socide

خودکشی کے رجحانات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

EjazNews

عالمی ادارہ صحت نے بھی ڈپریشن کو خودکشی کا ایک اہم سبب قرار دیا ہے۔ 15سے 29سال کے ناپختہ مگر انتہائی پر عزم لوگ مرنے والوں میں پیش پیش ہیں۔ دنیا بھر میں ایک سال میں کم و بیش 8لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔ پاکستان 22کروڑ افراد کا ملک ہے اور یہاں ڈپریشن کا مرض دوسرے ممالک کی بانسبت بہت زیادہ ہے ۔دنیا بھر میں مجموعی طور پر 30کروڑ افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔اور یہ تعداد 2005ءکے مقابلے میں 18فیصد زیادہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈپریشن کے علاج پر ایک ٹریلین ڈالر سالانہ خرچ ہو رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا کہ دنیا میں 32کروڑ 20لاکھ افراد ڈپریشن میں مبتلا ہیں اور یہ کل آباد ی کا ساڑھے چار فیصد ہیں مردوں میں ڈپریشن کا تناسب 5.1فیصد اور خواتین میں 3.6فیصد ہے۔ یعنی مردوں میں ڈپریشن خواتین کی بانسبت 40فیصد زیادہ ہے۔ یہ پتہ نہیں چل سکا کہ مرد عورتوں کو سکون میں رکھتے ہیں اور ان کی خاطر غم سہتے ہیں یا سکھ چین میں رہنے والی خواتین مردوں کو ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اس بارے میں فریقین کے اپنے اپنے درد بھرے دلائل ہیں۔
پاکستان میں ڈپریشن کا تناسب 34فیصد تک بتایا جاتا ہے۔ یعنی ہر تیسرا آدمی ڈپریشن کا شکار ہے، آپ آس پاس سے گزرنے والے لوگوں کی شکلوں کو غور سے دیکھئے کسی کے چہرے پر 12بجے ہوں گے تو کسی کے چہرے پر وحشت ٹپک رہی ہو گی۔ کوئی اس فکرات میں گھرا ہو گا تو کوئی غم کی چادر اوڑھے نظر آئے گا۔ ہر کسی کو اپنا روگ لگا ہے اور انہی غموں نے پاکستان کی 34فیصد آبادی کو ڈپریشن کا شکار کیا مگر ایک اور رپورٹ میں یہ تناسب 44فیصد تک بتایا گیا اور اس رپورٹ میں پاکستان کے آدمیوں سے زیادہ خواتین کو ڈپریشن کا شکار بنادیا۔ ا س کے خیال میں 5کروڑ پاکستانی عمومی ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ اور ان میں 57.5خواتین اور 25فیصد مرد شامل ہیں، اب کہانی الٹ گئی۔ یہاں تو مردوں نے خواتین کو دکھ دئیے اور انہیں ڈپریشن کی دلدل میں دھکیل دیا۔ جہاں انہیں غم کھانے کے سوا کچھ نہیں ملتا مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک رپورٹ کے مطابق ایک تہائی اور دوسری رپورٹ کے مطابق 44فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے۔ وہاں سائیکاٹریس کی تعداد محض 750سو ہے۔ یعنی آٹے میں نمک کے برابر یا نمک سے بھی بہت کم۔ جہاں تک بچوں کی نفسیات کا تعلق ہے تو 40لاکھ بچوں کے علاج کے لیے ایک سائیکاٹریس موجود ہے اور پاکستان میں پوری آبادی کے لیے 4ہسپتال نفسیات کے علاج کی سہولت مہیا کر رہے ہیں۔
لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں اس کی وجہ ہمارا سماج ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے لاکھوں ، کروڑوں نوجوانوں کو بھوک اور مفلسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں ڈگریاں بے معنی کاغذ کی مانند ہیں۔ جہاں سال بھر میں لاکھوں بے روزگار ، کروڑوں درخواستوں کے ساتھ اربوں روپیہ این ٹی ایس اور دوسرے سرکاری اورغیر سرکاری اداروں کو ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہوگا جہاں بھرتی کے امتحانات کے نام پر سال بھر میں درجنوں مرتبہ بے روزگاروں سے اربوں روپے ٹھگ لیے جاتے ہیں اور پھر میرٹ پر ہونے کے باوجود لاکھوں روپیہ رشوت طلب کی جاتی ہے۔ انصاف کی غیر منصفانہ تقسیم نے معاشرے کو ناانصافی کی لعنت سے دو چار کیا۔ یہ خودکشی کا ایک سب سے بڑا سبب ہے۔ جس کا علاج میرٹ اور میرٹ کی آوازیں بلند کرنے والے سیاستدانوں نے کبھی نہیں کیا کیونکہ انہیں معاشرے کی جڑوں میں پیوست نا انصافی کبھی دکھائی نہیں دی۔ دکھائی دیتی تو علاج کرتے۔ انہیں تو ان لمبی لمبی فہرستوں کا علم ہے جو این ٹی ایس اور دوسرے ہر امتحان میں کامیاب ہونے والوں پر سبقت لے جاتی ہے۔ کیونکہ تقرریاں اوپر سے آنے والی فہرستوں کے مطابق ہوتی ہیں۔
