آمدن ہوجاتی ہے اور سیاحوں کو بھی سستا مترجم اور گائیڈ مل جاتا ہے۔

جامع مسجد سلیمانیہ، مسجد سلطان احمد، آیا صوفیہ، توپ قاپی محل، کتب خانہ سلیمانیہ، ایمریکاں پارک، رومیلی حصار، باسفورس پل، ایشیائی پل، قاسم پاشا، جامع مسجد و مزار ابو ایوب انصاریؓ، دیوارِ قسطنطنیہ، اسماعیل آغا یا غلاطہ ٹاورجیسی جگہوں پر سیاحوں کا رش قدرے زیادہ ہوتا ہے۔ استنبول شہر میں آنے جانے کے کئی ذرائع ہیں۔ میٹرو بس، ٹرین، ٹرام اور ٹیکسی۔ شہر خاصا گنجان ہونے کی وجہ سے ذاتی گاڑیاں استعمال کرنے کا رجحان بہت کم ہے۔ استنبول اگرچہ اونچے نیچے راستوں، کھائیوں اور بلندی پر مشتمل ایک پہاڑی علاقہ ہے، تاہم یہاں کئی کئی منزلہ عمارتیں اور فلیٹس بھی ہیں۔اس کا محل وقوع کچھ عجیب و غریب سا ہے۔ قدیم استنبول، پہاڑی علاقے اور چھوٹی چھوٹی گلیوں پر مشتمل ہے اور دنیا کے دیگر قدیم گنجان آباد شہروں کی طرح یہ بھی پارکنگ کے مسائل سے دوچار ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ ذاتی گاڑیاں بہت ہی کم استعمال کرتے ہیں۔ پارکنگ کی جگہ دستیاب نہ ہونے کے باعث زیادہ تر لوگ سستی سرکاری سروسز یعنی میٹروبس، ٹرین اور ٹرام ہی میں سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر ایک منٹ بعد میٹرو بس، ٹرین یا ٹرام آجاتی ہے، جو پورے شہر لے کے جاتی ہیں۔دیوارقسطنطنیہ سنتے ہی ذہن میں سلطنت عثمانیہ کی تاریخ گردش کرنے لگتی ہے۔ نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فتح کرنے والے کے لیے مغفرت کی بشارت دی تھی۔ یہ سعادت مسلمانوں کے خلیفہ، سلطان محمد فاتح کو حاصل ہوئی اور آج صدیاں بیتنے کے باوجود یہ دیوار جوں کی توں کھڑی ہے۔ قسطنطنیہ کی یہ تاریخی دیوار اور فصیل دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سویڈن کی ترقی کا راز

دوسری اہم جگہ غلاطہ ٹاورہے، جو507 عیسوی میں تعمیر کیا گیا۔ اسے رومی حکومت نے بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے لائٹ ہائوس کے طور پر تعمیر کیا تھا، جو اپنے زمانے کا سب سے بلند ٹاور کہلاتا تھا۔ گولڈن ہارن کے شمالی ساحل پر واقع اس قدیم اور طویل ٹاور سے متعلق مؤرخین کا خیال ہے کہ پَروں کے ذریعے فضاء میں اڑنے کا دوسرا کامیاب تجربہ بھی یہیں ہوا تھا۔ مورخین کے مطابق، عثمانی خلیفہ، سلطان مراد چہارم کے دورمیں ایک مسلمان مہم جو ’’خدافین احمد‘‘ نے سترہویں صدی عیسوی میں اسی برج سے پَروں کے ذریعے باسفورس پر پرواز کی تھی۔ وہ تقریباً 8میل کا فاصلہ طے کرتا ہوا باسفورس کے ایشیائی ساحل ’’اسکودار‘‘ سے ہوتا ہوا ’’اسکوتاری‘‘ تک گیا تھا۔ قبل ازیں، پَر لگا کر ہوا میں اڑنے کا پہلا تجربہ اسماعیل بن حماد نامی شخص نے کیا تھا، جو ناکام رہا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی کئی تجربات ہوتے رہے۔ تاہم، غلاطہ ٹاور سے مسلمان مہم جو خدا فین احمد کا تجربہ کامیاب رہا۔ اس کے بنائے ہوئے وہ پردہ نما پَر آج بھی اسی غلاطہ ٹاور کی آٹھویں منزل پر موجود ہیں۔ دس منزلہ غلاطہ ٹاور پر نصب لفٹ 7 ویں منزل تک جاتی ہے۔ دسویں منزل پر پہنچنے کے لیے سیڑھیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا قدیم اور بلند ٹاور ہے۔غلاطہ ٹاور پر ایک تختی بھی آویزاں ہے جہاں پر اس کی مکمل تاریخ درج ہے۔

