bilwal bhato

آپ اس بچے کو کیسے ڈرا سکتے ہیں ،جس کا والد11سال جیل میں رہا،والدہ شہید ہوئیں:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا یہ دوسری مرتبہ ہوا کہ مجھے بولنے نہیں دیا گیا،سپیکر نے مجھے یقین دلایا تھا کہ آئندہ اجلاس میں مجھے بولنے کا موقع دیا جائے گا ،آج تین وزرا کو بات کرنے کا موقع دیا گیا مگر مجھے بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ان کا کہنا تھا سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے روئیے کی مذمت کرتا ہوں اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا ‘حکومت جمہوری اور انسانی حقوق پر حملے کر رہی ہے، یہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے، ایسا رویہ پرویز مشرف، ضیاالحق کے دور میں بھی نہیں دیکھا جیسا آج نئے پاکستان کی اسمبلی میں دیکھ رہے ہیں، میں نے علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا کیونکہ سنگین الزامات کے باوجود شفاف ٹرائل کا حق سب کو حاصل ہے۔موجودہ حکومت سلیکٹڈ عدلیہ، سلیکٹڈ اپوزیشن اور سلیکٹڈ میڈیا چاہتی ہے، عدلیہ پر بھی سازش کے تحت حملہ کیا گیا، پہلے بھی ججز کو نکالنے کی کوشش کی گئی آج بھی یہ کوشش ہو رہی ہے، حکومت اظہار آزادی پر بھی پابندی لگا رہی ہے، ایوب خان، ضیاالحق، پرویز مشرف اور نئے پاکستان میں کیا فرق ہے؟ ایوب، ضیا، مشرف کے دور میں بھی بولنے کی اجازت نہیں تھی آج بھی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کل بجٹ سیشن ہوگا، ایسی صورتحال میں آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا اور حکومت نے انہیں اسمبلی اجلاس میں شرکت سے روکا، ہمیں آج بھی فری ٹرائل کا حق نہیں دیا جارہا، جمہوریت اور معاشی حقوق کے لیے لڑنا میرا فرض ہے، اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے جس کے والد نے 11 سال جیل کاٹی، موت سے اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے جس کی والدہ کو شہید کیا گیا۔ ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کوئی حکم نہیں دیا بلکہ انہوں نے احتجاجاً گرفتاری دی، نیب ٹیم بغیر آرڈرز کے آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے زرداری ہاؤس پہنچی۔حکومت آزادی اظہار رائے پر بھی پابندی لگارہی ہے، صرف اپوزیشن کا احتساب ہونا سیاسی انتقام کہلاتا ہے، علیمہ خان کوکلین چٹ مل گئی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کے سپیکر کے گھر پر حملہ ہوا، بغیر لیڈی پولیس کے آغا سراج درانی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، مخالف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز نشر نہیں ہونے دیےجاتے، پارلیمنٹ ہاؤس کے فلور پر بات کرنے والے اراکین کی بات دبا دی جاتی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نیب کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر کہا ہے کہ متنازع فیصلوں کو عوام نے کبھی قبول نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں میں اپنی بےگناہی کو ثابت کیا ہے اور اس بار بھی کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی جانبدارانہ عدالتی فیصلوں کے باوجود قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لیڈر کبھی نفرتیں نہیں پھیلاتا، نفرتیں پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا:وزیراعظم عمران خان