تحقیقاتی کمیشن قائم

گزشتہ 10برسوں میں لیے گئے قرضوں کی انکوائری شروع

EjazNews

جب دن بجٹ پیش ہوا اسی دن رات بارہ بجے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ گزشتہ 10برسوں میں لیے گئے قرضوں کیلئے انکوائری کمیشن بنایا جائے گا جو ان کے قرضوں کے استعمال اور ان میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کرے گا۔وزیراعظم کے معاو ن خصوصی احتساب شہزاد اکبر نے معاون خصوصی اطلاعات کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر کو اس کمیشن کا سربراہ بنایا جارہا ہے۔اس انکوائری کمیشن میں ان کے ساتھ آئی بی، ایف آئی اے، آئی ایس آئی اور ایس ای سی پی کے افسران بھی شامل ہوں گے جبکہ اس کمیشن کو اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی ممبر لے سکتا ہے۔
یہ کمیشن تحقیقات کرے گا کہ گزشتہ دس برسوں میں جتنے بھی قرضے لیے گئے ہیں آیا وہ انہی مقاصد پر خرچ ہوئے ہیں جس کیلئے لیے گئے ہیں ۔یہ کمیشن چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کر ے گا۔
حسین اصغر سابق پولیس افسر ہیں ۔وہ گریڈ 22کے پی ایس پی افسر ہیں ۔وہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن پنجاب سمیت ایف آئی اے میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
گزشتہ 10برسوں میں لیے گئے قرض کہاں خرچ ہوئے اور کس طرح سے خرچ ہوئے حکومتی کمیشن تحقیقات کے بعد 6ماہ میں رپورٹ حکومت کو دے گا۔ وزیراعظم کی تقریباً ہر تقریر میں ان قرضوں کا ذکر ہوتا ہے کہ گزشتہ 10برسوں میں سابق حکومتوں نے اس قدر قرضے لیے ہیں جتنے قرضے پاکستان کی پوری تاریخ میں نہیں لیے گئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  میڈیا ہائوسز کو 1.1ارب روپے کے بقایا جات ادا کر دئیے ہیں:وزیراطلاعات