talpur

تالپور کون ہیں؟ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں

EjazNews

آج کل فریال تالپور کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر پورے پاکستان میں تالپوروں کا نام گونج رہا ہے ۔ آخر تالپور ہیں کون اور سندھ میں ان کا اتنا اثرو رسوخ کیوںہے۔ توا ٓئیے پڑھتے ہیں۔
سندھ میں تالپور خاندان کی حکمرانی کا آغاز کلہوڑا خاندان کو شکست دینے سے ہوا۔ بلوچی نسل تالپوروں نے سندھ کے کلہوڑا حکمرانوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے مگر ابھی وہاں پر شدید تر عدم استحکام تھا کہ کابل کے حکمران تیمور نے تالپوروں کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ انہوں نے بار بار کی جنگ و جدل اور آپس کی لڑائی سے تنگ آکر 1783ءمیں تالپوروں کے حکمران میر فتح علی خان کو عرب گھوڑوں کا تحفہ اور روب آف آنر پیش کی اس کے ساتھ ہی سند حکمرانی بھی عطا کر دی ۔سندحکمرانی عطا ہوتے ہی کلہوڑا خاندان کا سورج سندھ میں غروب ہوگیا اور یوں 1783ءمیں میر فتح علی خان تالپور نے افغان بادشاہ تیمور شاہ کے سر پر ہاتھ رکھے جانے کے بعد سندھ پر اپنی حکمرانی قائم کر لی اور یہ اقتدار 1843ءتک لگ بھگ 60سال جاری رہا۔ جب میانمی کی جنگ میں انگریزوں نے انہیں شکست دے کر ان کا اقتدار چھین لیا۔ تالپوروں نے در حقیقت کئی غلطیاں کیں ۔ ایک تو انہوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی اکائیو ں میں تقسیم کر دیا۔ ان اکائیوں کے لیے اپنا دفاع کرنا مشکل تھا۔پھر وسائل اور افرادی قوت کی کمی آڑے آئی۔ فنی مہارت کا بھی فقدان تھا۔ ماضی کے پہ در پے حملوں کی وجہ سے سندھ پہلے سے ہی بدحالی کا شکار تھا اکبر نے بھی سندھ کو ملتان میں شامل کر کے اسے طور خم کے حکمران مرزا جانب بیگ کے سپرد کر دیا وہ ان دنوں ٹھٹہ ریجن کا بھی حکمران تھامغلوں کا یہ راج 1591ء۔1739ءتک جاری رہا۔ اور اس عرصہ میں مغلوں نے کم از کم 40گورنر تعینات کیے۔ اورنگ زیب کے زمانہ میں داﺅد پوتوں نے اپنی سیاسی ساکھ بنانا شروع کی اور اسی زمانہ میں انہوں نے شکارگاہوں کو ہموار کر کے وہاں شہر شکار پور کی بنیاد رکھی ورنہ یہ گھنا جنگل تھا۔ شاہ جہان نے بھی اسی علاقہ میں پناہ ڈھونڈی تھی جب وہ اپنے باپ کیخلاف بغاوت کر کے ناکامی کے بعد ٹھٹھہ بھاگ نکلا تھا۔
نادر شاہ اور اس کے بعد احمد شاہ ابدالی نے سندھ پر پہ در پے حملے کیے ان حملوں نے سندھ میں مرکزیت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ نادر شاہ نے بالآخر سندھ کو اپنے نظام کا حصہ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ تاہم اسی زمانہ میں داﺅد پوتابرادر ی کی ایک شاخ کلہوڑوں نے زور پکڑنا شروع کیا ان میں نور محمد کلہوڑا سب سے نمایاں تھے۔
