خاموشی سے اولاد پر جوانی، خواہشات، جذبات، پیسے لوٹا کر باپ بنا جاتا ہے

EjazNews

کہتے ہیں والد کا وجود ایک گھنٹے پیرڑ کی مانند ہوتا ہے۔جو سخت دھوپ میں بھی اپنے اہل و عیات کو ٹھنڈ ا سایہ فراہم کرتا ہے ہمارے دین میں والد کو جنت کے دروازے سے تشبیہ دی گئی ہے تو تہذیب و ثقافت میں عظمت کا مظہرہ قرار دیا گیا ہے۔ باپ اولاد کی تربیت سے کبھی غفلت کا مرتکب نہیں ہوسکتا اس کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرے۔اوریہ بھی سچ ہے کہ اسی اولاد کی محبت بھری نظریں یک دم اسے ترو تازہ کر دیتی ہیں اور زندگی ایک لہلہاتا چمن معلوم ہونے لگتی ہے، تو اس سے بھی انکار نہیں کہ باپ کا وجود اولاد کے لیے زندگی کی چھائوں کے ساتھ ایک مضبوط حصار ہوتا ہے۔ جس کی پناہ میں آکر زمانے کے دئیے ہوئے صدموں کا معمولی سا احساس بھی نہیں رہتا، یہ انمول رشتہ صدا موسموں کے سرگرد گرم سے بے نیاز رہتا ہے۔ باپ کی چاہتوں، شفقتوں، محبتوں کو اولاد کیلئے یاد دلانے کا دن فادر ڈےہے ورنہ باپ کوئی مخصوص دن پر یاد کیے جانے والا رشتہ نہیں کہ وہ تو اولاد کے لیے ہر لمحہ محبتوں اور چاہتوں سے لب ریز رشتہ ہے۔
اگر مغرب کی بات کی جائے تو وہاں اولڈ ایج ہومز بڑی تعداد میں ہیں اور ان میں والدین کی بڑی تعداد ہوتی ہےاور ہر اولاد جانتی ہے کہ بوڑھا ہو کر اس نے وہی پر آنا ہے اس لیے وہاں پر اس دن سماں ہی کچھ اور ہوتا ہے وہاں پر اولاد اپنی مصروف زندگی میں سے جون کے اس تیسرے ہفتے میں ٹائم نکال کر والدین سے ملنے آتی ہے۔ اور وہاں کے رہن سہن کے مطابق ہی تحفے تحائف دئیے جاتے ہیں۔ یہ اولڈ ایج ہوم بہت برے چیز بھی نہیں ہیں کیونکہ ہمارے ہاں ضعیف العمری میں جب اولاد اپنے والدین کا خیال نہیں رکھ پاتی تو شاندار زندگی گزارنے والے والدین کا بڑھاپا کس کسمپرسی میں گزرتا ہے ان کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔لیکن اس کے باوجود شکر کی کیفیت ہے کہ ہمارے ہاں حالات اتنے سنگین اور بے حسی سے نہیں بھرے۔ہمارا مشرقی معاشرہ بالکل مختلف ہے۔ ہمارے گھروں میں دادا ،دادی، نانا ،نانی کے دم سے روشن و منور اور بہت پررونق ہوتے ہیں۔ ہمارا دین تو اتنا پیارا ہے کہ اس میں بوڑھے والدین کے لیے محض ایک دن مقر نہیں کیا گیا بلکہ ان کے ساتھ ہر روز بالخصوص بڑھاپے میں بھلائی کا حکم دیا گیا انہیں خود سے دور نہیں اپنے پاس اپنے ساتھ رکھنے کی تلقین کی گئی۔
حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور شکایت کی کہ یارسول اللہ ﷺ’’میرا باپ میری ذاتی کمائی کو میری رضا مندی کے بغیر خرچ کر دیتا ہے۔ نبی ﷺ نے ایک شخص کوبھیجا کہ اس کے باپ کو بلا کر لائو ۔ جب باپ کو معلوم ہوا کہ بیٹے نے بارگاہ نبویﷺ میں اس کی شکایت کی ہے تو سخت رنجیدہ ہوا اور راستے میں غم کے عالم میں دل ہی دل میں اشعار کہے۔ اس سے قبل کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا ہے، اللہ رب العزت کے ہاں سے جبرئیل ؑ وحی لے آئے اور نبی کریم ﷺ کو اس بات کی خبر دی۔ جب وہ شخص حضور نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اسے وہ اشعار سنانے کا حکم دیا جو اس نے راستے میں اپنے دل میں کہے تھے۔ بوڑھا شخص حیران رہ گیا اور بولا ۔ ’’بے شک آپ ﷺ سچے رسول ہیں اور اللہ بڑی قدرت والا ہے کہ اس نے میرے وہ الفاظ بھی سن لیے جو اب تک میری زبان سے ادا بھی نہیں ہوئے ‘‘۔ اس کے بعد اس نے اشعار سنائے
ترجمہ: اے میرے بیٹے! جس دن تو پیدا ہوا، میں نے اپنے لیے جینا چھوڑ دیا اور اپنی زندگی تیرے نام کر دی۔ تیرے لیے سردوگرم موسموں کی شدتوں سے لڑا، حالات کے فولادی جبڑو ں سے رزق نکالا ، خود بھوکا رہا، تجھے کھلایا، تجھے پروان چڑھانے کے لیے اپنی جوانی اورصحت برباد کر ڈالی ۔ اپنے جذبات کو روند ڈالا، خواہشات کو کچل دیا، تو بیمار ہوتا تو میں تیرے مر جانے کے خوف سے ساری ساری رات تیری خبری گیری کرتا، حالانکہ خوب جانتا تھا کہ موت کا ایک دن معین ہے پھر بھی روتا رہتا۔ تیرے ایک ایک سکھ کے لیے میں نے جانے کتنے دکھ جھیلے اوراس حالت میں ایک دو دن نہیں جانے کتنے برس کاٹ۔ وقت گزرا، موسم بیتا تو جوان اور میں بوڑھا ہوتا چلا گیا۔ تو درخت کے تنے کی طرح سیدھا کھڑا ہوگیا اور میری کمر کمان کی طرح جھک گئی تو طاقتور ہو گیا اور میں کمزور، پھر تیرے تیور بدل گئے تو مجھ سے ایسے بات کرتا کہ میرا کلیجہ پھٹ جاتاتو مجھے ایسے مخاطب کرتا جیسے میں تیرا باپ نہیں، تیرا غلام ہوں ۔ میں نے پھر بھی اپنے دل کو سمجھا لیا۔ اپنی ساری حقیقت جھٹلا دی ،مان لیا کہ میں تیرا باپ نہیں، تیرا نوکر ہوں مگر دوست ! نوکر کو بھی لوگ پوچھ لیا کرتےہیں کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ، اتنا خیال تو لوگ پڑوسی کا بھی کر لیتے ہیں تو نوکر سمجھ کر ہی سہی ، پڑوسی سمجھ کر ہی سہی کبھی تو مجھے پوچھ لیتا۔‘‘
تاریخ کے اوراق میں ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ اشعار سن کر اس قدر روئے کہ آنسوئوں سے ریش مبارک بھگو دی۔ آپﷺ نے بوڑھے کے بیٹے کو لباس سے پکڑ کر جھنجوڑا اور فرمایا ’’تو اپنے باپ پر مقدمہ کرتا ہے ! چلا جا یہاں سے ، تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے اور یوں قیامت تک کے لیے فیصلہ ہو گیا کہ مسلمان فرزندان کے لیے اس کا ہر ڈے، فادر ز ڈے ہے۔
دنیا کا ہر باپ فطری طور پر اپنے بچوں کےلیے رول ماڈل اور ہیرو کا درجہ رکھتا ہے۔باپ اولاد سے کچھ نہیں مانگتا بلکہ وہ تو ان کی ترقی دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔ ان کی خوشی میں اس کی خوشی ہوتی ہے۔ لیکن نادانوں کو کیسے سمجھائوں کہ ان آنکھوں سے نکلنے والے آنسو شاید عرش کو بھی ہلا دیتے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  تحریک آزادی کشمیر : حقائق اور تقاضے