ملتزم

ملتزم

EjazNews

حجر اسود اوربیت اللہ شریف کے دروازے کے درمیان کی جگہ کا نام ملتزم ہے اس کے معنی چمٹنے کی جگہ کے ہیں یہاں پر کھڑے ہو کر اور دونوں ہاتھ پھیلا کر خانہ کعبہ کی دیوار کو چمٹ کر یہاں دعا قبول ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ترجمہ: ملتزم اس جگہ کا نام ہے جہاں دُعا قبول کی جاتی ہے جو بندہ وہاں دعا کرے گا اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آفت و مصیبت زدہ یہاں پر دعا مانگے گا وہ عافیت پائے گا۔ (ابن ماجہ، ابو داﺅد، مجمع الزوائد)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اس جگہ کھڑے ہو کر اپنے سینے اور چہرے کو دیوار سے چمٹا دیا اور دونوں ہاتھوں کو دیوار پر پھیلا دیا اور یہ فرمایا رسول اللہ ﷺ کو اس جگہ اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (ابو داﺅد )
ازرتی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں ، حضرت آدم علیہ السلام نے مکہ میں تشریف لا کر اول بیت اللہ کا طواف کیا پھر دو رکعت کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اس کے بعد ملتزم پر پہنچ کر یہ دعا کی:
ترجمہ: اے اللہ تو میری ظاہر و باطن سے واقف ہے میرے عذر کو قبول کر میریے دل میں اور میرےپ اس جو کچھ ہے تو اس سے بھی آگاہ ہے تو میرے گناہوں کو بخش دے تو میری حاجت کو جانتا ہے۔ طالب ہوں جو میرے قلب میں جاگزیں ہو اور یقین صادق کا خواستگار ہوں تاکہ مجھ کو اس امر کا کامل اطمینان حاصل ہو جائے کہ جو کچھ مجھ کو پہنچتا ہے وہ وہی ہے جو تو نے میری تقدیر میں لکھ دیا اور جو فیصلہ تو نے میری نسبت کیا ہے میں اس پر ہر طرح راضی ہوں۔
حضرت آدم علیہ السلام اس دعاسے فارغ ہو ئے تھے کہ وحی الٰہی نازل ہوئی اور رب کریم کا یہ ارشاد پہنچا۔ آدم میں نے تیرے گناہوں کو بخش دیا اور تیری اولاد میں سے جو شخص تیرے ان الفاظ میں مجھ سے دعا کرے گا میں اس کے رنج و غم کو دور کر وں گا اور اس کی گمشدہ شے کا بدل دوں گا اس کے قلب سے فقر کو نکال کر غنی اس کے دل میں بھر دوں گا۔ تجارت پیشہ شخص کی تجارت میں برکت دوں گا۔ وہ دنیا سے بے پرواہ ہو گا اور دنیا اس کے قدموں پر ہو گی۔ (طبرانی، بیہقی، ابن عساکر ، مناسک ، علی القار)
علامہ نووی فرماتے ہیں اس دعا کو ملتزم میں پڑھنا چاہئے اس کے بعد جو چاہے طلب کرے:
ترجمہ: اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے میں تیری وہ تعیرف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا شکریہ ہو اور اس شکریہ پر جو زیادہ دے اس کا بدلہ ہو پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ان خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں غرضیکہ ہر حال میں ہر آن میں تیری ہی تعریف کرتا ہوں اے سلامتی والے خدا! تو اپنے حبیب محمد ﷺ اور آپ کی آل و اولاد بیوی بچے داماد اور ہر تابعدار پر رحمت و سلام بھیج اے زبردست خدا ! تو مجھ کو شیطان اور ہر برائی سے پناہ میں رکھ اور جو کچھ تو نے مجھ کو دیا ہے اس پر قناعت دے اور برکت عطا کرے اے تمام مخلوق کے بادشاہ ! تو مجھ کو بہترین مہمانوں میں سے کر اور مرتے دم تک تو مجھ کوسیدھے راستہ پر ثابت قدم رکھ۔ (آمین)

یہ بھی پڑھیں:  فضائل مکہ شریف