استنبول کا موسم عموماً سارا سال ہی سہانا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر ہمہ وقت دنیا بھر کے سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا نظر آتا ہے۔

استنبول کا کنٹرول ٹاور

استنبول کے شہرئہ میں آفاق عجائب گھر ’’توپ قاپی‘‘ بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔یہاں پر کسی بھی قسم کا سامان اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چیکنگ کے لیے طویل قطار میں رکنا پڑتا ہے۔یہ عجائب گھر ’’توپ قاپی سرائے 1465ء سے 1853ء تک دارالخلافہ، قسطنطنیہ میں عثمانی سلاطین کی باضابطہ رہائش گاہ تھی۔ یہ محل ریاستی معاملات کا مرکز تھا اور آج کل ایک عجائب گھر کی حیثیت سے استنبول کے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ محل کی تعمیر کا آغاز 1459ء میں سلطان محمد فاتح کے حکم پر ہوا۔ یہ محل 4 مرکزی احاطوں اور کئی چھوٹی عمارات کا مجموعہ ہے۔ اپنے عروج کے زمانے میں یہاں 4 ہزار سے زائد افراد رہائش پزیر تھے۔‘‘ اس میں داخل ہونے والا شخص حیرت میں غوطہ زن ہوتے جاتے تھے۔ یہ ’’عجائب گھر‘‘ ہر اعتبار سے وسیع تر ہے، اس کے تمام حصّوں کو تفصیل کے ساتھ دو چار گھنٹوں میں دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں پربے حد قیمتی نوادرات محفوظ کرکے رکھے گئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ اہم کا تعلق اسلام کے ابتدائی دور سے ہے، بلکہ چند ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ہزاروں سال پہلے کے بھی ہیں، جن میں حضرت یوسف علیہ السلام کا عمامہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا بھی شامل ہے۔ اسی عمارت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا عمامہ، تلوار، دانت اور داڑھی مبارک کا بال بھی موجود ہے۔ ان کے علاوہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاجبہ، تیرکمان ،مہر اور پاؤں کا نشان بھی یہیں موجود ہے۔ میوزیم کا ایک حصّہ تلواروں کے لیے مخصوص ہے۔ ان میں خلفائے راشدینؓ کی تلواریں ترتیب سے رکھی گئی ہیں۔ دورخلافت میں اس خاص کمرے کے تقدّس کا عالم یہ تھا کہ سلطان اور اس کے اہل خانہ کو بھی سال میں صرف ایک بار 15 رمضان کو اس کمرے میں جانے کی اجازت تھی۔یہاں تصویریں کھینچنے کی اجازت نہیں اور کسی تحقیقی کام کے لیے اگر تصاویرحاصل کرنا ضروری ہوں، تو ان کے لیے باقاعدہ اجازت لینی پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہنگری کا سب سے بڑا اور خوبصورت شہر بوڈا پسٹ

اس کے علاوہ عثمانی دور کی تمام یادگاریں، بشمول عثمانی سلاطین کی تصاویر، ان کے ہتھیار، استعمال شدہ اشیاء، خزانے، زیورات، تاج و تخت اور اسی طرح کی دیگر نادر و نایاب اشیاء بھی یہاں موجود ہیں۔سلطنتِ عثمانیہ اپنے عروج کے دَور میں ایشیا، یورپ اور افریقا کے وسیع ترعلاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ ترکی سلطانوں نے دنیا کے کونے کونے سے نوادرات اکٹھی کرکے انہیں اپنے محلّات کی زینت بنایا اور آج وہی نوادرات اس عجائب گھر میں موجود ہیں۔ یہاں موجود سلاطینِ عثمانیہ سے منسوب بیش قیمت نوادرات، ان کے زرق برق لباس، نفیس برتن، فولاد، زرہیں، سونے چاندی کے سکّے، جواہرات، مرصّع ظروف، سونے کے بنے بڑے بڑے شمع دان وغیرہ دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوئی جاتی ہیں۔ توپ قاپی میوزیم سے متعلق حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ نے اپنے سفرنامے ’’دو ہفتے ترکی میں‘‘ لکھا ہے ’’اگر خدانہ خواستہ ترکی کسی زمانے میں دیوالیہ ہوجائے، تو اس کے عجائب گھر ’’توپ قاپی‘‘ کے سونے اور دیگر نوادرات سے بھی کچھ مدت کے لیے ملک کا خرچ چلایا جاسکتا ہے۔‘‘ استنبول کا ’’توپ قاپی‘‘ دیکھنے کے لیے ایک خلقت موجود ہوتی ہے۔ تل دھرنے کو جگہ بمشکل ملتی ہے۔

