donald trump

ٹرمپ نے ایران پر حملےکا حکم واپس کیوں لیا؟

EjazNews

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں ایران نے بغیر پائلٹ کا امریکی ڈرون گرایا تو امریکی فوج ایران پر جوابی حملے کے لیے تیار تھی، لیکن آخری وقت پر یہ حملہ روک دیاگیا۔انہوں نےاپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ہم جوابی کارروائی کے لیے تین مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار تھے، جب میں نے پوچھا کہ کتنےافراد ہلاک ہوسکتے ہیں تو ایک جنرل کی جانب سے جواب آیا کہ 150 ہوں گے تو میں نے اس حملے کو دس منٹ پہلے روکوا دیا۔اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور ٹویٹ کی جس میں انھوں نے کہا کہ ایک نامعلوم ڈرون کو مار گرائے جانے کا جواب دینے کی مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ہماری فوج تیار ہے، اور دنیا کی بہترین فوج ہے۔ پابندیاں انھیں تنگ کر رہی ہیں اور گذشتہ رات مزید لگا دی گئی ہیں۔ایران امریکہ اور دنیا کے خلاف کبھی جوہری ہتھیار استعمال نہیں کر سکے گا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرائے جانے کے بعد ایران کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن تاہم جمعہ کی صبح انہوں نے یہ حکم واپس لے لیا۔اخبار کے مطابق طیارے فضاء میں تھے اور بحری جہاز اپنی پوزیشنز سنبھال چکے تھے مگر پھر رک جانے کا حکم آنے پر کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صورت حال بہت خطرناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ ایران کشیدگی ، نئے خطرات منڈلانے لگے