jewllery

زیورات کا انتخاب شخصیت کے مطابق کیجئے

EjazNews

وقت کے ساتھ ساتھ ہماری روایات، ثقافت، سماجی ضروریات رہن سہن غرض ہر چیز میں تبدیلی آئی ہے عورت کے سج دھج کا معاملہ بھی اس تبدیلی سے گزرے بغیر نہیں رہ سکا۔ اگرچہ کہاجاتا ہے کہ ”نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی“ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس خوبی کو خوب تر بنانے میں میک اپ، لباس اورزیورات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمارے پاس اس وقت ایسے کئی زیورات موجود ہیں جنہیں روایت اور جدت کا حسین امتزاج کہا جاسکتا ہے۔ سولہ سنگھار بھی گئے وقتوں کی بات ہو گئی ہے اب تو سولہ سے کہیں زیادہ سنگھار بازار میں دستیاب ہیں اس میں شک نہیں کہ زیورات قدیم زمانے ہی سے خواتین میں بہت مقبول رہے ہیں اور خواتین خود کو سونے سے آراستہ کرتی آئی ہیں۔ لیکن زیورات کی جو شکلیں یاق سمیں موجودہ دور میں نظر آرہی ہیں شاید ہی اس سے پہلے کبھی بنائی گئی ہوں۔
زیورات سے خواتین کے لگاﺅ کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ اگر قیمتی دھاتوں کے زیور میسر نہ ہوں تو وہ مصنوعی زیورات سے خود کو سجا بنالیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک تصور یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو چیز جتنی پرانی ہو اتنی ہی اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ آج کل ہر طرف اینٹیک (Antique) کا رواج ہے چنانچہ بازاروں میں مشینوں کے ذریعے تیار کر دہ زیورات کے مقابلے میں مذکورہ زیورات اپنی انفرادیت کی وجہ سے بہت جلد خواتین میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اصلی زیورات (سونے کے) اپنی قیمت کی وجہ سے خاص طبقے کی خواتین تک محدود رہتے ہیں ہر کوئی انہیں خریدنے کی سکت نہیں رکتھا۔ اس کے علاوہ سونے کے زیورات خاص تقاریب اور ملبوسات کے ساتھ ہی پہنے جاسکتے ہیں جبکہ مصنوعی زیورات یا ایمیٹیشن زیورات عموماً پیتل، تانبے یا اسٹیل وغیرہ کے ہوتے ہیں جن کو سونے اور چاندی کا ملمع چڑھا کرس نہرا اور سرمئی بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اب اپنا فیشئل آپ کرلیں
آپ زیورات جیسے مرضی خریدیں لیکن اپنی شخصیت کو مدنظر رکھیں

آج کل بازار سے ان مصنوعی زیورات کا بہت چرچا ہے یہ عام طور پر چار مختلف رنگوں میں دستیاب ہیں ،ب عض سنہری سرمئی، گہری سرمئی اور سرخی مائل کتھئی رنگوں میں ملتے ہیں یہ زیورات دیکھنے میں بھی اچھے لگتے ہیں اور زیادہ بھاری بھی نہیں ہوتے ۔ سونے کے زیورات کی طرح مصنوعی زیورات کو بھی مزید خوبصورت اور دلفریب بنانے کے لئے نگینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ سونے کے زیورات میں اصلی نگینے بھی جڑے جاتے ہیں ۔ مانگ یاقوت کی جگہ چیتم (ایمیٹیشن نگ) پنایا زمرد کی جگہ اونکس (ایمیٹینشن نگ)لگانے کا بھی فیشن ہے۔
فی زمانہ جسم کے ہر حصے کیلئے ایک زیور موجود ہے زیور خریداری کرتے وقت لباس، موسم اور چہرے کی ساخت کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے اسی طرح زیورات تقریب کی نوعیت کے اعتبار سے بھی پہنے جاتے ہیں گھریلو تقریبات میں اپنے لباس کی مناسبت سے ہلکے پھلکے زیورات کا انتخاب کریں۔ بلاوجہ زیادہ بھاری زیورات پہننے سے آپ کی شخصیتدب کر رہ جاتی ہے یہ زیورات چاہے سونے کے ہوں یا ایمیٹیشن زیورات ہوں دونوں کے لئے تقریب کی نوعیت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
زیورات عام طور پر کان ناک گردن سر کمر اورپ اﺅں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ دفتر، رسمی تقریبات اور گیٹ ٹو گیدر پارٹیوں میں ہلکے زیورات ہی ٹھیک رہتے ہیں موتی اور دیگر قیمتی پتھر سے مزین زیورات شادی وغیرہ کی تقریب میں پہنیں ۔ ہیرا ہر کسی پر اچھا نہیں لگتا اس لئے خریدتے وقت اپنی شخصیت پر تنقیدی نظر ضرور ڈالیں ۔ گھر پر ہر وقت سونے کے زیورات پہنے رکھنا ٹھیک نہیں اس سے ان کی چمک ماند پڑ جاتی ہے اگر آپ کی گردن چھوٹی ہے یا بھاری ہے تو نیکلس یا چھوٹی چین نہ پہنچیں بلکہ اس کے لئے لمبی چین پہنیں۔ اس کے علاوہ ان کے استعمال میں اپنی عمر کا بھی خیال رکھیں بہت زیادہ یا بھاری زیورات پہن کر لوگوں کیتوجہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں ورنہ آپ کرسمس ٹری دکھائی دیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  آنکھوں کی قدر کیجئے
بعض اوقات مہنگے زیورات کی بجائے ایک چھوٹی سی بالی بھی آپ کے حسن کو چار چاند لگا دیتی ہے