say not to coraption

لگتا ہے حکومت کرپشن کیخلاف پلاننگ سے چل رہی ہے

EjazNews

ملک بھر کے بینکوں میں آپ نے گزشتہ ماہ لوگو ں کے رش کو دیکھا ہو گا جس کے تحت عوام کے لیے اب یہ لازمی امر قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بینک اکائونٹس پر اپنی انگلیوں کے نشانات بھی دیں۔ اس سے ایک تو بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جس فالودہ والے ،ریڑھ والےسمیت جن کے اکائونٹس میں پیسے پڑیں اور ان کو معلوم ہی نہیں وہ بے نامی پیسے اب نکلوانا اور ایسے اکائونٹس میں پیسے ڈالنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ اور فرضی ناموں سے بینک اکائونٹس کو کھلوانا بھی مشکل ہوتا جائے گا۔ کرپشن ، رشوت ستانی یا کسی بھی ناجائز ذرائع سے کمائی گئی دولت بینکوں میں رکھنا تو کم از کم مشکل ہو جائے گی یا پھر بینکوں کے ذریعے بے نامی ٹرانزیکشن ایک مشکل مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ بحریف اس پر اگر اگر بینکنگ سیکٹر سے من و عن عمل کروایا جائے تو بہت سی چوریاں رک سکتی ہیں ۔
دوسری ایک اور بڑی اقدام حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے جس کے تحت 40ہزار والے پرائز بانڈز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ رجسٹرڈ پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی 24جون سے بند کر دی گئی ہے اور جن لوگوں کے پاس بانڈز پڑے ہیں وہ 31مارچ 2020ء تک اسے تبدیل کروا سکتے ہیں۔ظاہر ہے جو پائز بانڈ بند ہی کر دئیے گئے ہیں ان پر قرعہ اندازی بھی نہیں ہوگی۔ ایک غیر سرکاری اور محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں تقریباً ایک ہزار ارب روپے مالیت کے 40ہزار والے پرائزبانڈمارکیٹ میں موجود ہیں۔
اب ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کیلئے حکومت گھیرا تنگ کرتی جارہی ہے اور جو صورتحال بن رہی ہے اس میں جو لوگ اپنے چھپائے ہوئے اثاثے ظاہر نہیں کریں گے ان کیلئے کافی مشکلات آنے والی ہیں۔ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے ۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کی لاہور میں مصروفیات کی کچھ جھلکیاں
imran khan pti
وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کی جاری کر دہ تصویر

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت کرپشن پر کوئی رعایت نہیں دے گی اور کسی صورت میں کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ اس اجلاس کے بعد منظر عام پر آنے والے باتوں میں یہ خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک نے مجھے نواز شریف کو این آر او دلانے کیلئے رابطہ نہیں مجھے خدشہ تھا کہ ترک صدر مجھ سے اس سلسلے میں بات کریں گے لیکن انہوں نے بھی کوئی بات نہیں کی کیونکہ سب جانتے میں میں کرپشن کے سخت خلاف ہوں ۔اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں جب اس ایمنسٹی سکیم کی تاریخ ختم ہو جائے گی تب ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے اثاثے کو ڈکلیئر نہیں کیا ان پر کس شدت سے کارروائی ہوگی ۔