molan fazlo rehman

کیا مولانا فضل الرحمن ،نوابزادہ نصر اللہ خان بن پائیں گے؟

EjazNews

نوابزادہ نصر اللہ خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کے وہ کردار ہیں جن کا نام سامنے آتے ہی برسر اقتدار حکومت اپنے دن گننا شروع کر دیتی تھی۔ انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں زیادہ تر اپوزیشن کی اور یہ نہیں کہ وہ کسی ایک پارٹی کیخلاف ہوتے تھے جہاں پر ان کو لگتا تھا کہ ان کے نزدیک فلاں پارٹی غلط چل رہی ہے وہ تحریک شروع کر دیتے تھے ان کی اپنی پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ ملکی سیاست کے افق پر چمکتے وہ ستارے تھے جن کی روشنی میں باقی ساری اپوزیشن ماند پڑ جاتی تھی اور سب ان کے پیچھے چلنے پر مجبور ہوتے تھے۔ لاہور کے حاجی کیمپ کے سامنے ایک بوسیدہ سی عمارت میں ان کا آفس ہوا کر تا تھا۔معمولی ضروریات ، سادہ طبیعت، سر پر ترکی ٹوپی، منہ میں پان ، ہاتھ میں چھڑی ان کی خاصیت تھی۔ نہ کوئی پروٹوکول اور نہ کسی سے کوئی ڈر خطرہ ۔نوابزادہ نصر اللہ خان کے بعد ہمارے موجودہ حکمران عمران خان نے اپوزیشن کا وہ کردار ادا کرنا شروع کیا لیکن مولانا نصر اللہ بننے میں کامیاب نہ بن سکے۔
اب مولانا فضل الرحمن نے ساری اپوزیشن کو اکٹھا کیا ہے ۔اسلام آباد کے ہوٹل میں ہونے والی اس آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت پر دبائو بڑھانے اور سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اے پی سی میں حکومت مخالف موقف اختیار کرنے پر زور دیا گیا ۔اے پی سی میں اس بات کا بھی ذکر ہوا ہےکہ موجودہ بجٹ عوام، کسا ن اور کاروبار دشمن ہے اس کے پاس ہونے سے عوام معاشی بدحالی میں میں چلیں جائیں گے۔ جبکہ اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ اس حکومت کو مزید ٹائم نہیں دینا چاہیے۔
اب حکومت ایک دن میں تو گرتی نہیں اور نہ گرائی جاسکتی ہے۔ آنے والے د ن بتائیں گے کہ اپوزیشن کتنی اور کس قدر موثر ہے اور یہ عوام کو سڑکوں پر لانے میں کس قدر کامیاب ہوتی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے بی این پی مینگل کو اے پی سی میں نہ جانے پر راضی کر لیا ہے ۔
یاد رہے جماعت اسلامی، ایم کیو ایم پاکستان، بی این پی مینگل اس اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان نے آن لائن ویزا سروس کا افتتاح کر دیا ہے