حج کے فوائد

فضائل حج و فوائد حج

EjazNews

حج کی بڑی فضیلت ہے اس کے کرنے سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں اس کے بعد جنت ملتی ہے۔ یہ خدا کے دربار کی حاضری ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا
ترجمہ : کونسا عمل سب عملوں سے افضل ہے۔آپﷺنے فرمایا اللہ اور اس کے سول پر ایمان لانا ۔ پھر عرض کیاگیا اس کے بعد کونسا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔ پھر عرض کیاگیا اس کے بعد کونسا عمل ہے فرمایا: حج مقبول ہے۔(بخاری ، مسلم ، ابن حبان)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی خوشنودی کے لئے حج کیا اور جماع اور عدول حکمی اور خدا کی نافرمانی نہیں کی وہ گناہوں ںسے اس طرح لوٹ آتا ہے جس طرح اس کی ماں نے اس کوپیدا کیا تھا۔(بخاری و مسلم)
یعنی گناہوں سے وہ اس طرح پاک ہوتا ہے جیسے اس کی ماں نے آج اس کو معصوم جنا ہے۔ سارے گناہ معاف ہو گئے جیسا کہ دوسری حدیث میں فرمایا:
ترجمہ: حج ان تمام گناہوں کو معاف کر ادیتا ہے جو حج سے پہلے سرزد ہو گئے تھے۔(ابن خزیمہ ، ترغیب)
ترجمہ: ہر کمزور کا جہاد حج ہے یعنی حج کرنے سے جہاد کا ثواب ملتا ہے۔ (ابن ماجہ، ترغیب)
ترجمہ: بوڑھے اور عورت اور کمزور کا جہاد حج و عمرہ ہے ۔(نسائی)
ترجمہ: حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے۔(بخاری)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
حج و عمرہ دونوں کو ملائو کیونکہ یہ دونوں محتاجی اور گناہوں کو ایسا دور کر دیتے ہی جس طرح بھٹی لوہے، چاندی، سونے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ (ترمذی ، ابن خزیمہ، ترغیب)
فوائد حج:
اوپر کے مضمون سے حج کی خوبی ثابت ہو گئی کہ حج کرنے سے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے اس کے علاوہ اور بہت سے دینی فائدے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ اخروی اور دینی بھی بہت فائدے اور منافع ہیں۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا :
ترجمہ: اورلوگوں میں حج کی منادی کرادو تاکہ پیدل اور سواریوں پر سوار ہو کر دور دراز راستے سے تمہارے پاس آکر اپنے فوائد کو حاصل کریں۔ (الحج)
یہ فائد ے دنیا و آخرت دونوں کے فائدوں کو شامل ہیں حج میں دین دنیا دونوں کا فائدہ مضمر ہے تجات سیرو سیاحت مناظر قدرت کے مشاہدے اتحاد و مساوات دنیا کے مسلمانوں سے ملاقات اور ذاتی تجربے مجاہدانہ زندگی ،یاد آخرت وغیرہ۔
مولانا عبدالوہاب بن الحاج عبد الجبار دہلوی مکی نے ’’اسرار حج ‘‘ کے نام سے ایک مختصر جامع رسالہ تحریر فرمایا ہے، اس میں سے فوائد حج کے چند اقتباسات ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔
جامعیت ملت:
یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام وہ پیغام محبت ہے جو بچھڑے ہوئوں کو ملاتا ہے ۔ اور بیگانوں کو یگانہ بناتا ہے۔ احکام اسلام کا ایک بڑا منشا یہ بھی ہے کہ افراد مختلفہ کو ملت واحد بنا دیا جائے۔ چنانچہ اسی غرض سے اہل محلہ میں محبت اور اتحاد پیدا کرنے اور قائم رکھنے کے لئے پنجگانہ نمازوں کے وقت اہل محلہ پر محلہ کی مسجد میں جمع ہونا واجب کیا گیا ہے اہل شہر میں تعلقات بڑھانے کیلئے ہفتہ میں ایک بار ان کا جامع مسجد میں اکٹھا ہونا اور مل کر نماز جمعہ ادا کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اہل شہر اور دیہات و قرب و جوار کے رہنے والوں میں تعارف و محبت مستحکم رکھنے کے لئے سال میں دوبار عیدین کی نماز کو سنن ہدی میں مقرر کیا گیا ہے پس اسی طرح تمام عالم اسلامی میں رابطہ دینی کے مضبوط کرنے کےلئے مختلف قوموں ، نسلوں،مختلف زبانوں، مختلف رنگتوں اورمختلف ملکوں کے اشخاص کو دین واحد کی وحدت پر شامل ہونے کے لئے عمر بھر میں ایک دفعہ ان سب اشخاص پر جو وہاں جانے کی استطاعت رکھتے ہیں حج کیا گیا ہے۔
مساوات اسلامی:
اسلام کا ایک اصول مساوات بھی ہے۔حج سے یہ مقصد بھی بخوبی حاصل ہو جاتا ہے سب لوگ شاہ ہوں یا گدا، ایک ہی لباس میں ایک ہی حالت میں ایک ہی جگہ یہ خدائے واحد کی درگاہ میں حاضر ہوتے ہیں اور اس طرح سب امتیازی تفرقے مٹ جاتے ہیں۔
عالمگیر اتحاد اسلامی:
مسلمانوں کو ایک جگہ جمع ہو کر امور سیاست، تجارت وغیرہ سب کاموں میں مشورہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور اس طرح باہم تعاون و تناصر کا مقصد حاصل ہوتا ہے اسی وجہ سے غیر مسلم ہو شیار قومیں اجتماع حج سے بہت خوفزدہ رہتی ہیں اور اپنے مقبوضات کے لوگوں کو حج سے روکنے کی مسلسل کوشش کرتی ہیں۔
مجاہدانہ زندگی کی تعلیم:
جہاد فی سبیل اللہ اسلام کی روح رواں جس مسلمان کو اس مقدس فرض کی ادائیگی اور اس کے لئے تیاری کا خیال نہیں ہے اس کا ایمان ناقص ہے:
ترجمہ: مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان لائے اور پھر کسی قسم کا شک نہیں کیا اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وہی اپنے دعوئے اسلام میں سچے ہیں۔ (سورہ حجرات)
یوں تو اسلام کے جملہ ارکان کو جہاد سے مناسبت ہے مگر حج کو خصوصیت کے ساتھ اس سے ربط و تعلق ہے ۔چنانچہ سورئہ بقر میں حج کے احکام جہاد کے احکام کے ساتھ ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ سورئہ حج میں بھی احکام حج کے بعد ہی جہاد کی مشروعیت کا ذکر ہے اور اسی سورت کے آخر میں جو حکم دئیے گئے ہیں ان میں ایک حکم جہاد کا بھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا ایک بڑا مقصد مسلمانوں کو مجاہدانہ زندگی کی تعلیم دینی اور انھیں جہاد کے لئے تیار کرنا بھی ہے۔ حج کے احکام ملاحظہ ہوں۔ان کو جہاد کے ساتھ کس قدر شدید مناسبت ہے:
تمام حاجیوں کو یکساں لباس (احرام) پہننا پڑتا ہے۔ فوج میں بھی یونیفارم ہونا ضروری ہے۔ حاجیوں کو ایک خاص قانون کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کا کفارہ (جرمانہ)دینا پڑتا ہے۔ اسی طرح مجاہدین کے لئے فوجی قوانین کی پابندی لازمی امر ہے۔ سب حاجیوں کو عرفان میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔ جو شخص حج کے تمام ارکان ادا کرے مگر عرفات میں حاضر نہ ہو تو اس کا حج نہ ہوگا اسی طرح ہر مسلمان کے لئے خلیفہ اسلام کی طلب پر جہاد میں شریک ہونا ضروری ہے اور جو شخص باوجود استطاعت شریک نہ ہوگا اس کا اسلام ناقص رہے گا۔ ہر حاجی کے لئے ضروری ہے کہ جب حج کو جائے تو زاد راہ لے کر جائے تاکہ دوسروں کے لئے بار نہ بن جائے اسی طرح ہر مجاہد کو سامان جنگ مہیا کرنا ضروری ہے۔ حج میں تین باتوں کی سخت ممانعت ہے۔ (الف) بے حیائی کی باتیں  (ب) ناشائستہ کلام یعنی گالی گلوچ وغیرہ (ج) آپس میں لڑنا جھگڑنا جہاد میں تعلیم یہ ہے کہ جب مسلمانوں کا لشکر ایک جگہ جمع ہو تو اسے ان باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے تاکہ آپس میں اختلاف اور منازعت نہ پیدا ہو نے پائے۔
آخرت کی یاددہانی:
حج کو جس طرح جہاد سے خاص مناسبت ہے اسی طرح قیامت سے بھی مشابہت ہے۔ عرفان کا اجتماع میدان حشر کا نمونہ ہے ۔ لباس احرام کفن سے مشابہ ہے سورئہ حج کی ابتداء قیامت کے ذکر سے ہوئی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حج کا ایک اہم مقصد آخرت کی یاددہانی ہے آخرت کی یاددہانی سے جو فائدے حاصل ہوتے ہیں وہ بے شمار ہیں جن میں سے چند فائدوں کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے:
(۱) آخرت کی یاد سے انسان کو اپنی حیات مستعار کی قدر ہوتی ہے اس کو بیکاری اور لہو ولعب میں صرف کرنا برا معلوم ہوتا ہے اور وہ اپنی قوم کا ایک مفید فرد بن جاتا ہے۔
(۲) اس سے انسان کو اعمال صالحہ کی رغبت اور گناہوں سے اور تمام بد اخلاقیوں سے اور ہر طرح کی بد معاملگی سے نفرت ہو جاتی ہے اور وہ ایک شریف و مہذب آدمی بن جاتا ہے۔
(۳) اس سے انسان کوباوجود اس قدر ترقی کے اپنی بے کسی اور درماندگی کا احساس ہوتا ہے ۔ تکبر و غرور، ظلم وفساد کے جذبات کی بیخ کنی ہوتی ہے اور وہ قوم کے غریب طبقہ کا ہمدرد بن جاتا ہے۔
(۴) اس سے انسان کواپنی ذاتی منفعت و آسائش کے خیال کے بجائے قومی اور رفاع عام کے کاموں کی رغبت ہوتی ہےتاکہ دنیا میں بھی اس کی یادگار باقی رہے۔ آنے والی نسلیں اس کو بھلائی سے یاد کریں اس کے لئے دعائے خیر کریں اور آخرت میں ثواب ملتا رہے۔
(۵) جب یہ خیال آتا ہے کہ دنیا فانی ہے اور آخر مرنا ہی ہے تو پھرگھر میں پڑے پڑے مرنے سے کیا فا ئدہ ! اسلام کی حمایت اور اشاعت میں کیوں نہ جان دی جائے تو انسان مجاہدبن جاتا ہے اور اپنی جان و مال کو خدا کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے۔ واللہ اعلم۔
تجربات سفر:
بحر و بر کے سفر سے انسان کو جو فوائد حاصل ہوسکتے ہیں وہ بھی اس کے ضمن میں داخل ہیں۔ یعنی سیرو سیاحت، تجربہ اکتساب معلومات، مالی فوائدہ وغیرہ۔
تمام فوائد اجتماع کا حصول:
دنیا میں اجتماعات سے جو فوائد متصور ہوتے ہیں وہ سب حاصل انعقاد سے یا ایک مارشل (امیر لشکر) کا جو مقصود فوی نمائش سے انجمنوں کا جو مطلب سالانہ جلسوں اور مندوبوں کے اجتماع سے۔ ایوان تجارت کا جو مقصد عالمگیر نمائشوں کے قیام سے ہوتا ہے وہ سب مقاصد حج کے اندر مقصود و ملحوظ ہیں۔ آثار قدیمہ کے جو یا ، صنا دید عالم کے متلاشی، عالمان طبقات الارض و اقفان علم الالسنہ اور محققان تاریخ اقوام ، ماہران جغرافیہ عالم کو جن باتوں کی تلاش ہوتی ہے وہ سب امور حج سے پورے ہو جاتے ہیں۔ (انتہی)
حضرت مولانا عبدالسلام بستوی دہلوی

یہ بھی پڑھیں:  مقام ابراہیم علیہ السلام