mother and see

سمندر کی شکست

EjazNews

پیارے بچو !یہ کہانی ایک ماں کی ہے جس میں آپ کیلئے بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے۔
گزرے زمانوں میں سمندر کے کنارے ایک درخت تھا جس پہ چڑیا کا گھونسلہ تھا۔ ایک دن تیز ہوا چلی اور گھونسلہ سمندر میں جاگر ا۔ اس گھونسلے میں چڑیا کے بچے بھی تھے۔ چڑیا بچے کو نکالنے لگتی تو اس کے خود کے پر گیلے ہو جاتے ۔
چڑیا نے سمندر سے کہا کہ اپنی لہر سے میرے بچے کو باہر نکال دے مگر سمندر نہ مانا ،چڑیا غصے میں آگ بگولہ ہو کر بولی۔ میں تیرا سارا پانی پی جاﺅں گی اور تجھے ریگستان بنا دوں گی ۔
سمندر غرور میں بولا اے چڑیا تو ساری دنیا کو غرق کرنا چاہتی ہے۔ تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے۔
چڑیا نے یہ سنا تو بولی چل خشک ہونے کو تیار ہو جا، اسی کے ساتھ اس نے ایک گھونٹ بھرا اور درخت پر بیٹھ گئی ،پھر ایک گھونٹ بھرا اور درخت پر بیٹھ گئی یہ عمل اس نے آٹھ دس مرتبہ دہرایا ۔سمندر گھبرا کر بولا کہ پاگل ہو گئی ہے مجھے ختم کرنے لگی ہے۔ مگر چڑیا اپنی دھن میں لگی رہی ابھی 25-26مرتبہ ہی ہوا تھا کہ سمندر نے ایک لہر سے اس کے بچے کو باہر نکال پھینکا۔
درخت یہ سب دیکھ رہا تھا ۔وہ سمندر سے مخاطب ہو کر بولا اے طاقت کے بادشاہ یہ کیا ہے ۔
سمندر بولا میں تجھے ایک پل میں اکھاڑ سکتا ہوں ،ایک پل میں آدھی دنیا تباہ کر سکتا ہوں ،میں اس چڑیا سے نہیں ڈرا ، میں تو ماں کے اُس جذبے سے ڈر گیا ہوں جس کے سامنے تو عرش بھی ہل جاتا ہے ،میری کیا مجال، جس طرح وہ مجھے پی رہی تھی مجھے لگا کہ وہ مجھے ریگستان بنا دے گی۔
تو پیارے بچو! اپنے والدین کی قدر کر و، کیونکہ وہ تمہارے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ان کا خیال رکھو اور ان کے مت ستاﺅ۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمیشہ سچائی اور اچھائی کی جیت ہوتی ہے