essambly

جن لوگوں نے قوم کو راہ دکھانی ہے انہیں اخلاقیات کون سکھائے گا

EjazNews

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان زیریں کے بجٹ سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے کے تنازع پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اجلاس 2 مرتبہ ملتوی کردیا تھا۔
تیسری مرتبہ شروع ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی لیکن قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایوان میں خاموشی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تقریر کا باقاعدہ آغاز نہیں کرسکے۔
انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے بارہا استدعا کی ہاؤس ان آرڈر کریں اور جو اراکین اسمبلی میں ناموسِ صحابہ کے اہم موضوع پر بات کرنا چاہ رہے ہیں انہیں موقع دیں۔
شہباز شریف کا خطاب شروع ہوتے ہی ارکان اسمبلی نشستوں سے کھڑے ہوگئے، اس دوران حکومتی اراکین نے کہا کہ پوائنٹ آرڈر پر بات کرنی ہے، ڈپٹی سپیکرنے اپوزیشن لیڈرکو مائیک دیا تو اسعدمحمود اور مولانا واسع کھڑے ہوگئے جس پر شہباز شریف تقریر کیے بغیر دوبارہ نشست پر بیٹھ گئے۔اس دوران ڈپٹی سپیکر نے تنبیہ کی کہ ارکان اسمبلی اپنی اپنی نشست پر جاکر بیٹھیں اور شائستگی سے ایوان کو چلنے دیں۔ ڈان نیوز سے لی گئی اس رپورٹ کے مطابق ڈپٹی سپیکر نے احسن اقبال اور حنا ربانی کھر کو ویڈیو بنانے سے روکا اور کہا کہ جو لوگ ویڈیو بنارہے ہیں ان کے موبائل فونز لے لیے جائیں۔
قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے بارہا اصرار پر شہباز شریف نے تقریر نہیں کی کہ جس پر قاسم سوری نے کہا کہ قانون کے مطابق بجٹ سیشن پر بحث کا آغاز قائد حزب اختلاف سے ہوتا ہے، آپ کا مائیک آن ہے، تقریر کیوں نہیں کررہے ہیں میری سمجھ سے باہر ہے۔
شہباز شریف نے جیسے ہی اظہارِ خیال شروع کیا تو اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر شور شرابا شور ہوگیا،انہوں نے کہا کہ کاش یہ اجلاس آج صبح اپنی کارروائی شروع کرتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔
اسمبلی میں اراکین کا شور شرابا جاری رہا، شہباز شریف نے تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ اس شرط پر تقریر کا آغاز کررہا ہوں کہ اس کے بعد مولانا اراکین کو ناموس صحابہ کے اہم موضوع پر بات کا موقع دیا گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کی سب سے زیادہ دھاندلی زیادہ حکومت ہے جس پر حکومتی ارکان کی جانب سے احتجاجا شور شرابا کیا گیا۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دھاندلی زدہ حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا گیا، رواں مالی سال پی ٹی آئی حکومت 2 منی بجٹ لے کر آئی جن کے نتیجے میں معیشت تباہی کا شکار ہوئی ۔
شہباز شریف نے کہا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کے خطاب کے دوران ہم ایسا نہیں کریں، لیڈر آف دی ہاؤس کے آنے پر ہم بھی ایسا کریں گے،ان کا کہنا تھا کہ میں چاہوں گا کہ وزیراعظم تقریر کریں اور ہم انہیں بار بار بیٹھنے پر مجبور کریں۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ 10 ماہ میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی کا پول کھل گیا، جس طریقے سے آج سے کچھ عرصے پہلے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بلند و بانگ دعوے کرتے تھے اور چیخ چیخ کر قوم کو غلط اور بے بنیاد نعرے لگا کر گمراہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔اس دوران اپوزیشن بنچوں میں سے بعض اراکین ناموس صحابہ کے معاملے پر بولنے کی اجازت مانگتے رہے اور ڈپٹی سپیکر شہباز شریف کو اپنی بجٹ تقریر جانے رکھنے پر اصرار کرتے رہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم گزشتہ 45 منٹ سے موجود ہیں اور ڈپٹی سپیکر کا اختیار ہے کہ آپ ایوان کو ان آرڈر کروائیں،انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ مجھے بار بار اٹھانے اور بیٹھا کر میری کمر کا علاج کرارہے ہیں۔
قبل ازیں پی پی پی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو پوائنٹ آف آرڈر پر ڈائس ملنے پر حکومتی اراکن نے شدید احتجاج کیا۔
جب پوائنٹ آف آرڈر کا اعلان کیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے زیر حراست سابق صدر آصف علی زردری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر احتجاج کیا۔سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو خطاب کرنے کا کہا جس شہباز شریف نے راجہ پرویز اشرف کو بات کرنے کا موقع دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔راجہ پرویز اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پارلیمنٹ سے محض 3 کلومیڑ کے فاصلے پر موجود ہیں اور پارلیمنٹ کے اہم اجلاس میں ان کی عدم موجودگی اچھی روایت تصور نہیں کی جائے گی۔اس دوران حکومتی بینچز سے مسلسل احتجاج جاری رہا اور سپیکر قومی اسمبلی ایوان میں نظم و ضبط قائم رکھنے کی ہدایت کرتے رہے۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومتی بینچوں کی جانب سے رویہ درست نہیں ہے، انہیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہے۔ان کا کہنا تھا کہ کنٹینرز دینے کی بات کرنے والے اپوزیشن کو ڈائس ملنے پر آگ بگولہ ہور ہے ہیں۔
اس دوران وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف کی طرح ہمیں بھی آئندہ ڈائس دیا جائے‘۔
اس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ’جس کو ضرورت ہوگی اسے ڈائس دیا جائےگا‘۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے سپیکر قومی اسمبلی سے استدعا کی تھی کہ راجہ پرویز اشرف کو بات کرنے دیں۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما حکومت کی بینجز پر بیٹھ کر مضحکہ خیز باتیں کررہے ہیں، حکومتی رہنماؤں کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیا جائے۔
قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے ایوان کا اجلاس پہلے 10 منٹ کے لیے ملتوی کیا۔جب قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو قومی اسمبلی کا ماحول شور شرابے کی نذر ہوگیا جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس 2 بجے تک ملتوی کردیا۔خیال رہے کہ 10 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا تھا۔ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق آصف زرداری قومی اسمبلی سے اپنی گرفتاری دینا چاہتے تھے تاہم انہوں نے بعد میں اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے زرداری ہاؤس سے ہی گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ:انگلینڈ نے پاکستانی ٹیم کو 42رنز سے شکست دے دی