ضلع خیر پور کی تاریخ کا آغاز تالپوروں کی حکمرانی سے ہوتا ہے ضلع خیر پور کی بنیاد ہی تالپوروں نے رکھی۔ 1775ءمیں میر بہرام خان کے قتل کے بعد خاندان نے سندھ کے کلہوڑوں کیخلاف بغاوت کر دی اور رفتہ رفتہ انہوں نے ان کا تختہ الٹ دیا۔ 1783ءمیں میر خان تالپور نے بالائی سندھ پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا۔ میر سہراب نے بوروہان کو اپنی حکومت کا مرکز بنایا اس کا نیا نام خیر پور رکھا گیا ۔ 1786ءمیں انہوں نے اپنی حکومت حیدر آباد تک وسیع کر دی اور رفتہ رفتہ حیدر آباد میں قابض افغانیوں کو نکال باہر کیا ۔ 1823ءمیں یہ عمل مکمل ہوا۔ نظم و ضبط کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے میر سہراب خان نے اپنی سلطنت کے تین حصے کیے ۔ اور اپنے تینوں بیٹو ںکو ایک ایک حصے کی حکمرانی سونپ دی ۔سب سے بڑا بیٹا ان تینوں کا امیر بنا۔ اس نے اپنے آپ کو روز مرہ کے معاملات سے الگ کر لیا اور فورٹ آف احمد آباد دجی میں ریٹائرڈ زندگی گزارنے لگا یہاں اس نے اپنے لیے ایک اور شریک حیات چن لی اور امور سلطنت سے الگ ایک نئے خاندان کی پرورش میں لگ گیا جس سے اس کے پوتوں میں بغاوت کی آگ بھڑکی۔ بالخصوص اس کا دوسرا بیٹا مبارک علی باغیانہ انداز میں سوچنے لگا انہی حالات میں 1830ءمیں سہراب کا قلعہ میں ہی انتقال ہوگیا۔ اس وقت تک میر سہراب نے اپنے بڑے بیٹے رستم علی خان کو بالائی سندھ کا قبضہ دے دیا تھا۔ اور ان کی حیثیت ایک بلا شرکت غیرے بادشاہ کی سی تھی جبکہ یہ حیثیت کئی برسوں برقرار رہی ۔ بعد ازاں ان کے سوتیلے بھائی علی مراد تالپور کے جوان ہونے سے تالپور خاندان میں اقتدار کی جنگ نے جنم لیا۔ ادھر رستم نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے اپنے سوتیلے بھائیوں سے بنانے کی بجائے انگریزوں کی طرف دست تعاون بڑھا دیا۔ اور انگریزوں کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر تو وہ ایک آزاد حکمران کی حیثیت سے حکمران رہے مگر اپریل 1838ءمیں انگریزوں نے پوری خیر پور پر اپنا تسلط قائم کر لیا ۔ انگریزوں نے ابتدائی طور پر خارجی امور اپنے ذمے لیے۔ کہتے ہیں اونٹ کو سر گھسانے کے لیے ایک سرا خ چاہئے سو خارجہ پالیسی کے سہارے انگریزوں نے پورے خیمے پر ہی قبضہ جمالیا۔ مگر انگریزوں کا یہ معاہدہ تالپوروں کی داخلی خاندانی لڑائی کو کم نہ کر سکا۔ ابتدائی طور پر انگریز اس داخلی رسہ کشی سے الگ تھلگ رہے۔ کچھ ہی عرصہ میں علی مراد تالپور کے اور میر مبارک علی کے بیٹوں میں جاری کشمکش کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ گیا۔ اس کشمکش میں میر مبارک علی کے بیٹوں نے علی مراد پر برتری حاصل کرلی۔ چنانچہ1842ءمیں خاندان تالپور میں باہمی رضا مندی سے ایک معاہدہ طے پایا۔رستم تالپور نے اپنا ووٹ اپنے سب سے چھوٹے بھائی کے حق میں دیا۔
