hateem

حطیم اور مطاف کا بیان

EjazNews

حطیم ایک چھوٹا سا حصہ بیت اللہ سے الگ ہے گویا بیت اللہ شریف کا یہ صحن ہے۔ یہ حصہ بیت اللہ میں داخل تھا حلال کی کمائی کے کم ہونے کی وجہ سے قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کے وقت اس حصہ کو چھوڑ دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ خیال تھا کہ اس حصہ کو بیت اللہ میں شامل کر لیا جائے اور دروازے کو زمین کے برابر کر دیا جائے اور ایک دوسرا دروازہ بھی بنایا جائے جس سے آمدو رفت میں آسانی ہو لیکن خاص مصلحت کی بنا پر یہ آرزو پوری نہیں فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے اپنے خلافت کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کی منشا کے مطابق کر دیا تھامگر حجاج بن یوسف نے اس کو منہدم کرکے اصلی و ضع قائم کر دیا جوآج تک اسی طرح ہے اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ بیت اللہ شریف کا کچھ حصہ ہر وقت کھلا رہے تاکہ بیت اللہ میں داخل ہونے والوں کے لئے سہولت ہو۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے بیت اللہ میں داخل ہونے اور نماز پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم کے اندر داخل کر کے فرمایا: تم بیت اللہ کے اندر داخل ہونا چاہتی ہو تو اس میں داخل ہو کر نماز پڑھو۔ یہ حصہ بیت اللہ میں داخل ہے۔(ابو داﺅد)
طواف کرتے وقت بیت اللہ کے ساتھ اس حطیم کا بھی طواف ہوتا ہے اس کی وہی فضیلت ہے جو بیت اللہ کی فضیلت ہے۔
مطاف
بیت اللہ شریف کے کنارے کنارے طواف کرنے کی جگہ کو مطاف کہتے ہیں اس کی شکل تقریباً بیضوی ہے۔ اس کا طول شمالاً و جنوباً 5-5گز اور عرض شرقاً و غرباً 45گز ہے ایک چکر ایک سو بیس گز کا ہوتا ہے۔ پورے ایک طواف میں 480گز کا چکر لگایا جاتا ہے۔
8ہجری سے لے کر آج تک صرف جماعت کے وقت مطاف طواف سے خالی رہتا ہے ۔ ورنہ رات دن میں اور کسی وقت طواف سے خالی نہیں رہتا۔ طواف کی فضیلت آگے بیان کریں گے۔ انشاءاللہ۔

یہ بھی پڑھیں:  فرشتوں اور نبیوں کا حج