رکن یمانی

EjazNews

یہ بیت اللہ کا وہ کونا ہےجو ملک یمن کی جانب واقع ہے۔ اسی لئے اس کو رکن یمانی کہتے ہیں اس کی تعریف رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میںکی ۔ آپﷺ نے فرماتے ہیں
ترجمہ: اے اللہ! میں معافی اور دونوں جہاں میں عافیت طلب کرتا ہوں اے میرے رب تو مجھے دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں نیکی عنایت کر اور آگے کے عذاب سے ہمیں بچا۔(احمد ، نیل، ترغیب)
آپ ﷺ نے فرمایا رکن یمانی پر ستر فرشتے قمرر ہیں جو اس دعا کو پڑھے گا تو یہ فرشتے اس کی دعا پر آمین کہیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ر کن یمانی اور حجر اسود قیامت کے دن اس حال میں آئیں گے کہ ان کی دو آنکھیں ہوں گی زبان اور دو ہونٹ ہوں گے۔ اپنے استسلام کرنے والوں کی شہادت دیں گے۔ (طبرانی ، ترغیب)
اور ایک روایت میں فرمایا:
ترجمہ: یہ اللہ کا داہنا ہاتھ ہے ان سے بندوں سے مصافحہ کرتا ہے۔
آپﷺ نے فرمایا :
ترجمہ: حجر اسود اور رکن یمانی کے چھونے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حجر اسود اور ررکن یمانی کا استلام کبھی نہیں چھوڑا جب سے ہم نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا استیسلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
آپ ﷺ نے فرمایا
ترجمہ: ان کو چھونے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (ترغیب، ترمذی)
ایک روایت میں ہے کہ رکن یمانی قیامت کے دن ابو قیس پہاڑ سے بھی بڑا ہو کرآئے گا۔اس کی زبان ہوگی اور دو ہونٹ ہوں گے۔ (ترغیب، احمد، طبرانی)

یہ بھی پڑھیں:  حج کی فرضیت و شرائط حج