safon tarrism

کیا اب بھی کسی گواہی کی ضرورت ہے

EjazNews

گزشتہ روز سے جس رپورٹ کو بھارت جھٹلا رہا ہے تو وہ امریکی محکمہ خارجہ نے جاری کر دی ہے۔ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ اگر یہ باتیں ہم کہیں تو ہمیں ہمسایہ اور دشمن سمجھ کر نہیں مانی جاتیں حتیٰ کہ انڈیا کہ وہ مسلمان لیڈر جن کی پاکستان میں بھی عزت کی جاتی ہے وہ کہتے ہیں تمہیں مسلمانوں کی کیوں فکر ہے۔ تو اسد الدین اویسی صاحب پاکستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کی بہنیں، بیٹیاں، بھائی قریبی اور دور کے رشتہ دار انڈیا میںبستے ہیں اور جب بھی وہاں سے ہندو توا مسلمانوں پر تشدد کرتی ہے تو تکلیف ہمیں یہاں پر اس لیے بھی ہوتی ہے کہ ان میں سے کوئی ہمارا اپنا ہی ہوگا۔ آپ نریندرا مودی کے حمایتی ہو سکتے ہیں لیکن ان کروڑوں مسلمانوں کے حمایتی نہیں ہیں جو خوف کی فضا میں زندگی گزارتے ہیں ، آپ تو بڑ ے شہر میں رہتے ہیں گردونواح مسلمانو ں کے بہت سے گھر بھی ہیں لیکن جہاں پر یتیم بچیاں ہیں جن کا ایک ہی گھر ہے سوچئے ہندﺅ پر تشدد ماحول میں گھری ہوئی ان بچیوں کے بارے میں ہمیں کیوں نہ سوچ آئے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی ہے۔ کیونکہ انتہا پسند ہندواقتدار کی ان اونچی کرسیوں پر براجمان ہیں جہاں سے سارا سسٹم کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اگر آپ یوگی آدیتا ناتھ کو اور نریندرا مودی کو انتہا پسند نہیں مانتے تو پھر آپ کی مرضی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں ریاستی سرپرستی میں بھارت میں ہندو شدت پسند ”سیفرون ٹیررازم “بے نقاب کی گئی ہے۔ رپورٹ کے چیدہ نکات کے مطابق انتہا پسند ہندو گروہ تشدد، جبر اور زبردستی سے ”گیروی انڈیا“ بنا رہے ہیں، گیروی ذہنیت کے حامل گروہ دلت ہندو اور اقلیتوں کو ہراساں کر رہے ہیں، بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات میں اس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اضافہ ہوا، حکومت ہر سطح پر ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے مسلمانوں کے ادارے ، مذہبی رسومات و رواج متاثر ہوں۔ بھارت میں مذہبی بنیادوںپر حملے کیے جاتے ہیں ۔ گﺅ رکھشا کے نام پر ہجوم کھلے عام مسلمانوں پر تشدد کرتا ہے، مسلمانوں کیخلاف اشتعال انگیز تقاریر کی جاتی ہیں، حکام ان واقعات کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں، رپورٹ کے مطابق بھارت کی ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے گائے کی ذبح پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کی بنیاد پر گائے ذبحہ کرنے کی جھوٹی اطلاع پر بھی مسلمانوں کو سرعام تشدد کر کے قتل کرنے کے واقعات بڑھے ہیں۔ دودھ، دہی، چمڑے اور گوشت کے کاروبار سے وابستہ افراد پر تشدد کیا گیا۔
امریکی رپورٹ میں کہا گیا مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی زبردستی مذہب کی تبدیلی کی تقاریب ہو رہی ہیں۔ غیر ہندوﺅں کو”گھر واپسی“ نامی تقاریب منعقد کر کے زبردستی ہندو بنایا جارہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کے ناموں والے شہر وںاور جگہوں کے نام تبدیل کیے جارہے ہیں تاکہ مسلمانوں کے تاریخی سماجی کردار کو مٹایا جاسکے۔ بی جے پی بھارت کو ہندو سٹیٹ بنانا چاہتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی دس ریاستوں میں اقلیتوں کیلئے حالات بدتر ہو چکے ہیں، جن میں بدترین ریاستوں میںاتر پردیش،آندھرا پردیش ، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، اڑیسہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور راجھستان شامل ہیں۔حکمران بی جے پی سے وابستہ سیاسی لیڈر پورے بھارت میں کھلے عام ”ہندو “ پرچار کرتے پھر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بطور کیرئیر نرسنگ کا شعبہ

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کی سرپرستی میں گزشتہ 2سال سے مذہبی دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مودی حکومت نے گزشتہ دور میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی، مودی حکومت کا مستقبل میںبھی توجہ نہ دینے کا عندیہ نظر آرہا ہے۔
اب انڈین حکومت لاکھ اس رپورٹ کو ماننے سے انکار کرے لیکن حقیقت یہی ہے ۔ اگر آپ انڈیا سے وائرل ہونے والی ویڈیوز کو دیکھیں، گﺅرکھشو کے مسلمانوں پر تشدد کو دیکھیں تو آپ پر یہ افشانی کیفیت کبھی نہیں ہوگی بلکہ حقیقی دنیا یہی ہے۔

تحریر:الف سلیم