میر علی مراد جاہ و جلال کے مالک تھے۔ 1832ءمیں وہ اپنے سب سے بڑے سوتیلے بھائی کے حق میں انگریزوں کے ساتھ تصادم مول لے چکے تھے انگریزوں کو ان کی طاقت کا اندازہ تھا۔ تاہم وہ زیرک سیاستدان تھے۔ اپنی حاکمیت کو نقصان پہنچائے بغیر جہاں مناسب سمجھتے انگریزوں کے ساتھ دست تعاون بڑھا دیتے مگر انہوں نے جھکنا گوارا نہ کیا۔ 1847ءمیں تحریک خلافت کے زمانہ میں انہوں نے تاج برطانیہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ 1851ءسے 1852ءتک وہ انگریزوں کیخلاف برسر پیکار بھی رہے۔ چنانچہ انگریزوں نے ان کے علاقہ میں رفتہ رفتہ قدم جمانا شروع کیے۔ 1852ءمیں بالائی سندھ کے کئی علاقوں میں انگریزوں نے اپنا تسلط قائم کر لیا اور تالپوروں کی حاکمیت میں خیر پور اور اس کے نواع تک محدود رہ گئی۔ بعد ازاں 1857ءکی جنگ آزادی لڑی گئی۔ اس جنگ میں بھی تالپوروں نے اپنی جداگانہ پالیسی برقرار رکھی۔ 52سالہ اقتدار کے دوران انہیں اسی وجہ سے اپنی سلطنت میں باوقار حاکم سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بعد میر فیض محمد خان نے حکومت سنبھالی یہ ان کے دوسرے بیٹے تھے۔ بعد میں آنے والے تالپوروں کی طرح میر فیض محمد خان بھی جم کر حکومت نہ کر سکے ۔ ان کا دور اقتدار بڑا مختصر اور ہنگامہ خیز رہا۔ زندگی نے بھی وفا نہ کی اور 1935ءمیں خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کے اکلوتے بیٹے میر فیض محمد خان دوئم ذہنی طور پر صحت مند نہ تھے چنانچہ حکومت نے نظم و نسق چلانے کے لیے وزراءپر مشتمل ایک کونسل بنا دی اور میر کو علاقے سے باہر رہنے کا مشورہ دے ڈالا۔ چنانچہ وہ لگ بھگ 12سال اپنی سلطنت سے باہر قیام پذیر رہے اور بعد میں جولائی 1947ءمیں تخت اپنے چھوٹے بیٹے کو سونپ دیا جنہوں نے اکتوبر میں پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا ۔ 1955ءمیں خیر پور کو مغربی پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ جہاں بس چار برس پہلے تالپوروں کا طوطی بولتا تھا اور وہا ں تالپوروں کے اقتدار کا سورج ڈوب گیا۔ تالپوروں نے اپنے عوام کا بھرپور خیال رکھا ۔ تعلیم لازمی اور مفت تھی۔ صحت عامہ کی سہولتیں بھی بلا معاوضہ ہر کسی کا حق تھا۔ انہوں نے کسٹم ڈیوٹیاں، پراپرٹی ٹیکس حتی کہ دیگر ٹیکسز بھی یکسر منسوخ کر دئیے۔ دولت ٹیکس اور ایسا کوئی دوسرا ٹیکس بھی مناسب نہ تھا۔ معاشی ترقی سے جرائم کی شرح کم کرنے میں مدد ملی یوں خیر پور چھوٹی صنعتوں کا گہوارا بن گیا ۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور:انگریزیوں کے قبضے کے بعد
تالپوروں اور انگریزوں کے درمیان ہونے والی جنگ کا ایک منظر

میر علی مراد خان دوئم قدیم تالپور حکومت کی واحد نشانی تھے۔ وہ فیض محل میں مقیم تھے۔ انہیں جانوروں کی افزائش میں خصوصی دلچسپی تھے بلکہ برصغیر میں سب سے بڑی چراگاہ ان کی تھی۔ ان کے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ مہدی رضا خان نے اپنے باپ کے ورثے کو برقرار ر کھا وہ 17توپوں کی سلامی لیا کرتے تھے اور کئی ہتھیار ہر وقت ان کے پاس رہتے تھے۔ ان کے کئی لقب تھے۔ میر آف خیر پور، عزب مآب، صاحبزادہ میریا ولی عہد۔ان کی بیٹیوں کو صاحبزادی کہا جاتا تھا۔
