hafeez shiekh

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی دوسری پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس

EjazNews

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے امیر لوگوں کو پاکستان کے ساتھ سچا و مخلص ہونا ہوگا اور ٹیکس دینے ہوں گے۔ ہمارے یہاں ٹیکس کی شرح 11، 12 فیصد ہے جو دنیا کی کم ترین شرح میں سے ایک ہیں۔پاکستان میں یہ قابل قبول بات نہیں اور اگر ٹیکس کی وصولی کے لیے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا پڑے گا تو ہم تیار ہیں۔ حکومت نے اپنے اخراجات کو واضح طور پر کم کرکے لوگوں کے لیے مثال قائم کی۔کسی اور سے قربانی مانگنے سے قبل خود قربانی دینا ہوگی، اس کے لیے ہم نے کفایت شعاری دکھائی اور سول حکومت کے اخراجات کو واضح طور پر کم کرکے 468 ارب سے 431 ارب کردیا ہے اور مہنگائی کی وجہ سے بڑھنے والی قیمتوں کے باوجود ہم نے اسے کم کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلح افواج نے بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر قبول کیا اور اس میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، یہ دنیا اور پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک بہت اچھا پیغام ہے کہ کس طرح حکومت کے اخراجات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
انہوںنے کہاکہ مشکل حالات سے نمٹنا ضروری ہے اور اس کے لیے سیاست سے بالاتر ہوکر ملک مفاد کو سامنے رکھنا ہوگا۔ہمارے آنے سے پہلے 10 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے لیے ہوئے تھے اور ان کی ادائیگی ڈالر میں ہی کرنا تھی جبکہ ڈالر کمانے کی صورتحال ایسی تھی کہ برآمدات کی ترقی صفر تھی اور تجارت کا فرق 40 ارب ڈالر کے قریب تھا۔
انہوں نے بتایا کہ 31ہزار ارب کا قرضہ اسے ورثے میں ملا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے دیگر لوگوں کے لیے گئے قرضے واپس کرنے ہیں کیونکہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوسکتا اور ماضی کے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے 2 ہزار 900 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر معاشی صورتحال ایسی ہونے کے باوجود ہم نے چند چیزوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں 3، 4 ایسے شعبے ہیں یہاں اخراجات کم کرنے کے بجائے بڑھائے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بجلی کی قیمتیں بڑھنے کی صورت میں کمزور طبقے کو تحفظ دینے کا فیصلہ کیا اور 300 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے سبسڈی رکھی، بجٹ میں اس مد میں 216 ارب روپے رکھے جارہے ہیں تاکہ چھوٹے صارفین کو بجلی کی قیمتیں بڑھنے کی تکلیف سے بچایا جائے۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ تیسرا شعبہ جہاں ہم نے توجہ مرکوز کی وہ غربت اور مسائل کا شکار علاقے خصوصی طور پر قبائلی اور بلوچستان کے کچھ علاقوں پر تھی، اس کے لیے فاٹا کے ضم علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ان اضلاع کے لیے 152 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ وہ پاکستانی معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہوجائیں۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ برآمد کنندگان کو برآمدات بڑھانے کے لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں مراعات دی گئیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اندرونی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔یہ غلط تاثر ہے کہ برآمدی شعبے کے ٹیکس نظام میں کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی بلکہ ہم برآمد کنندگان کو مدد دینے کے لیے مزید اقدامات کر رہے ہیں، تاہم اس وقت ہمارے اندازے کے مطابق مقامی شعبے میں 1200 ارب روپے کی ٹیکسٹائل کی سیل ہورہی ہے لیکن ہمیں 6 سے 8 ارب روپے ٹیکس ملتا ہے جو ناقابل قبول ہے، اس ملک میں کاروبار کریں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ 1200 ارب پر 6 یا 8 ارب کا ٹیکس دیں۔
عبدالحفیظ شیخ نے ڈالر کی قیمت سے متعلق بتایا کہ برآمدات میں واضح کمی آئی جس سے ڈالر کی قیمت بڑھی۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کل موجودہ حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا، جس میں 3 سے 4 اہم چیزوں پر توجہ دی گئی، سب سے پہلا بیرونی قرضوں پر منظم حد تک قابو پانا ہے اور اس کے لیے 9 ارب 2 کروڑ ڈالر موبیلائزڈ کیے گئے، پیٹرولیم مصنوعات کے لیے تاخیری ادائیگیوں کا انتظام کیا گیا۔اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ درآمدات پر اس طرح کی ڈیوٹی لگائی گئی اور برآمدی شعبے کو مراعات دی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں دوسری توجہ مالی خسارے پر تھی کہ یعنی آمدنی اور اخراجات میں توازن اور اس کے لیے ریونیو کا ہدف چیلنجنگ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لورالائی میں دہشت گردوں کے عزائم خاک میں مل گئے

زیر نظر مضمون میں آپ کو ایک تصویر بھی دکھائی دے رہی ہے یہ تصویر 2009-10کے بجٹ کی ہے جس میں ویژن2030ء کے سنہری خواب قوم کو دکھانے والے ہمارے مشیر خزانہ آج ایک مرتبہ پھرپوسٹ بجٹ تقریر کی ہے۔ معیشت کے گورکھ دھندوں کو سمجھنا اور بجٹ کو سمجھنا شاید عام آدمی تو کجا بہت سے خاص لوگوں کی سمجھ سے بھی بالاتر ہوتا ہے۔ اس تصویر میں ویژن 2030ء کے تحت بہت کچھ بتایا گیا تھا لیکن کیا ہوا کہاں ہوا پتہ نہیں۔ اس بارے میں مشیر خزانہ بہتر جانتے ہوں گے۔ بحرکیف امید اور گمان ہمیشہ اچھا رکھنا چاہیے۔