aconime

کیا حکومت بجٹ منظور کرانے میں کامیاب ہو گی؟

EjazNews

اپوزیشن کی جانب سے گزشتہ روز مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہوئی جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ یہ عوام دشمن بجٹ ہے اس کو منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ساری اپوزیشن اس بجٹ کیخلاف ہو گئی ہے کہ یہ بجٹ ہم منظور نہیں ہونے دیں گے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں بجٹ منظوری روکنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری، سعد رفیقاور دیگر اسیران کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے رات کے دوسرے پہر میں قوم سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے پانے خطاب میں دھمکیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی لا کر پی ٹی آئی کی حکومت غریبوں کا خون کیا، ہماری حکومت آئی تو مہنگائی 12فیصد تھی۔ ہم تین فیصد پر لے کر آئے۔ لیکن اس تقریر کے دوران شدید نعرے بازی ہوئی اور پارلیمنٹ ہائوس کی بجائے یہ کوئی اور جگہ ہی لگنے لگ پڑی۔
دوسری جانب حکومت کیلئے یہ ایک بڑا چیلنج پیدا ہوگیا کیونکہ یہ حکومت کا پہلا بجٹ ہے۔ اب اپنا پہلا بجٹ پاس کرنا حکومت کیلئے چیلنجنگ صورتحال میں بدل گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے ان کے چیمبر میں وزراء اور سینیٹرز نے ملاقات کی جس میں ممکنہ احتجاج سے متعلق مشاورت کی گئی اور قانون سازی سے متعلق امور خصوصاً بجٹ تجاویز سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔
معاون خصوصی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اظہار خیال کیا ہے کہ سپیکر چیمبر کے باہر شور شرابہ کر کے جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ورغلانے سے عوام باہر نہیں آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا آج سیاسی ریلو کٹے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ عوامی عدالت سے مسترد ہونے والے ادھار کی آکسیجن پر چل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ذات پر حملہ کرنے والے سن لین دنیا ان کے نام کی عزت کرتی ہے، فخر ے اس جماعت اور ملک کو عمران خان جیسا لیڈر ملا۔
خواجہ آصف نے اجلاس کے ختم ہونے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ نواز شریف اور شاہد خاقان دور کے افراد کو حکومت میں لے آئے مگر پورٹ فولیو سے غلطیاں ختم نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اجلاس دوبارہ ہنگامہ آرام ئی کی وجہ سے ختم ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  ناردرن نے ایم سی سی کو 9رنز سے شکست دے دی

بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ اس بجٹ کو کسی صورت میں پاس نہیں ہونے دیں گے۔یہ بجٹ آئی ایم ایف کا ہے اس کے حکم سے بنایا گیا ہے۔ مولاا فضل الرحمن کہتے ہیں اب بجٹ کے پاس ہونے کے بعد عوام بجلی ، گیس کے بل دینے کے قابل نہیں رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ ملک اور عوام دشمن ہے۔