modi+trump

انڈیا اور امریکہ سول اسلحہ کی دوڑ میں ساری دنیا سے آگے نکل گئے

EjazNews

دنیا کو پیار ، محبت اور امن کا راگ الاپنے والے امریکہ اور بھارت اسلحہ کے سب سے بڑے سوداگر ہیں۔ فوجی اسلحہ اورایٹمی ہتھیار تو ایک طرف دنیا میں آدھے سے زیادہ سول اسلحہ امریکی شہریوں کے پاس ہے۔ سوئزر لینڈ کے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میںشہریوں کے پاس 65کروڑ بندوقوں ، رائفلوں اور خود کار اور نیم خود کار ہتھیاروں کا 48فیصد حصہ امریکیوں کے پاس ہے۔شہری آزادیوں اور شخصی خوشی کے نام سے امریکی عوام سال بھر میں 18ہزار امریکیوں کو انہی گولیوں سے بھون ڈالتے ہیں۔پیڈک نے ایک کلب میں فائرنگ کر کے درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتادیا تھا۔ امریکہ میں ایک نہیں درجنوں پیڈک پائے جاتے ہیں۔ امریکی آئین میں محض 27لفظوں پر مشتمل دوسری ترمیم ہوئی اور اس ترمیم نے امریکیوں کو اسلحہ خریدنے کا حقدار ٹھہرایا۔ اس وقت امریکیوں کے پاس 31کروڑ کے لگ بھگ جدید ترین ہتھیار ہوں گے جسے ہم عام لفظوں میں آتشی اسلحہ کہتے ہیں۔
بھارت سول اسلحہ کا دوسرا بڑا مرکز ہے، بھارتی شہریوں کے پاس لگ بھگ 4کروڑ 60لاکھ آتشی ہتھیار ہیں چنانچہ دنیا کے سول ہتھیاروں کے دو بڑے مرکز امریکہ اور بھارت ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو امریکیوں کے پاس فی کس ہتھیاربھی دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ ہر دس میں سے چار افراد کے پاس گھر اور دفتر میں خوفناک ہتھیار موجود ہیں۔ 48فیصد امریکیوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ان کے پاس بندوقیں تھیں ۔ یعنی 48فیصد امریکی بندوقوں کے سائے میں پل کر جوان ہوئے۔ امریکہ میں 89فیصد امریکیوں کے پاس ہتھیار موجود ہیں یہ دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ یمن میں 55فیصد، سوئزرلینڈ میں 66فیصد، فن لینڈ میں 45فیصد، سربیا میں 38فیصد، قبرص میں 36فیصد، سعودی عرب میں 35فیصد میں ، عراق میں 34فیصد اور سویڈن اور یورا گوئے میں 32فیصد شہریوں کے پاس اسلحہ موجود ہے۔ یہ ممالک اسلحہ کے حوالے سے ٹاپ ٹین میں شمار ہوتے ہیں ۔ 66فیصد امریکیوں کے پاس ایک سے زیادہ اسلحہ ہے جبکہ یمن میں فی کس بندوقوں کے حوالے سے ٹاپ پر ہیں۔ یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہیں اور یہاں سارا اسلحہ مغربی ممالک نے تھوڑے ہی عرصہ میں پھینکاجبکہ سب سے کم اسلحہ رکھنے والوں میں تیونس ٹاپ پر ہے۔ پھر ایسٹ تیمور، جزائر سلیمان، ، گھانا ، ایتھوپیا، سنگا پور، انڈونیشا، ایرٹیریا، فجی اور بنگلہ دیش کا نمبر آتا ہے۔ ان ممالک میں برائے نام ہتھیار ہیں۔
سب سے زیادہ ماس شوٹر قتل عام کرنے والے کسی بھی ملک کے مقابلے میں امریکہ میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ پیڈوک کا واقعہ تو پرانا ہوگیا۔ 19سالہ نکولس کروز نے اندھا دھند فائرنگ کر کے فلوریڈا میں 19افراد کو موت کی نیند سلادیا۔ 19سالہ طالب علم نکولس کروز نے پاک لینڈ میں واقعہ اپنے سابق سکول کے حال میں موجود لوگوں پر فائرنگ کی۔ پیڈوک نے 55افراد کو ہلاک اور 5سو کو زخمی کیا تھا۔ ایسے بہت سے واقعات امریکہ کے سکولوں میں پیش آتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں بندوقوں کے ذریعے قتل عام کا استعمال امیر ممالک کے مقابلے میں 25.2گنا زیادہ ہے۔یہ جنوبی کوریا، فرانس، نیدر لینڈ، ہنگری ، آسٹریلیا ،ناروے اور ڈنمارک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ فروری 2017ءمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاگلوں کو بھی ہتھیار رکھنے کی اجازت دے دی۔ سابق صدر اوبامہ نے شدید ذہنی امراض کے افراد کو بھی اسلحہ کی خریداری سے روک دیا تھا وہ رفتہ رفتہ گن کنٹرول پر قابو کر رہے تھے مگر امریکی حکومت نے شدید ذہنی امراض کے افراد کو بھی گن رکھنے کی اجازت دے دی جس سے وہاں ایسے واقعات میں اضافہ ہوگیا۔ یوں امریکہ میں موجود کسی بھی شہری کے مارے جانے کے اندیشے 51فیصد زیادہ ہیں جبکہ آسٹریلیا میں 1987سے 1996ءتک ماس شوٹنگ کے محض 4واقعات پیش آئے ۔سروے کے مطابق بندوقوں سے قتل ہنڈراس میں ایک لاکھ میں سے 67افراد بندوق سے مارے جاتے ہیں۔ وینزویلیا اورایل سلواڈور بھی شامل ہیں ان میں بالترتیب 52اور 49افراد کے مارے جانے کا ااندیشہ ہے۔ امریکہ اس لیے ان میں سب سے زیادہ منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ وہ ترقی یافتہ ہے پڑھا لکھا ہے اور پر امن ہے اور وہاں ہونے والا قتل عام زیادہ شدت سے دنیا بھر میں محسوس کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ نے کسی امریکی شہری کی رہائی کیلئے کوئی رقم نہیں دی:ڈونلڈ ٹرمپ