mouse

طاعون یا سیاہ موت: حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز نہ کیا جائے

EjazNews

طاعون (لاطینی میں ”پلیگ“ کے معنی طمانچہ یا تھپڑ ہے (جو رومیوں کے بقول دیوتاﺅں کی طرف سے سزا اور ان کے اعما ل بد کا نتیجہ تھا)ایک نہایت قدیم مرض ہے جس کی عالمی وبائیں اپنے جلو میں ہلاکت سامانیاں بھی لے کر آتی رہی ہیں۔ یہ مرض کبھی بھی تمام دنیا میں نیست و نابود نہیں کیا جاسکا ہے۔ دنیا کے بعض علاقو ں میں محدود پیمانے پر اس کے حادثات اب بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ان علاقوں میں برعظیم پاک وہند بھی شامل ہیں۔
گزشتہ صدیوںمیں چوہوں نے تاریخ کے دھارے کو کئی دفعہ موڑا ہے۔ چوہوں کے ساتھ طاعون کی وبائیں بھی آئی ہیں۔ عالمی دباﺅں میں لاکھوں آدمی لقمہ اجل ہوگئے، اس صدی میں برعظیم پاک وہند میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کروڑ 20لاکھ سے زیادہ انسان طاعون کا شکار ہو چکے ہیں۔ سب سے بڑی آخری وبا گزشتہ صدی کے اواخر میں ہوئی جس کا زور 1900ءتک رہا۔ ماضی میں مغرب میں اسے سیاہ موت کا نام دیا گیا۔ جہاں اب اس پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔گو اب بھی گاہے گاہے اس کو جب موقع ملتا ہے تو ہلاکت سامانی کے ساتھ آتا ہے۔
انسانی آبادیوں کے ساتھ چوہے بھی ہوتے ہیں۔ یہ نہایت چالاک اور سخت جان جانور ہے۔ یہ صحراﺅں ، پہاڑوں، دریاﺅں کو عبور کر سکتے ہیں اور انسانوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔ پرانے مکان اورنالیاں چوہوں کی آماجگاہ ہیں۔
طاعون ناگہانی ہونے والا سخت متعدی(چھوت دار) اور عفونتی مرض ہےجس کی بروقت تشخیص وعلاج نہ ہو تو مہلک ہے، گو اصلاً یہ مرض چوہوں کو ہوتا ہے جن سے پسوﺅں کے ذریعے انسانوں کو منتقل ہوجاتا ہے۔ یہ مرض نہایت کمزوری اور نقاہت کا باعث ہے۔ مرض کاجرثومہ نہایت مختصر بیضوی اور متحرک ہو تا ہے جو دھوپ میں بآسانی ہلاک ہو جاتا ہے یہ جرثومہ سخت موذی زہریلا ہےاوراندرونی طور پر سمین (زہر)پیدا کرتا ہے اس مرض کا اظہار دو طرح سے ہوتا ہے۔
1۔ طاعونی غدود
طاعون زدہ چوہے جب مرجاتے ہیں تو پسو مردہ چوہوں کو چھوڑ کر زندہ انسانوں کو کاٹنے لگتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں انسانی جسم کے غدود جو جانگ، بغل اور گردن میں ہیں سوج جاتے ہیں ان میں پیپ پڑ جاتی ہے وہ پھٹ جاتے ہیں اور تمام جسم میں یہ زہر سرایت کر سکتا ہے۔ پسو کے کاٹنے کے 2سے 10دن میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ علامات و آثار مرض میں ناگہانی تیز بخار، لرزہ، کمزوری، سخت درد سر، درد کمر، تمام جسم میں درد، متلی، قے، زبان پر دبیز تہ در تہ وغیرہ۔ شروع میں بے چینی اور بعد میں بے حسی، ہذیان، آنکھیں سرخ خونی اس کا زہر جسم میں سرایت کر کے تمام اعضا، دل، پھیپھڑے ، جگر، تلی، مغز وغیرہ میں پھیل جاتا ہے۔ دماغ کا متاثرہونا خصوصاً خطرناک ہے۔ سنگین بیمارافراد 3سے 6دن بعد انتقال کر جاتے ہیں۔ اگر جلدی تشخیص و علاج شروع ہو جائے تو بخار آہستہ آہستہ اترتا ہے اور صحت کے بحال ہونے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے۔
