social media

سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی طرف آئیے

EjazNews

دنیا سکڑکر ’’گلوبل ویلیج ‘‘بن گئی ہے، یہ دنیا وژیول ورلڈ میں تبدیل ہوگئی ہے۔‘‘ یہ اور ان جیسے کئی جملے چند برس پہلے تک افسانوی معلوم ہوتے تھے، مگر آج حقیقت کا رُوپ دھار چکے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی نے حقیقتاً ہماری دنیا کو گلوبل ویلیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ نقل و حمل کا مسئلہ ہویا مواصلات کا، چند لمحوں میں خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچ جاتی ہے۔ سالوں کی مسافت گھنٹوں میں طے ہوجاتی ہے۔ پہلے جو کام کئی لوگ مل کر کرتے تھے، آج ایک مشین لمحوں میں انجام دے دیتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نےجہاں بہت سےمسائل حل اور فاصلے کم کر دئیے ، وہاں بدقسمتی سے کئی اخلاقی، معاشرتی، خاندانی، فکری اور تربیتی خرابیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ٹیکنالوجی جوں جوں ترقی کرتی جا رہی ہے، ویسے ویسے اخلاقیات، محبّت ، شرافت ،دیانت، ادب و احترام ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اس دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک شخص کے ہزاروں دوست ہوتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں کوئی ایک شخص بھی اس کے جاننے والا نہیں ہوتا۔
شاید اسٹیو جابز کو اندازہ بھی نہ ہوگا کہ اس کی ایجاد کردہ اینڈرائڈ ٹیکنالوجی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کی بنیاد بنےگی اور شاید مارک زکربرگ نے بھی کبھی نہ سوچا ہوگا کہ اس کی ایجاد کردہ فیس بک کس طرح لوگوں کی زندگی کا لازمی حصّہ بن جائے گی۔ کیسے ایک ’’سنگل ٹچ‘‘ سے میلوں دُور بیٹھا دوست قریب اوربرابر میں بیٹھا بھائی دُور ہوجائے گا۔ اینڈرائیڈ فون اور سوشل میڈیا کے استعمال کا یہ عالم ہے کہ چاہے ہمارے مُلک میں شرح خواندگی پچاس فیصد سے زیادہ نہ ہو،مگر کم و بیش ہر دوسرےشہری کے ہاتھ میں اینڈرائیڈ فون ہےاوروہ سوشل میڈیا پر سر گرم نظر آتا ہے۔ جہاں وہ پوری آزادی کے ساتھ سیاست سے لے کر کھیلوں تک ہر موضوع پر اپنے خیالا ت کا اظہار کرتا ہے ۔ لیکن ہر ٹیکنالوجی کے جہاں کچھ فوائد ہوتے ہیں، وہیں اس کے نقصانات سےبھی معاشرہ محفوظ نہیں رہ پاتا۔ جبکہ ہمارے مُلک میں توکسی بھی نئی ٹیکنالوجی کا بنا سوچے سمجھےاس حد تک استعمال کیا جاتا ہے کہ اُ س کا مقصد ایجاد ہی فوت ہو جاتا ہے۔فیس بک ہی کی مثال لے لیجیے، اگر اس کا مثبت استعمال کیا جائے، تویہ آگہی سمیت مختلف معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز اُٹھانے اور انقلاب لانے کا بھی باعث بن سکتا ہے، لیکن ہماری نسل نو کی اکثریت نے اسےمحض ’’ڈیٹنگ سائٹ‘‘بنا کررکھ دیاہے۔ کلاس رومز میں ہوں یا گھر پر فضول سٹیٹس، تصاویر اپ لوڈ کرکے یابےجا کمنٹنگ میں گھنٹوں بربا د کر دیتے ہیں۔ اگرچہ کچھ نوجوان واقعتاً اس کاتعمیری استعمال بھی کرتے ہیں،لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