صحت عامہ کی سہولتوں کا فقدان انسان کو خودکشی پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسے بہت سے افراد کی خودکشی کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں جنہوں نے سرمائے کی کمی اور اپنی بیماری سے تنگ آکر ہمت ہار دی اور خدا کی دی ہوئی نعمت کو اللہ تعالیٰ کو واپس کر دیا۔ جہاں خودکشی پر اس کا احتساب ہوگا وہی خودکشی کا باعث بننے والے عوامل پر ان لوگوں کی بھی پکڑ ہوگی جنہوں نے اسے خودکشی پر مجبور کیا۔
تعلیمی سہولتوں کا فقدان بھی موت کا سبب بنتا ہے، آج بھی بہت سے لوگوں کے ذہنوں سے وہ واقعہ ہٹتا نہیں جب ایک ماں نے اپنے بچوں کو تعلیمی سہولتیں نہ دینے پر ٹرین کے نیچے پھینک کر چند سال قبل خود کو بھی موت کے حوالے کیا۔ بھوک اور ننگ کا شکار ماﺅں کی اپنے بچوں کے ساتھ خودکشیاں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں یہ اب ہمارے معاشرے کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
بھوک ننگ اور ان سے جنم لینے و الی پریشانیاں بھی خودکشی کا ایک لازمی سبب ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ بے شمار لوگ اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات بھی پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ روزانہ ایک ٹافی کی قیمت سال بھر میں 365روپے بنتی ہے جبکہ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے اپنے بچوں کو روزانہ ایک ٹافی بھی خریدنے کر دینے کے قابل نہیں ،دولت کی اس بھیانک تقسیم نے معاشرے کو سماجی المیے سے دو چار کیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے پاس خود انصاف مانگنے سے فرست نہیں ہمارے کئی سیاست دان انصاف انصاف پکار رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کیا نا انصافی ہوئی یہ تو کروڑوں لوگ نہیں جانتے۔ لیکن کروڑوں لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ خود دو وقت کی روٹی کے لیے زمانے میں کتنی مارے کھاتے ہیں۔ کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں جب وہ اپنے پیاسے بچوں کے لیے واسا کا دل دے پاتے ہیں۔ کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں جب وہ اپنی اہلیہ کے لیے دو روٹیوں کے پیسے کما پاتے ہیں۔ وہ کتنی جان ہارتے ہیں جب وہ اپنے بیمار بچوں کے لیے چند روپے کی ایک دوا کی شیشی خریدنے کی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔ یہ ہمارے حکمران نہیں جانتے انہیں تو اپنی ناک کے نیچے مہنگی فائلوں میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر آتا ہے۔
خودکشی کا ایک اہم سبب خاندان کی ڈپریشن کی تاریخ ہے۔ ہمارے ملک میں ڈپریشن نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ کئی نسلوں کے بعد یہ انسان پر اس قدر ہاوی ہو جاتا ہے کہ وہ موت کو زندگی پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ہماری کسی حکومت کے پاس کچھ نہیں۔ غذائی کمی ڈپریشن کا ایک اور سبب ہے۔ گھر کے اندر روزروز روٹی کی پکار انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔ مرد اور عورت کے ذہن پر بچو ں کی بھوک اور بلبلاہٹ گولی کی طرح لگتی ہے۔ ذہن ماﺅف ہونے لگتا ہے اور عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ وہ شاعر مشرق جنہوں نے قیام پاکستان کا خواب دیکھا یقینا میرا اشارہ علامہ اقبال کی جانب ہے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ
مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے

یہ بھی پڑھیں:  مذہبی واردات کے انکشافات کا فلسفیانہ معیار