آصف علی زرداری کی گرفتاری پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کیا کہتے ہیں

EjazNews

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے نیب کے سامنے کوئی تاخیری حربہ استعمال نہیں کیا، انہوں نے نیب کے ہر سوال کا جواب دیا۔ان کا کہنا تھا کہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔ اس مطالبے پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مجھے اس معاملے پر قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے کچھ وقت دیں۔
بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں متنازع فیصلوں کو عوام نے کبھی قبول نہیں کیا، کارکن پر امن رہیں۔
خورشید شاہ کہتے ہیں کوئی ڈر خوف نہیں، آصف زرداری نے خود گرفتاری دی ہے۔ ہم نے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر کی درخواست دے دی ہے، ہمیشہ ہمارے کیسز سندھ سے پنجاب میں لائے جاتے ہیں۔
یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں زرداری کے پروڈیکشن آرڈری جاری کیے جائیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کو آئین دیا اور اداروں کو خود مختار کیا جب ہی اداروں کا احترام کرتے ہیں۔
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ آصف زرداری کو فوری طور پر پروڈکشن آرڈردئیے جائیے۔
شیخ رشید کہتے ہیں زرداری عوامی جدوجہد پر نہیں، منی لانڈرنگ پر پکڑے گئے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کہتے ہیں عدالتیں آزاد ہیں، آصف زرداری کیخلاف کیس نہ ہم نے بنایا اور نہ نیب ہمارے ماتحت ہے۔
فواد چوہدری کہتے ہیں تمام جعلی اکائونٹس کا سراغ بلاول اور زرداری ہائوس سے نکلتا ہے۔ عوام کو پتہ ہے پیپلز پارٹی کے لوگ اربوں کی کرپشن میں ملوث ہیں۔
شوکت یوسفزئی کہتے ہیں کہ قوم نوافل ادا کرے کہ بڑے بڑے مگرمچھ گرفتار ہو رہے ہیں۔
سینیٹر فیصل جاوید کہتے ہیں آصف زرداری کی ضمانت منسوخ تو ہونا ہی تھی ، لگتا ہے نیب کے پاس ٹھیک ٹھاک ثبوت ہیں۔10سال میں صرف 2خاندان کی جائیدادیں بڑھیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  کامیاب معاشرے میں میرٹ ہوتا ہے وہ کاروبار کرنے والوں کو ہر طرح کی سہولیات مہیا کرتا ہے:وزیراعظم