مقام ابراہیم علیہ السلام

مقام ابراہیم علیہ السلام

EjazNews

مقام ابراہیم حرم محترم کی عظیم الشان آیات اور عالی قدر تبرکات سے ہے ارشاد ربانی ہے:
ترجمہ: بیشک پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے جو بابرکت ہے اور ہدایت ہے تمام جہان کے لئے اس میں بہت سی کھلی نشانیاں ہیں، منجملہ ان کے مقام ابراہیم ہے۔
ان کھلی ہوئی نشانیوں میں سے وہی حجر اسود ہے جنت سے آیا ہے اور مقام ابراہیم ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة و السلام کے پاﺅں کے نشانات ہیں خدا نے اس کو حرم بنایا ہے کسی جنگلی جانور کا شکار کرنا وہاں حلال نہیں وہاں چیل کوے نظر نہیں آتے۔
یہ وہ مقدس مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے کاحکم صادر فرمایا یہ عزو شرف کسی دوسرے مقام کو حاصل نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: اوربناﺅ تم مقام ابراہیم سے نماز کی جگہ۔
مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے اوران کے قدم مبارک کے نشانات اس پتھر پر موجود ہیں کہ اس پتھر پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی۔
ازرقی کا بیان ہے کہ آپ اس پتھر پر حج کا اعلان اور ندا بلند کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ اعلان حج کرنے کے بعد آپ نے اس پتھر کو باب کعبہ کی جانب رکھ کر اپنا سمت قبلہ بنا لیا اور اس کی جانب نماز پڑھتے رہے۔ پھر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بھی اس سمت نماز پڑھتے رہے اس پتھر میں آپ کے پاﺅں کی انگلیوں کے نشانات موجود ہیں۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ مقام ابراہیم ؑ اس وقت جس جگہ رکھا ہوا ہے وہ وہی جگہ ہے جہاں اس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھا تھا۔
ایام جاہلیت میں کفار قریش نے اس خیال سے کہ پانی کی رو مقام ابراہیم کو بہا کر نہ لے جائے بیت اللہ کے متصل رکھ دیا تھا۔ عہد نبوی اور عہد ابوبکر ؓ میں وہ وہیں رہا حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں مقام ابراہیم ؑ کو پھر اپنے اصلی مقام پر رکھوا دیا اورآج تک وہیں ہے۔ (بحر عمیق)
حضرت ابن جبیر رضی اللہعنہ نے لوگوں کو مقام ابراہیم کا مس کرتے دیکھا تو فرمایا: تم کو چھونے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اس کے قریب نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس شخص نے بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم میں دو رکعت نماز پڑھی تو اس کا یہ عمل سابقہ تمام برے کاموں کا کفارہ ہو گیا۔ (الجامع اللطیف)
ازرقی بیان کرتے ہیں کہ مقام ابراہیم کی مقدار ایک ذراع مربع ہے اور اس میں انگلیوں کے نشان ہیں اور اس کی اونچائی پون ذراع ہے اور اب یہ ایک لوہے کے صندوق میں بند ہے جو ایک جالی دار قبہ میں رکھا ہے اس قبہ کی مقدار پانچ ذراع سے کچھ زائد زمزم کی جانب میں ہے اور کعبہ کی سمت میں پانچ سے کچھ کم ہے۔ اس کے سامنے ستونوں کے درمیان نماز کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ اس کا طول و عرض بھی تقریباً پانچ ذراع ہے اور اب مقام ابراہیم ؑ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں مقام ابراہیم رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حج مبارک