حج والے گھر (بیت اللہ شریف )کی فضیلت

EjazNews

اس گھر کی عظمت و رفعت و فضیلت کیلئے یہی کافی ہے کہ اس کی نسبت اللہ کی طرف ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا گھر ہے کسی مخلوق کا نہیں ہےا ور صرف اللہ کی عبادت کے لئے سب گھروں سے پہلے ہر مخلوق اور ہر انسان کے منافع اور فوائد کے لئے بنایا گیا ہے۔ ہر ایک کے لئے باعث ہدایت و رشد اور خیر و برکت ہے۔ سب اس سے یکساں فیضیاب ہو سکتے ہیںاور ہوتے ہیں۔ سب بھلائیوں اور نیکیوں کا مرکز ہے۔رفعت اور عظمت کے لحاظ سے اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گھر نہیں ہے۔
جب تک یہ رہے گا سارا عالم باقی رہے گا اور جب یہ ختم ہو جائے گا سارا جہاں برباد ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو محترم گھر بنایا ہے جو لوگوں کے قیام کا سبب ہے۔(سورئہ المائدہ)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تک دین اور نشانات باقی ہیں لوگ بھی قائم اور باقی رہیںگے۔ قیامت کے قریب اس کو منہدم کر دیا جائے گا۔ ایک حبشی اس گھر کو گرا کر مسمار کر دے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: ”میں کالے حبشی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بیت اللہ کے ایک ایک پتھر کو اکھیڑ کر پھینک رہا ہے، (بخاری)
ترجمہ: ہمیشہ یہ امت خیرو برکت میں رہے گی جب تک کما حقہ اس کی عظمت کو باقی رکھے گی جب اس کی عظمت کو چھوڑ دے گی ہلاک ہو جائے گی۔ (ابن ماجہ)
یہ گھر عظمت کے اعتبار سے دنیا کے تمام مکانوں اور تمام چیزوں سے اونچا درجہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رحمت والے گھر کو وہ شان و شوکت بخشی ہے جو دنیا کے کسی گھر کو حاصل نہیں ۔ یہاں پر ہر وقت خدا کی رحمت کی بارش ہوتی ہے۔ یہی وہ مکان ہے جہاں لاکھوں نبی و رسول تشریف لائے اور خدا کی محبت میں اس گھر کا طواف کئے۔ یہی سب کا ملجا و مامن ہے تاریخ مکہ میں ہے:
ترجمہ: اور نبیوں میں سے جس نبی کو ان کی قوم نے جھٹلایا۔ وہ اپنی قوم سے باہر نکل کر مکہ مکرمہ میں آئے۔
جواس گھر میں آگیا امن میں آگیا۔ یہاں کے پناہ گزینوں کو ستانا حرام ہے یہاں جانوروں کا شکار کرنا منع ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو جنت سے زمین پر اتارا تو فرمایا:
ترجمہ: میںتمہارے ساتھ ایک گھر اتاروں گا جس کا طواف کیاجائے گا جیسا کہ میرے عرش کا طواف کیا جاتا ہے اور اس طرح نماز پڑھی جائے گی جس طرح میرے عرش کے پاس پڑھی جاتی ہے۔
بیت اللہ شریف کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے نماز میں اسی طرف منہ کیاجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ترجمہ: مسجد حرام (یعنی بیت اللہ شریف ) کی جانب منہ کر کے نماز پڑھو۔
اس گھر کا زیارت کرنے والا تمام گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ اس کی طرف دیکھنا بھی باعث عبادت ہے۔ بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ بیت اللہ شریف کی زبان اور دو ہونٹ ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: کعبہ کی زبان اور دو ہونٹ ہیں اس نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی کہ میری زیارت کرنے والے کم ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں ایسے انسان پیدا کرنے والا ہوں جو ڈرنے والے اور سجدہ کرنے والے ہوں گے اور وہ اسی طرح تیری طرف مشتاق ہوں گے جس طرح کبوتر اپنے انڈے کی طرف۔
بیت اللہ شریف کی طرف دیکھناب ھی عبادت ہے۔ حرم شریف میں بیٹھ کر بیت اللہ شریف کی طرف نظر لگائے رکھو ۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :
ترجمہ : بیت اللہ شریف کی طرف دیکھنا خالص ایمان کی نشانی ہے۔ (ارزقی)
حضرت سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں جس نے ایمان اور تصدیق کے ساتھ بیت اللہ کی طرف نظر کی وہ گناہوںسے ایسا پاک ہو جاتا ہے گویا آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ۔ (در منثور)
عطاؒ فرماتے ہیں بیت اللہ شریف کی طرف دیکھنے والا تہجد گزار اور روزہ رکھنے والے مجاہد فی سبیل اللہ کے برابر ہے۔ (بیہقی ابن شیبہ)
حضرت شیخ الاسلام علامہ قنوجی ؒ ایضاح المحجہ صفحہ ۴۲ میں فرماتے ہیں: جب کعبہ پر نظر پڑے چاہئے کہ دل میں اس کی عظمت و جلالت سما جائے۔ روایت میں آیا ہے دیکھنا طرف بیت الحرم کے عبادت ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا بلکہ محض ایمان ہے۔ ابن مسیب ؒ نے کہا جس نے ایمان و تصدیق کی راہ سے اس کی طرف دیکھا وہ خطاﺅں سے ایسا پاک ہوا جیسے کہ گویا آج اس کی ماںنے اس کو جنا ہے۔ اہل دل کعبہ کو دیکھ کر سمٹ جاتے ان کے دل ہل جاتے ۔ انوار کعبہ نظر آنے لگتے گھر دیکھ کر گھروالے کو یاد کرتے ۔ ایک بی بی عابدہ جب مکہ میں پہنچیں کہنے لگیں میرے رب کا گھر کہاں ہے میرے رب کا گھر کہاں ہےہ کر دوڑیں دوڑ کر دیوار کعبہ سے اپنا ماتھا چپکایا پھر مر کر جدا ہوئیں۔ (انتہی) ۔ اگر دنیا کی ساری چیزیں دیکھو اور بیت اللہ شریف کو نہ دیکھو تو گویا کچھ بھی نہیں دیکھا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
غمی دیکھی خوشی دیکھی بھلا دیکھا برا دیکھا
نہ تھا جو دیکھنا اس کو بھی اس دُنیا میں آدیکھا
یہ مانا ہم نے یہاں آکر تماشا خوب سا دیکھا
نہ دیکھا خانہ کعبہ تو اے دل تو نے کیادیکھا
آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس شخص نے محض خوشنودی مولیٰ اور تقویت ایمان کے لئے بیت اللہ شریف کی طرف دیکھا اس کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور قیامت کے دن اس کا حشر ایمانداروں میں ہوگا۔ (الجامع اللطیف)
امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جب بیت اللہ کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔
ترجمہ: اے اللہ تیرا نام سلام ہے اور سلامتی و عافیت تیری طرف سے ہے۔ جب تک ہمیں زندہ رکھنا ہو، سلامتی کے ساتھ رکھنا۔
بت اللہ کے دیدار کے وقت یہ دعا مسنون ہے
ترجمہ: اے اللہ ! اس خانہ کعبہ کو شرف و عظمت میں اضافہ فرما اور جو حج و عمرہ کرنے والا ہو اس کی عزت وتکریم کرے اس کی عزت و بزرگی میں ترقی عطا فرما۔

یہ بھی پڑھیں:  منیٰ