makha

فضائل مکہ شریف

EjazNews

اس شہر اور اس مقام کی عزت وا حترام روز اول سے ہے۔ جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اسی وقت سے اس کو امن والا شہر اور امن کا مقام بنایا ہے۔ اس کا اظہار حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس طرح کرایا کہ:
ترجمہ: اور یاد کرو جب ابراہیم ؑ نے یہ دعا کی اے میرے پروردگار اس شہر کو امن والا بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچا۔ میرے پروردگار ! ان بتوں نے بہتوں کو گمراہ کیا ہے پس جو میری پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو میری نافرماین کرے گا تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنی کچھ اولاد کو اس کھیتی کی ترائی میں تیرے مقدس گھر کے پاس بسایا ہے اے ہمارے پروردگار یہ اس لئے تاکہ یہ تیری نماز کھڑی کریں تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ایسا بنا کہ وہ ان کی طرف مائل ہوں اوران کو کچھ پھلوں کی روزی دے تاکہ یہ تیرے شکر گزار رہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھے معلوم ہے جو ہم چھپائیں اور ظاہر کریں اور اللہ سے زمین میں اور نہ آسمان میں ک چھ چھپا ہے۔ (سورة ابراہیم )
ترجمہ: مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت والا بنایاہے جس کی ملکیت ہر چیز پر ہے اور مجھےی ہ بھی فرمایا گیا کہ میں فرماں بردار ہو جاﺅں۔(النمل)
اس آیت کریمہ میں بلدہ یعنی مکہ مکرمہ کی اہمیت بیان فرمائی ہے کہ اے نبی ! آپ لوگوں میں اس بات کا اعلان کر دیجئے کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کروں اور اس کا فرماں بردار بنا رہوں۔ اور اس بلدئہ حرام کی فضیلت میں فرمایا:
ترجمہ: کہنے لگے اگر ہم آپ کے ساتھ ہو کر ہدایت کے تابعدار بن جائیں تو ہم اپنے ملک سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے انھیں امن و امان اور حرمت والے حرم میں جگہ نہیں دی۔ جہاں تمام چیزوں کے پھل گھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس بطور رزق کے ہیں لیکن ان میں اکثر کچھ نہیں جانتے۔ (سورة القصص)
مشرکین اپنے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے تھے کہ ہم آپ کی لائی ہوئی ہدایت کو مان لیں تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اس دین کے مخالف جو ہمارے طرف چوطرف ہیں اورتعداد میں مال میں ہم سے بہت زیادہ ہیں وہ ہمارے دشمن جان بن جائیں گے اور ہمیں تکلیف پہنچائیں گے اور ہمیں برباد کر دیں گے اللہ فرماتا ہے کہی ہ حیلہ بھی ان کا غلط ہے اللہ نے انہیں حرم محترم میں رکھا ہے جو شروع دنیا سے اب تک امن و امان میں رہا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حالت کفر میں تو یہاں امن سے رہیں اور جب خدا کے سچے دین کو قبول کریں تو امن اٹھ جائے ، یہی تو وہ شہر ہے کہ طائف وغیرہ مختلف مقامات سے پھل فروٹ سامان ، اساب ، مال تجارت وغیرہ کی آمد و رفت یہاں بکثرت رہتی ہے، تمام چیزیں یہاں کھچی چلی آتی ہیں اور ہم انھیں بیٹھے بٹھائے روزیاں پہنچا رہے ہیں لیکن ان کی اکثریت بے علم ہے اسی لئے ایسے رکیک حیلے اور بے جا عذر پیش کرتے ہیں:
ترجمہ: کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حالانکہ ان کے ارد گردآچک لئے جاتے ہیں کیا یہ باطل پہ یقین رکھتے ہیںاور خدا کی نعمتوں پر احسان نہیںمانتے۔
اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حر م میں انھیں جگہ دی ہے جس میں جو شخص آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے اس کے آس پاس جدال و قتال ، لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں جیسے سورئہ قریش میں ہے:
ترجمہ: قریش کو الفت دلانے کے واسطے انھیں الفت دلائی جاڑے اور گرمی کے سفر میں انھیں چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر خوف میں امن و امان دیا۔ (سورہ قریش)