سوشل میڈیا کے منفی اثرات گھر والوں سے دُوری، رنجش، حسد، جلن اور احساس محرومی کی صورت میں نمایاں ہو رہے ہیں۔گھروں کی چاردیواری کی حرمت بھی پامال ہوتی نظر آ رہی ہے، زیادہ پرانی بات نہیں کہ خط و کتابت موبائل فونز، ای میلز، فیس بک کے بجائےبذریعہ ڈاک کی جاتی تھی۔ خط لکھنے کے لیے بھی بہت اہتمام کیا جاتا، جیسےکچھ لوگ خُوشبو والے قلم سے لکھتے، تو کوئی خُوبصورت کاغذ کا چناؤ کرتا، الفاظ و بیان، لب و لہجہ ، املا وغیرہ کا خاص خیال رکھاجاتا تھااوردو تین دن بعد جب خط متعلقہ فرد تک پہنچتا ، تو وہ بھی اسے ہر کام سے فارغ ہوکر سکون سے پڑھتا ۔اس طرح رشتوں میں محبّت، ادب و احترام بھی قائم رہتااور ذاتی باتوں، مسائل کی تشہیر بھی نہیں ہوتی تھی۔ٹیکنالوجی ، نئی ایجادات کا مقصد زندگیوں کو آسان بناناہوتا ہے، مگر ہمارے غیر سنجیدہ رویوں نے اس رحمت کو زحمت بنا ڈالا ہے۔ دیگر ترقّی پذیر ممالک کے باسی بالخصوص نوجوان جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے ذریعے شعور و آگہی پھیلانے میں مصروف عمل ہیں، جبکہ پاکستانی عوام کو کھانوں، ہوٹلوںوغیرہ کی تصاویر اپ لوڈ کرنےاور ٹک ٹوک ہی سے فرصت نہیں۔ یہاں ترقی کرنے کا خواب تو ہر کوئی دیکھتا ہے، لیکن محنت کرنے کے لیے کوئی تیّار نہیں۔ اور یہی سے خرابیوں کی ابتدا شروع ہوتی ہے۔ آپ محنت سے جی نہ چرائیں بلکہ اس کےمثبت استعمال کی طرف توجہ دیں یہ سوشل میڈیا بڑے کام کی چیز ہے بس اپنے ذہن کو لڑائیں کہ آپ اس کا مثبت استعمال کس طرح کر سکتے ہیں ۔
آپ کو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی ایک مثال دیتا ہوں میرے گھر کا اے سی رات کے وقت کام کرنا بند ہوگیا ۔ اب رات کا ٹائم تھا اس وقت کس مکینک کو ڈھونڈیں خود مکینک بننے کی کوشش کی کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ خیال آیا یوٹیوب پر اس مسئلے کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ میں نے اے سی کو جو مسئلہ تھا وہ میں نے یوٹیوب پر لکھا آپ یقین کیجئے غیر ملکی کئی ویڈیو اس مسئلے سے متعلق میرے سامنے آگئیں ۔ میں نے وہاں سے اس کو سنا اور پڑھا اس کے بعد جو جو ہدایات دی گئیں تھیں اس کے مطابق میں نے اے سی کے ساتھ کیا اور میرا اے سی ٹھیک ہوگیا اور رات میں نے اپنے بچوں کےساتھ سکو ن کے ساتھ بسر کی۔
اسی طرح کا ایک واقعہ مجھے میرے ایک دوست نے بتایا کہ اس کی طبیعت خراب ہو رہی تھی اس کو دل کا عارضہ تھا سمجھ میں کچھ آنہیں رہا تھا ۔ اس کو ایک ویب سائٹ کا پتہ تھا جس میں ہیلتھ کے آرٹیکل تھے اس نے وہاں پر جا کر اس آرٹیکل کو پڑھا کہ اچانک میری طبیعت خراب ہونے کی وجہ ہے جب علامات کا جائزہ لیا گیا تو وہ صرف گیس کا مسئلہ تھا ۔ متعلقہ آرٹیکل میں اس سے نجات کیلئے جو ہدایات دی تھیں ان پر عمل کیا تو طبیعت میں بہتری آگئی ۔
اس لیے اس ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی طرف توجہ دیجئے کہ کس طرح آپ دوسروں کیلئے مفید بن سکتے ہیں اور دوسرے آپ کیلئے بہتری کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بیوروکریسی کا پاکستان میں کردار

عبدالرحمن