kargistn-1

7سوانسانی قیدیوں میں ایک جانور قیدی

EjazNews

کرغستان کی عدالت کا ایک فیصلہ سامنے آیا جس کے مطابق 36سالہ مادہ بھالو کو انسانوں کی جیل میں قید کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اکاتیر ینا عرف کاتیا نامی بھالو کو انسانوں پر حملہ کرنے کے جرم میں عمرقید کی سزا سنائی تھی۔ کاتیا پر الزام تھا کہ اس نے 2004ء میں ایک 11سالہ بچے پر اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ کاتیا کو کھانا کھلانے کے لیے پنجرے کے قریب گیا تھا۔ کاتیا نے بچے کی ٹانگ پکڑ لی تھی جس کے نتیجے میں بچہ شدید زخمی ہو گیا تھا اور اسے ٹانگ پر شدید زخم آئے تھے۔دوسرے شخص جس پر حملہ کیا گیا تھا وہ 28سالہ شخص تھا جس نے نشے کی حالت میں پنجرے میں ہاتھ ڈالا تھا۔
ان دو واقعات کے بعد انتظامیہ نے بھالو کو کسی اور جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم کسی بھی چڑیا گھر کی انتظامیہ یا جنگلی جانوروں کی دیکھ بھال کرنے و الے ادارے نے کاتیا کو پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے باعث انسانوں کی جیل میں 7سو قیدیوں کےد رمیان کاتیا کو بھی قید کرنا پڑا۔کاتیاپینل کالونی کی واحد جانور قیدی ہے۔ اور اس کی پہچان بھی بن گئی ہیں۔یہاں پر اس کا مجسمہ بھی بنا دیا گیا ہے۔اور اپنے قیدیوں سے ملنے والے اس مادہ بھالو سے بھی ملتے ہیں ۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قیدیوں کے اہل خانہ کاتیاکے لیے مختلف اقسام کے کھانے لاتے ہیں جبکہ کاتیا مسکرا کر قیدیوں کے اہلخانہ کا استقبال کرتی ہے۔اس مادہ بھالو کو جیل انتظامیہ کی جانب سے خصوصی طورپر تیارکیے گئے بیرک میں رکھا گیا ہے جس کے ایک حصے میں کاتیا کے لیے پانی کا تالاب بھی بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لالچی سیٹھ اور مظلوم کی آہ