1909ءسے 1921ءتک لیفٹیننٹ کرنل حضور پر نور سرکار خیر پور نواب مبر سر امام بخش خان تالپور نے حکومت سنبھالی۔ انہیں ولی الملک کے خداداد کے خطاب سے بھی پکارا جاتا ہے اور میر آف خیر پور تو ان کا آبائی ٹائٹل ہے ہی۔ وہ سر فیض محمد خان تالپور کی دسمبر 1960ءمیں واحد زندہ اولاد تھے۔ 5مارچ 1909ءکو اپنے باپ کی وفات کے بعد انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا اور 1909ءتک اسی منصب پر فائز رہے۔ صاحبزادہ میر علی نواز خان تالپور ا ن کے بیٹے ہیں جبکہ صاحبزادہ میر علی محمد خان بھی ان کے بیٹے ہیں۔
میجر صاحبزادہ میر غلام علی تالپور 8نومبر 1891ءکو خیر پور میں پیدا ہوئے اور ایچی سن کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی۔ ڈیرہ ڈوم سے امپیریل کیڈٹ کورس کیا بعد ازا ں اعلیٰ تعلیم کے لیے کیمبرج یونیورسٹی چلے گئے۔ 1914ءمیں برٹش آرمی میں سیکنڈ لیفٹیننٹ بن گئے۔ 1916ءمیں فلسطین اور فرانس کی جنگ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا اور پھر 1919ءکی افغان جنگ میں بھی اپنی بہادر یکے جوہر دکھائے1921ءسے 1935ءتک عزت مآب حضور پر نور سرکار خیر پور میر علی نواز خان تالپور الحاج ولی الملک میر آف خیر پور بنے ہوئے وہ9اگست 1884ءکو پیدا ہوئے اور سر امام بخش خان تالپور کے سب سے بڑے بیٹے تھے ۔ انہوں نے بھی لاہور میں ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی اور پھر ڈیرہ دوم چلے گئے 1910ءمیں انہیں ولی عہد کے خطاب سے نوازا گیا ۔ جارج ہشتم اور ملکہ امپریس میری رسم تاج پوشی کے موقع پر لندن میں 1911ءمیں انہوں نے ہی اپنے والد کی نمائندگی کی تھی۔ بعد ازاں 8فروری 1921ءکو اپنے والد کی وفات کے بعد وہ اس منصب پر فائز ہوئے25فروری 1921ءکو انگریزوں نے کچھ اختیارات انہیں سرنڈر کرنے پر مجبور کیاجس سے ریاستی نظم و نسق بری طرح تہہ و بالا ہوا۔ جون 1932ءمیں وہ آل انڈیا بلوچ کے سربراہ بنے۔
میر فیض محمد خان تالپور دوئم کے بعد 1935ءسے 1947ءتک میجر میر فیض محمد خان دوئم تالپور ولی الملک کے خداداد بنے۔ وہ 4جنوری 1913ءکو نواب علی خان نواز تالپور کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ ان کی دوسری بیوی کی اولاد تھے۔ انہو ں نے بھی برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی 25دسمبر 1935ءکو اپنے باپ کے انتقال کے بعد وہ فیض محل میں مسند پر فائز ہوئے۔ آئین تھا نہیں کمزور تھا،ریاست میں افراتفری اورابتری کا ماحول تھا ۔ ریاستی مشینری انگریزوں اور مسلمانوں کی باہمی کشمکش سے بدستورکمزور پڑ رہی تھی۔ چنانچہ وہ بھی بھرپور حکومت نہ چلا سکے۔ ایک روز اچانک غلطی سے ان کی بندوق کی صفائی کے دوران ان کی بندوق سے گولی نکل گئی، یہ حادثاتی گولی 9ماہ کے بیٹے کے دائیں پھیپھڑے میں پیوست ہو گئی اور اسے چیرتی ہوئی نکل گئی۔ بیٹے کا صدمہ برداشت نہ کر سکے۔ اور اسی کشمکش میں ریاستی امور پر ان کی گرفت مزید کمزور پڑ گئی چنانچہ وزیر نے اختیارات سنبھال لیے۔ ادھر بھارتی حکومت نے انہیں خیر پور کی حدود سے باہر رہنے کا حکم جاری کیا۔ اور انہیں ریاستی امور میں کسی قسم کی مداخلت کرنے سے روک دیا چنانچہ وہ پونا چلے گئے۔ انہوں نے اقتدااپنے واحد بیٹے کو 19جولائی 1947ءکو سونپ دیا۔ ان کی بیگم کا نام پاشا بیگم صاحبہ تھا وہ امیر پیغام معین الدین دولہ کی بڑی بیٹی تھیں۔ جنہیں نواب محمد معین الدین خان بہادربھی کہاجاتا ہے ان کا ایک ہی بیٹا تھا۔ جسے صاحبزادہ میر جارج علی مراد خان تالپور کہا جاتا ہے۔1947ءمیں حضور پر نور صاحبزادہ میر جارج علی مراد خان تالپور نے اقتدار سنبھالا تھا۔ انہوں نے بھی بیرون ملک اعلیٰ تعلیم ح اصل کی۔ دلہن پر بیگم ان کی اہلیہ تھیں وہ بھی ایچی سن کالج اور کیمبرج یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے تھے۔ یہی وہ بیٹے تھے جن کے پیٹ کو چیرتی ہوئی ایک گولی پھیپھڑے کو زخمی کرتی ہوئی ایک گولی نکل گئی تھی اور یہ دائیں کندھے کے پار ہوئی اللہ تعالیٰ نے زندگی لکھی تھی سو محفوظ رہے۔ 19جولائی 1947ءکو انہوں نے فیض محل خیر پور کی مسند سنبھالی۔ اور 24جولائی کو انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔ 3اکتوبر 1947ءکو عالمی سطح پر عالمی بالغ سفرج موومنٹ کے پیش نظر انہو ں نے بھی حق رائے دہی کی بنیاد پر اپنی رعایا کو ووٹ کا حق دینے کا اعلان کر دیا یوں اپنی رعایا کو شریک اقتدار کرنے میں تالپوروں نے ہمیشہ پیش رفت کی۔وہ کبھی کسی عالمی تحریک سے پیچھے نہ رہے۔ باپ کے انتقال کے وقت وہ چھوٹے تھے چنانچہ ان کی بلوغت تک اقتدار کونسل آف ریجنسی نے چلایا۔ حتیٰ کہ وہ اس عمر تک پہنچ گئے اس زمانہ میں نواب زادہ لیاقت علی خان نے 16ستمبر 1951ءکو خیر پور کا دورئہ کیا۔ جہاں تالپوروں نے اپنی ریاست کو مغربی پاکستان میں زعم کر نے کاا علان کیااس فیصلے کا اعلان 14اکتوبر 1955ءکو ہوا ان کی بلوغت تک نواب لیاقت علی خان نے بطور وزیراعظم پاکستان امور مملکت نبٹائے۔
حیدر آباد کے تالپور حکمران
میر فتح علی خان 1782ئ۔1802ئ
میر غلام علی خان 1802ء۔ 1811ئ
میر کرم علی خان 1812ئ۔ 1828ئ
میر مراد علی خان 1828ئ۔ 1833ئ
میرمحمد خان 1833ئ۔ 1840ئ۔
میر نصیر خان 1840ئ۔ 1843ئ۔
خیر پور کے تالپور حکمران
میر سہراب خان 1784ئ۔ 1830ئ
میر رستم خان 1830ئ۔ 1842ئ
میر مراد علی خان اول 1843ئ۔ 1894ئ
میر پور کے تالپور حکمران
میر طرح خان 1782ئ۔ 1829ئ
میر مراد علی خان 1829ئ۔ 1837ئ
شیر محمد خان1837ئ۔ 1843ئ

یہ بھی پڑھیں:  دہلی کو آباد کرنے والے لوگ کیسے تھے؟