ترجمہ: جن لوگوںنے کفر کیا اور راہ خدا سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے مساوی کر دیا ہے وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے ہم اسےدرد ناک عذاب چکھائیں گے جبکہ ہم نے ابراہیم کو کعبے کے مکان کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف، قیام، رکوع، سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا، لوگوں میں حج کی منادی کر دے، لوگ تیرے پاس پا پیادہ بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی دور دراز کی تمام راہوں سے آجائیں گے اپنے فائدے کے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں، ان چو پایوں پر جو پالتو ہیں ۔ بس تم اب بھی اسے کھاﺅ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاﺅ پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں خدا کے قدیم گھر کا طواف ادا کریں۔ (الحج)
اس گھر اور اس مقام کی عزت و حرمت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاﺅں اور ان کی اولاد کی سکونت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اپنے خدا کے حکم سے اس کی حرمت کا اظہار فرمایا ہے ورنہ اس کی حرمت اور اس کی عزت روز ازل سے قرآن مجید میں فرمایا
ترجمہ: تحقیق وہ پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہی گھر ہے جو مکہ میں ہے۔ (آل عمران)
اس سے شہر مکہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا:
ترجمہ: شہر مکہ کو اللہ تعالیٰ نے اس دن سے حرمت عطا فرمائی ہے جب کہ زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ یہ شہر اللہ کی دی ہوئی حرمت سے قیامت تک با حرمت ہے مجھ سے پہلے کسی کے لئے یہاں جنگ کرنا حلال نہیں تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہے صرف تھوڑی دیر کے لئے جائز کر دیا گیا تھا۔ اب میرے لئے بھی قیامت تک حرام ہے۔ یہاں کا کانٹا نہ توڑا جائے اور نہ یہاں کا شکار چھیڑا جائے اور نہ اس کو بھگا یا جائے اور نہ یہاں کی گری پڑی چیز کا اٹھانا جائز ہے۔ صرف وہی اٹھا سکتا ہے جو تلاش کر کے مالک کو پہنچا دے اور نہ یہاں کی گھاس کاٹی جائے ۔
حضرت عباس ؓ نے عرض کیا : مگرآذخر گھاس کی اجازت ہونی چاہئے کیونکہ چوپاﺅں اور گھروں میں اس کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں اذخر گھاس کی اجازت ہے۔ (بخاری ، مسلم)
آپ نے فرمایا:یہ امت بخیر رہے گی جب تک اس مکہ کی حرمت کو قائم رکھے گی اور جب اس کو ضائع کر دے گی تو خود ہی برباد ہو جائے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کے وقت فرمایا تھا:
ترجمہ: اے مکہ خدا کی قسم تو تمام زمین سے مجھے محبوب ہے اور سب سے بہتر ہے اگر میں تجھ سے نہ نکالا جاتا تو نہیں نکلتا ۔ (ترمذی ، ابن ماجہ)
رسول اللہ ﷺ کی ولادت اسی مقدس شہر میں ہوئی اسی میں نبوت ملی۔ اسی شہر مکہ میں قبلہ ہے جو تمام انسانوں کا قبلہ تقریباً تمام انبیاءعلیہم السلام یہاں حج کے لئے تشریف لائے۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کی یہاں یادگار ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کو مشرکین مکہ تنگ کر کے نہ نکالتے تو آپ ہرگز نہ جاتے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں:
ترجمہ: اے مکہ تو کس قدر پاکیزہ شہر ہے اور کس قدر میرے نزدیک محبو ب ہے اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں دوسری جگہ قیام نہ کرتا۔
مکہ مکرمہ کی حرمت کی وجہ سے اہل مکہ بھی قابل احترام ہیں ان کی عزمت و حرم نہایت ہی ضروری ہے یہ خدا کے گھر کے پڑوسی اور اس کے پاسبان ہیں یہاں کے قیام کی وجہ سے ایک نیکی پر لاکھ نیکیوں کا ثواب لیتے ہیں اس حیثیت سے ان کا درجہ بہت اونچا ہے لیکن جس طرح یہاں نیکی کا زیادہ ثواب ہے اسی طرح گناہ کا بھی زیادہ عذاب ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں مکہ میں ایک گناہ کروں اس سے یہ بہت زیادہ پسندیدہ ہے کہ مکہ سے باہر ستر گناہ کروں۔

یہ بھی پڑھیں:  ملتزم