firdosashiq

شریف خاندان نے نشان عبرت بن کر بھی کوئی سبق نہیں سیکھا:ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

EjazNews

وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات نے اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل ایک راج کماری نے کنیزوں کے جھرمٹ میں جس طرح کے لب و لہجے میں بات کی ان کا یہ تکبر اور غرور یہ اشارہ دے رہا ہے کہ شریف خاندان نے نشان عبرت بن کر بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نشان عبرت ہے کہ ملک کا 3 مرتبہ وزیر اعظم رہنے والا پاناما کی کرپشن اور لوٹ مار کی کہانیوں کا شکار ہو، 22 کروڑ عوام کو یہ معلومات پاناما کے ذریعے ملے کہ ملک کا سربراہ لوٹ کھسوٹ کرپشن میں ملوث ہوکر باہر اپنے خاندان کی جائیدادیں بنانے میں مصروف رہا۔مسلم لیگ کی نائب صدر کے میں انہوں نے مزید کہا کہ جس انداز میں بات کرکے وہ ہمارے اعصاب کو دیکھ رہی ہیں وہ دعوت دے رہی ہیں کہ میری اوقات مجھے کیوں نہیں دکھاتے، کیوں نہیں بتاتے کہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئی تھی اور راج کماری بن کر بادشاہت میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرتی تھی اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔اپنی تنقید جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ سرکاری فنڈ سے 70 کروڑ کی چار دیواری بناتے تھے لیکن کوئی پوچھتا نہیں تھا، وزیر اعظم کا جہاز میرے چچا استعمال کرتے تھے لیکن کوئی پوچھتا نہیں تھا، میرے بھائی ہر قسم کا عیش و آرام اور کاروباری سودے کرتے تھے تو انہیں کوئی پوچھتا نہیں تھا لیکن آج یہ مکافات عمل ہے کہ آپ کے والد جیل میں ہیں۔ نواز شریف جائیدادیں بنا کر منی لانڈرنگ کرکے مختلف ممالک میں اپنے بچوں کو مستفید کرتے رہے لیکن آج یہ دونوں بیٹے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی شہری نہیں ہیں، وہ پاکستانی شہری نہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔
انہوں نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی اوقات میں رہیں اور اگر اپنی زبان ٹھیک نہیں کی تو بہت کچھ کہنے کو موجود ہیں لیکن عمران خان کہتے ہیں کہ معاشرے کی سماجی، مذہبی اور ثقافتی اقدار ہیں، جنہیں ہم نے برقرار رکھنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کیے گئے کمیشن کے سربراہ کا اعلان آئندہ ہفتے کریں گے اور اس کے ضابطہ کار کو حتمی شکل دینے جارہے ہیں اور حکومت میں موجود اور باہر رہنے والے شخص کو آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) والے جیل میں نواز شریف سے مل کر فخر سے ایسے بتاتے ہیں جیسے جیل کوئی مقدس مقام ہے۔
ان کا کہنا تھا احساسات کی ترجمانی بجٹ میں ہوئی، بجٹ میں ترجیحات رکھی گئیں، بجٹ میں کچھ کڑوی گولیاں ضرور ہیں، ہم چاہتے ہیں آپ بجٹ کو شوگر کوٹڈ کرکے گولیاں نگلیں، نگلتے ہوئے کڑواہٹ ہوگی لیکن بعد میں ہر قسم کی تکلیف سے نجات پالیں گے، یہ گولیاں معیشت سے جڑی ہیں، سیاست کے لیے الگ گولیاں ہیں۔ جان چلی جائے چوروں، لٹیروں کو نہیں چھوڑیں گے، ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دیناہے، گلے سڑے نظام سےگند صاف کریں گے تو عمران خان کا مشن پورا ہوگا۔
وزیراعظم کے قوم سے خطاب پر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا مرضی ہے جب چاہیں قوم سےخطاب کرسکتے ہیں، وزیراعظم کو باہر جانا تھا، وہاں اہم اجلاس میں شرکت کرنی تھی، اجلاس میں شرکت کے لیے تیار ہوکر جانا ضروری تھا، وقت کی کمی کی وجہ سے وزیراعظم نے رات کوخطاب کیا، مخالفین پی ٹی وی کی تکنیکی غلطیوں سے آواز بند ہونے پر تنقید کررہےہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بیرون ممالک سے پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلات بھیجی