صوفیا کے سامنے ایک بڑا اور خوب صورت باغ ہے، جس میں بے حد حسین و دل کش پھول بوٹے لگے ہیں۔ صوفیا، دراصل، ایک کلیسا اور گِرجا کا نام ہے، جو قسطنطنیہ فتح ہونے سے پہلے تک دنیائے عیسائیت کا دوسرا بڑا مذہبی مرکز شمار ہوتا تھا۔اس کی بنیاد تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ ’’قسطنطین‘‘ نے رکھی تھی۔ ’’قسطنطین‘‘ روم کا پہلا عیسائی بادشاہ تھا۔ اسی بادشاہ کے نام پر اس شہر کا نام ’’قسطنطنیہ‘‘ پڑا تھا۔ ایک ہزار سال تک یہ عمارت کلیسا کے طور پرمسیحیوں کے روحانی مرکز کے طور پر استعمال ہوتی رہی، پھرجب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو ’’آیاصوفیا‘‘ نامی اس قدیم کلیسا کو مسجد میں تبدیل کردیا۔ اس کی دیواروں سے تصاویرمٹادی گئیں اور اس کا محراب قبلہ رُخ کردیا گیا۔بعدازاں، یہ ’’جامع مسجد آیاصوفیا‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئی۔اس کے بعد سقوط خلافت عثمانیہ کے بعد 1930ء میں جمہوریہ ترکی کے صدر، مصطفی کمال پاشا نے اسے میوزیم میں تبدیل کردیا۔ اس دور میں یہاں نماز پڑھنے پر پابندی تھی، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاناما سٹی :سی فوڈ کا دارالحکومت

استنبول کی سب سے بڑی جامع مسجد ’’سلیمانیہ‘‘ہے۔ یہ مسجد عثمانی خلیفہ ’’سلیمان اعظم‘‘ نے تعمیر کروائی تھی۔ عثمانی خلفاء کا یہ خاص طریقہ تھا کہ وہ بہت شان دار مساجد و مدارس تعمیر کرواتے تھے۔ جامع مسجد سلیمانیہ کے باہر ایک احاطے میں قائم ایک چھوٹے سے قبرستان میں ایک قبر سلیمان اعظم کی بھی ہے۔ جامع مسجد سلیمانیہ کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک کتب خانہ بھی موجود ہےجس کا شماراستنبول کے بڑے کتب خانوں میں ہوتا ہے۔یہاں جامع مسجد ابوایوب انصاریؓبھی ہے۔ اسی مسجد کے احاطے میں میزبانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوایوب انصاریؓ کا مزار بھی واقع ہے۔حضرت ابوایوب انصاریؓ مدینہ منورہ کے قبیلے ’’بنوخزرج‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ ابتدا ہی میں مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ جب حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّے سے مدینے کی طرف ہجرت فرمائی، تو مدینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف حضرت ابوایوب انصاریؓ ہی کو حاصل ہوا۔ حضرت ابوایوب انصاریؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مختلف غزوات میں بھی شامل رہے۔ آپؓکو جہاد کا ازحدشوق تھا۔ حضرت امیر معاویہؓ نے جب قسطنطنیہ پر حملے کے لیے لشکر بھیجا، تو اس لشکر میں حضرت ابوایوب انصاریؓ بھی شامل تھے۔ یہ مسلمانوں کی طرف سے قسطنطنیہ کا پہلا باقاعدہ محاصرہ تھا،جو کئی روز تک جاری رہا۔حضرت ابوایوب انصاریؓ اسی محاصرے کے دوران بیمار ہوئے، اور پھر رحلت فرماگئے۔ مسلمانوں نے ان کی وصیت کے مطابق انہیں یہیں دفن کردیا۔ مؤرخین کے مطابق آپؓ کو قسطنطنیہ کی دیوار کے نیچے دفن کیا گیاتھا۔ بعدازاں، 29 مئی 1453ء بمطابق 20 جمادی الاولیٰ 857 ہجری، سلطنتِ عثمانیہ کے خلیفہ، سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد آپؓ کی قبر مبارک تلاش کرواکے یہاں ’’جامع ابوایوب انصاریؓ‘‘ کے نام سے ایک بڑی مسجد تعمیر کروائی اور ساتھ ہی حضرت ابوایوب انصاریؓ کی قبر کے لیے جگہ مختص کرکے، ان کے جسدمبارک کو یہاں منتقل کردیا، جس کے بعد سے یہ پورا علاقہ ’’حضرت ابوایوب انصاریؓ‘‘ کے نام سے مشہورہوگیا۔ جامع مسجد ابو ایوب انصاریؓ سے متصل ایک قدیم قبرستان میں دورسلاطینِ عثمانیہ کے کئی اولیاء اللہ، بزرگ، صلحاء اور شہزادے بھی مدفون ہیں۔ اوریہاں ہر وقت فاتحہ خوانی کرنے والوں کا ایک ہجوم لگا رہتا ہے۔