جب اس کی وبا ہوتی ہے اس میں تیز بخار، سوجے ہوئے پر درد غدود سے ہوسکتی ہے ۔ ان مرض سے بیماروں کی بھوک ختم ہو جاتی ہے مگر پیاس کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تشخیص کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو اسے ہسپتال میںالگ تھلگ کمرے میں رکھا جائے۔ مریض بستر میں الگ تھلگ آرام کرے، اگر بخار تیز ہے تو عام پانی سےب خار اتارا جائے۔ غدود کو ٹھنڈے تھیلے سے ٹھنڈک پہنچائی جاگے۔ اگر غدود میں پیپ پڑ گئی ہے تو ان کی صفائی اورپیپ کا اخراج ضروری ہے۔ درد کمر کے لیے گرم ٹکور کریں، گردوں کو صحیح رکھنے کیلئے خوب پانی پلائیں، غذا میں دودھ اور شوربہ وغیرہ ہو۔
2۔ طاعونی نمونیہ
یہ انتہائی متعدد ی اور چھوت سے لگنے والا مرض ہے۔ یہ ایک شخص کے سانس سے دوسرے کول گتا ہے۔ مریض کے سانس میں نہ دکھائی دینے والے قطرے، کھانسنے، چھینکنے اور زور سے بولنے کے دوران نکلتے ہیں اور یہ جراثیم دوسرے شخص کے سانس کے ساتھ اندر جاسکتے ہیں اور پھیپھڑوں کو مبتلائے آزار کرتے ہیں جن کا اثر فوری طور پر چند گھنٹوں میں ہوسکتا ہے۔ خاک میں ملے ہوئے جراثیم بھی پھیپھڑوں میں داخل ہوکر مبتلائے مرض کر سکتے ہیں۔ اس کی علامات و آثار عام نمونیہ کی طرح ہوتی ہیں۔ جن میں بخار، لرزہ، درد سرد، رفتار نبض تیز اور کھانسی شامل ہیں۔ بلغم شروع میں سفیدی کی طرح بعد میں خونی ہو جاتی ہے۔ سانس کی نالی سوجی ہوئی خون آلود، پھیپھڑوں میں سوجن اور نمونیہ ہوتا ہے ہاتھ پاﺅں نیلے ہوسکتے ہیں۔ مریض ہذیانی ہو کر چند گھنٹوں سے لے کر تین دن کے اندر انتقال کر سکتے ہیں علاج میں نہایت جلدی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کا علاج رپورٹوں کے انتظام کے بغیر شروع کرایا جائے یہ نہ ہو کہیں دیر ہو جائے۔ جب تشخیص مرض ہو جائے تو بیمارکو متعدی امراض کے ہسپتال میں داخل کیا جائے اور تمام احتیاطی تدابیر کو اپنا یا جائے۔ مکمل آرام ہو ورنہ دل کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
مرض کا تدارک اور سدباب
اس مرض کے پھیلنے میں افلاس، گنجان آبادی، بے روشن دان مکان نمی اور ٹھنڈک معاون ہیں۔ اس مرض سے بچنے کیلئے چوہوں اور پسوں سے نجات ضروری ہے۔ جن افراد کو اس کا خطرہ ہے وہ اس کی ویکسین ضرور لوائیں۔جب بھی حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا اس طرح کے امراض کو امکان ہوا ہے۔ 15ویں اور 16ویں صدی میں جب لندن اور پیرس کی آبادی میں اضافہ ہوا تھا صفائی کا کوئی اہتمام نہیں تھا اور اسی سبب سے عہد و سطی میں نہایت تباہ کاریاں ہوئیں۔
جہاں پر گلیوں میں سڑا ہوا پانی بہہ رہے اور جانوروں کی لاشیں سڑ رہی ہیں یہاں کے مزدوروں کے لیے نہ علا ج ہے نہ مشورہ صحت نہ ان کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولت اور نہ کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا اہتمام وہاں کی صورتحال خطرناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  طبی معلومات

سید اسلم

کیٹاگری میں : صحت