karachi-See

کراچی کے سمندر کو لائف سیونگ گارڈز کی ضرورت ہے

EjazNews

آسمان شفّاف اور سمندر پُرسکون ہے۔ سورج کی سنہری کرنوں کا عکس پڑنے سے تا حد نظر پھیلا پانی جھلملا رہا ہے۔ویک اینڈ نہ ہونے کے سبب میلوں طویل ساحل پر ہو کا عالم ہے،ساحل کی سیر، اہل کراچی کے لیے سَستی تفریح کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ عموماً ایک شہری چند سو روپے خرچ کر کے یہاں بہ آسانی پکنک منا سکتا ہے، لیکن بعض اوقات خوشی و مسرت کے یہ لمحات، المناک واقعات اور گھر، ماتم کدوں میں بدل جاتے ہیں۔ لہٰذا، قیمتی جانوں کے زیاں سے بچنے کے لیے انتظامیہ بالخصوص جون، جولائی کے مہینے میں سمندر میں نہانے پر پابندی عائد کردیتی ہے، مگر شہری پھر بھی باز نہیں آتے۔ سمندر میں ڈوبنے کے واقعات کی وجوہ اور سدباب کے بارے میں جاننے سے پہلے اس بات کاعلم ہونا بھی بے حد ضروری ہے کہ کراچی کی ساحلی پٹّی خاصی طویل ہے۔64کلو میٹر طویل یہ پٹّی کیٹی بندر سے شروع ہو کر مبارک ویلیج پر ختم ہوتی ہے اوراس میں پیراڈائز پوائنٹ، ہاکس بے، سینڈز پٹ، فرینچ بیچ، رشین بِیچ، سنہرا بیچ، مبارک ویلیج اور سی ویو جیسے مقامات قابل ذکر ہیں۔ ان ساحلی مقامات پر تقریباً سال بھر ہی شہریوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے اور ڈُوبنے کے واقعات بھی رُونما ہوتے رہتے ہیں۔ دیگر کئی عوامل کے علاوہ ان ساحلوں کا غیر ترقّی یافتہ جغرافیہ انہیں خطرناک بناتا ہے۔جغرافیائی خصوصیات اور شہریوں کے غیر محتاط رویے کے سبب کراچی کے تمام ساحلوں ہی پر ایسے لائف گارڈز کی تعیناتی اشد ضروری ہے کہ جو نہ صرف بہترین تیراک ہوں، بلکہ سمندر میں پوشیدہ خطرات سے بھی کماحقہ واقفیت رکھتے ہوں۔ یہاں پاک بحریہ کے جاں بازوں کے علاوہ مختلف سرکاری و نجی اداروں اور فلاحی تنظیموںکے سیکڑوں لائف سیونگ گارڈز اورغوطہ خور خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں بلدیہ عظمیٰ کراچی، پورٹ قاسم اتھارٹی، فش ہاربر( لانڈھی)، ابراہیم حیدری، ڈی ایچ اے، کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن، کراچی فشری، کراچی پورٹ ٹرسٹ، کنٹونمنٹ بورڈ( منوڑا)، کینپ، ایدھی فائونڈیشن، چِھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن اورپالس ریسکیو شامل ہیں۔ ساحلوں پر بچائو کے لیے خدمات انجام دینے والے افراد کا کہنا ہے کہ ان لائف گارڈز کو سمندر کے رویوں کا پتہ لگانے کا اہل ہونا چاہیے، جن میں مدوجزر، پانی کے مختلف دھارے اور ساحل کی سطحیں شامل ہیں۔ تاہم، اس تشویش ناک صورت حال کے باوجود حکومت مناسب تعداد میں لائف گارڈز بھرتی کرنے اور انہیں تربیت فراہم کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
شہری انتظامیہ کی جانب سے بھرتی کیے جانے والے لائف گارڈز کی حالت زار اور ڈوبنے کے واقعات کے بارے میں اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سال ایک۔محتاط اندازے کے مطابق ’’دریا، ڈیم، نہروں، ندی نالوں اور واٹر ٹینکس سمیت دیگر مقامات پر ڈوبنے کے نتیجے میں سال بھر میں کم و بیش 4درجن افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایمرجنسی ریسپانس سینٹر ، ہاکس بے16کلومیٹر طویل ساحل پر 2000ء سے فعال ہے۔
