bila khan

کیادارالحکومت غیر محفوظ ہے؟

EjazNews

وفاقی دارالحکومت اسلام آبا د میںاسلامک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 21سالہ طالب علم محمد بلال خان کو قتل کر دیا گیا ہے۔ محمد بلال یوٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر پر بڑے ایکٹو تھے۔ مذہبی رنگ میں رنگے بلال کے یوٹیوب پر 48ہزار فیس بک پر 22ہزار اور ٹویٹر پر 16ہزار فالور ز تھے۔ وہ اپنے ان سوشل اکائونٹس پر سیاسی اور مذہبی باتیں کیا کرتے تھے۔ اگر ان کی ہم پوسٹوں کا جائزہ لیں تو ان میں بہت زیادہ تعداد مذہبی ہے نہ کہ سیاسی ۔ بلال خان کو نامعلوم شخص نے فون کر کے اسلام آباد کے ایک مقام پر بلایا گیا جہاں بلال کے ساتھ ان کا دوست احتشام بھی تھا ۔ بلال اور اس کےدوست پر چاقو سے حملہ کیا گیا جس سے بلال تو ہسپتال میں دم توڑ گئے لیکن ان کے دوستزخمی حالت میں ہسپتال میں موجود ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ ان کی حالت تشویشناک ہے۔
سوشل میڈیا پر جسٹس فار محمد بلال کے نام سے ہیش ٹیگ چل رہا ہے جس میں ان کیلئے انصاف مانگا جارہا ہے ۔بلال کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے مقدمے کے مطابق ان پر 17وارز کیے گئے تھے۔
اب بلال کے ساتھ کیا ہوا اس کا ایک چشم دید گواہ بھی موجود ہے جس کی حالت تشویشناک ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے اور وہ اس سارے معاملے میں حقائق کو دنیا کے سامنے لائیں۔ دوسری جانب ایک دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کو فون کر کے بلایا گیا تھا اب جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے ان کا فون پولیس کے قبضہ میں ہے اس کا پتہ لگانا شاید بہت مشکل کام نہیں کہ اسلام آبا د کے کس سگنل سٹیشن سے وہ کال گئی تھی۔
اسلام آباد میں اس طرح سے قتل و غارت کی وارداتیں ہو رہی ہیں کہ جیسے اسلا م آباد غیر محفوظ جگہ ہے ۔ پچھلے دنوں ایک بچے کے ساتھ ریپ کر کے اس کی لاش کو بھی اسلام آباد کے ویرانوں میں پھینکا گیا تھا۔ اور اب محمد بلال ۔حکومت دارالحکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اس سمت میں زیادہ کوشش کرے۔

یہ بھی پڑھیں:  لگتا ایسا ہے کہ ن لیگ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ملک کو عالمی سطح پر شرمندہ کرے:وزیراطلاعات