پالس ریسکیو نے اپنی خدمات کا آغاز جولائی 2004ء میں کیا۔ بین الاقوامی طور پرتسلیم شُدہ اس غیر سرکاری تنظیم کے قیام کا مقصد کراچی کے ساحلوں پر لائف گارڈز کی مفت سہولت فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں اسلحہ پرپابندیوں کے قوانین اور صورتحال

تنظیم کا کہنا تھا کہ ایک ادارے نے ہمیں 10عدد بوٹس فراہم کیں، تو ہمارے پاس انہیں رکھنے کے لیے جگہ نہیں تھی، لیکن پھر ایک صاحب نے ہمیں ایک ہٹ دلا دیا، جہاں اب ہمارا دفتر قائم ہے۔
تنظیم کا دعویٰ ہے کہ 2004ء سے اب تک اس نے ڈُوبنے کا تناسب صفر برقرار رکھا ہوا ہے، جو اس کی اعلیٰ لائف سیونگ خدمات کا مظہر ہے۔ لائف گارڈز کی تعداد اور تعیناتی سے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ ’’ہم سینڈز پٹ سے مبارک ویلیج تک پھیلے تقریباً 20کلو میٹر طویل ساحل پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ ہمارے روسٹر پر کم و بیش 200لائف گارڈز ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں، لیکن انہیں ضرورت کے مطابق تعینات کیا جاتا ہے۔ ان تمام کا تعلق مختلف ساحلی دیہات سے ہے۔جون سے ستمبر تک کے عرصے میں مون سون کے دوران جب سمندر کی لہریں بلند ہوتی ہیں اور سکولز کی تعطیلات کی وجہ سے ساحلوں پر عوام کا رش ہوتا ہے، تو اُس وقت 150سے زائد لائف گارڈز پیٹرولنگ میں مصروف ہوتے ہیں، جب کہ وِیک اینڈ کے علاوہ عام دنوں میں 30سے زیادہ لائف گارڈز گَشت کرتے ہیں ۔ہر ایک کلومیٹر کے دائرے میں 2لائف گارڈز موجود ہوتے ہیں۔ تاہم، جمعے سے اتوار تک لائف گارڈز کی تعداد بڑھا کر ایک کلومیٹر کے دائرے میں 6تک کردی جاتی ہے۔ ہم نے لائف گارڈز کی درجہ بندیاں کر رکھی ہیں۔ کُل وقتی لائف گارڈز اور جُز وقتی لائف گارڈز خدمات انجام دیتے ہیں۔ چُونکہ یہ لائف گارڈز عموماً ماہی گیر ہوتے ہیں ، جن کی پہلی ترجیح مچھلی کا شکار ہے، تو یہ شکار پر پابندی کے دِنوں ہی میں بے روزگار ہونے کے سبب اِدھر کا رُخ کرتے ہیں اور انہی دنوں ہمیں بھی لائف گارڈز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ جب سمندر پُر سکون ہو جاتا ہے، تو یہ شکار پر چلے جاتے ہیں اور ہم بھی انہیں نہیں روکتے۔‘‘
2014ء میں ہم نے کراچی کے تمام ساحلوں کا سروے کیا، تو پتہ چلا کہ ہر سال 50سے 70لاکھ شہری ساحلوں کا رُخ کرتے ہیں اور ان میں سے بھی 80فیصد افراد جون تا ستمبر آتے ہیں۔‘‘اس بارے میں مبارک ویلیج سے تعلق رکھنے والے ٹیم کے رُکن اور کنسلٹنٹ /ٹرینر، غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ’’ ہمارے تمام لائف گارڈز نوجوان ہیں ۔ یہ 30برس کی عُمر کے بعد اپنی اس ذمّے داری سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔ ہر سال انہیں ری فریشر کورسز کروائے جاتے ہیں۔ ان کے لیے ایک باقاعدہ معیار مقرّر ہے اور اس پر پورا اُترنے والے ہی کو بَھرتی کیا جاتا ہے۔ لائف گارڈ کے امیدوار کو ایک مخصوص وقت میں 400میٹر تک بھاگنا اور اتنا ہی تیرنا اور پھر دوڑنا ہوتا ہے۔ اُسے Run, Swim, Runکے اصول پر پورا اُترنا اور خود کو فِٹ رکھنا پڑتا ہے۔ یعنی پیشنٹ (ڈوبنے والا فرد) کو دیکھ کر بھاگنا، تیراکی کرنا اور دوڑتے ہوئے پیشنٹ کو ساحل پر لے کر آنا۔ اس سارے عمل کا دورانیہ 3منٹ ہوتا ہے اور اگر کوئی لائف گارڈ بروقت ڈُوبنے والے فرد تک نہ پہنچ سکے، تو وہ ڈیڈ باڈی ہی واپس لے کر آئے گا، لیکن اگر کوئی تیراک کُھلے سمندر میں پھنس جاتا ہے، تو تادیر سطحِ آب پر رہنے کی صلاحیت کا حامل ہونے کی وجہ سے اسے تاخیر سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ نا ہموار مقام پر ماہر سے ماہر تیراک کے بھی ہاتھ پائوں جواب دے جاتے ہیں اور وہ صرف پانی پر لیٹ کر یا فلوٹنگ ہی سے خود کو بچا سکتا ہے۔‘‘ لائف گارڈز کو درپیش خطرات کے بارے میں پیٹرول کیپٹن، انورکا کہنا تھا کہ’’ گرچہ لائف گارڈز تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے سمندر میں چھلانگ لگاتے ہیں، لیکن بعض مقامات پر لہریں اس قدر تُند و تیز ہوتی ہیں کہ یہ لائف گارڈ کو سنگلاح چٹانوں پر پٹخ دیتی ہیں، جس سے وہ شدید زخمی ہو جاتے ہیں۔ تاہم، انہیں انسانی جان کی حُرمت اور اپنی ذمّے داریوں کے پیشِ نظر اپنی جان جوکھم میں ڈالنی ہی پڑتی ہے، لیکن اس کے باوجود شہری اُن کے ساتھ اچّھا رویّہ اختیارنہیں کرتے۔‘‘
ساحل پر ریسکیو ٹیم کو درپیش مشکلات کے بارے میں سیّد محمد احسان نے بتایا کہ’’ ہماری آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ عطیات ہیں۔ تاہم، کاروباری طبقے سے معاونت نہ ملنے کے سبب آمدنی کا حصول ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چُکا ہے۔ آج سے چند برس قبل جب مختلف اداروں نے چرنا ساحل پر اسکوبا ڈائیونگ کاسلسلہ شروع کیا، تو وہ ہم سے لائف گارڈز مستعار لیتے تھے۔ یہ دیکھ کر ہم نے ایڈونچر ٹورز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارے پاس تیراک اور کشتیاں پہلے ہی سے موجود تھیں اور تقریباً 4برس قبل واٹر اسپورٹس کے آلات بھی خریدنا شروع کر دیے۔ گرچہ حال ہی میں سندھ حکومت نے ہمیں کچھ فنڈ دیا ہے، لیکن ہماری آمدنی کا اہم ذریعہ یہی ایڈونچر ٹورز ہیں، جن کی مدد سے ہم ریسکیوکی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہریوں میں شعور کی کمی بھی ایک مسئلہ ہے۔ مذہبی اور ثقافتی وجوہ کے باعث بیش تر شہری پورے کپڑوں کے ساتھ پانی میں اُترتے ہیں اور لائف گارڈز کی ہدایات پر کان نہیں دھرتے۔ یہی وجہ ہے کہ بالخصوص مون سون میں ڈُوبنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ پھر اکتوبر سے مارچ تک جاری رہنے والے مچھلی کے شکار کے سیزن میں ہمیں لائف گارڈز کی پوری نفری دست یاب نہیں ہوتی۔ نیز، نمکین پانی کی وجہ سے لائف سیونگ آلات بہت جلد ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ان کی مستقل بنیادوں پر اپ گریڈیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، لائف گارڈز کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں وقت کی بچت اور ریسکیو ٹیم کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا۔اسی طرح ساحلوں پر ہنگامی طبّی امداد کی سہولتوں کی بھی شدید کمی ہے۔ اگر کسی ڈُوبتے ہوئے فرد کو بر وقت سمندر سے نکال بھی لیا جائے، تو اس کی جان بچانے کے لیے عموماً 5منٹ کے اندر اندر اسے آکسیجن فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہاکس بے سے قریب ترین آکسیجن فراہم کرنے کی سہولت سے آراستہ اسپتال بھی 12کلو میٹر دُور ہے۔ اگر بروقت سی پی آر (کارڈیو پلمونری ری سس سائٹیشن)مل جائے، تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، یہ اتنا اہم عمل ہے کہ اگر کسی فرد کو سی پی آر آتا ہو، تو وہ ہارٹ اٹیک سے متاثرہ فرد کی جان بھی بچا سکتا ہے۔ پھرہم خواتین کو سی پی آر نہیں دے سکتے، جس کی وجہ سےڈُوبنے سے بچنے والی خواتین کی اسپتال جاتے ہوئے راستے ہی میں موت واقع ہو جاتی ہے۔‘‘ ہمارے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کیا خواتین لائف گارڈز کی خدمات حاصل نہیں کی جا سکتیں؟‘‘ اُن کا کہنا تھا کہ ’’ایسا ممکن ہے، لیکن ہمارے ہاں خواتین تیراکوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اگر ہم کسی لڑکی کو لائف گارڈ بنا بھی دیں، تو اس کے لیےمیلوں پر محیط ساحل پر کسی خاتون کو سی پی آر دینے کے لیے پہنچنا بہت مشکل ہو گا اور تب تک سی پی آر کی ضرورت ہی ختم ہو چکی ہو گی۔‘‘ایک اہم مسئلے کی جانب توجہّ دلاتے ہوئے اُنہوں نے بتایا کہ’’ساحلوں پر موجود ہجوم میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا فرد ہوتا ہے کہ جو سی پی آر دینے میں مہارت رکھتا ہو۔ نیز، ساحلوں پر واقع ہَٹس میں فرسٹ ایڈ کِٹس بھی موجود نہیں ہوتیں۔ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ساحل پر آنے والے افراد ہَٹ کرائے پر لیتے ہوئے مالکان سے ابتدائی طبّی امداد کی سہولتوں کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے، جو ان سے کرائے کی عوض بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔‘‘کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار معراج خان نے بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ ڈُوبنے سے بچائے جانے والے زیادہ ترافراد ایسے ہوتے ہیں، جو اسپتال جاتے ہوئے راستے میں دَم توڑ جاتے ہیں۔ گرچہ ایمرجینسی ریسپانس سینٹر میں پیرا میڈیکل اسٹاف موجود ہے، لیکن یہ صرف وِیک اینڈز پر محدود وقت ہی کے لیے دست یاب ہوتا ہے۔‘‘
ایدھی فائونڈیشن کی میرین اینڈ ریسکیو سروس سے وابستہ 10لائف سیونگ گارڈز سال بَھر ہاکس بے اور سی ویو پر موجود ہوتے ہیں ۔ ساحل پر رش کے دنوں میں ایدھی فائونڈیشن مختلف مقامات پر میڈیکل کیمپ لگا کر طبّی سہولتیں فراہم کرتی ہے اوراس کی ایمبولینسزبھی موجود ہوتی ہیں۔ اس بارے میں سروس کے انچارج، محمد اورنگ زیب نے بتایا کہ ’’ہمارے تمام لائف سیونگ گارڈز مقامی طور پر تربیت یافتہ ہیں۔ تیرنے اور ڈُوبنے سے بچانے کے علاوہ یہ سی پی آر دینے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس پیٹرولنگ اور ریسکیو کے تمام ضروری آلات موجود ہیں، جن میں لائف جیکٹس، ریسکیو ٹیوبز اور 15عدد ریسکیو بوٹس شامل ہیں۔‘‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ رش کے دِنوں میں بعض افراد رضا کارانہ طور پر بھی لائف گارڈ کے طور پر کام کرتے ہیں، جب کہ ایدھی فائونڈیشن اپنے گارڈز کو 15سے 20ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیتی ہے اور سمندر میں ڈُوبنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر مزید نوجوانوں کو لائف سیونگ کی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ سمندر کے علاوہ یہ لائف گارڈز تالابوں، کنوئوں اور واٹر ٹینکس سمیت دیگر مقامات پر ڈوبنے والے افراد کو بھی نکالتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  یورپ میں بڑھتی انتہا پسندی سے جرمنی بھی متاثر