fasion

آپ کا لباس آپ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے

EjazNews

قدرت نے اس دنیا کو تغیرات سے ہم آہنگ کیا ہے، جس طرح سال کے چار موسم ہمیں وقت کے بدلنے کا احساس دلاتے رہتے ہیں اسی طرح انسانی مزاج تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے۔ یکسانیت کسی کو بھی پسند نہیں آتی۔ دن کے بعد رات اور صبح کے بعد شام فطرت کے تغیر کا احساس دلاتے ہیں۔
انسانی زندگی رنگوں سے عبارت ہے۔ انسان اپنی ہر صبح وشام کو ایک نئے سے سجانا چاہتا ہے اور فیشن بھی انسانی زندگی کا ہی ایک رنگ ہے ایک ایسا رنگ جو انسانی شخصیت کو نکھارنے اور سنوارنے کا کام کرتا ہے۔ انسان کی شخصیت ایک خود رو پودے کی طرح ہوتی ہے ۔جب تک اسے تراش خراش کر کے ہیرے کی شکل نہ دی ائے ، تب تک اس کی خوبصورتی ظاہر نہیں ہوپاتی۔ شخصیت کی دلکشی میں سب سے اہم کر دار لباس کرتا ہے۔ لباس انسان کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے یہ اس کی ظاہری خوبصورتی کو اجاگر کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔ انسان کی شخصیت خواہ کیسی ہو اگر اس نے سلیقے کے ساتھ خوبصورت اور دیدہ زیب لباس پہنا ہوا ہے تو وہ ہزاروں میں نمایاں نظر آئے گا۔
انسان کیلئے سب سے اہم بات اپنی پہچان ہے۔ اپنے بارے میں درست ادراک پانے کیلئے ہم مختلف شعبہ ہائے زندگی کا انتخاب کرتے ہیں۔کہیں رنگوں سے باتیں کیں تو کہیں قلم کے ذریعے لفظو ں کے موتی پروئے، کہیں چہروں کو حسین سے حسین تربنانے کی جستجو کی ، تو کہیں جسم کو پر کشش بنانے کیلئے لباس کی تراش خراش کو اولین حیثیت دی۔ بات یہ ہے کہ انسان جدت پسند اور جدت پسندی کیلئے اسے جہاں سے جلا ملتی ہے وہ ہے ہمارا دماغ۔ ذہن میں پہلے تخیل جنم لیتا ہے اور پھر خیال حقیقت میں ڈھل کر صورت اختیار کر لیتا ہے۔
جہاں بات ہو لباس کی وہاں رنگ اور دیدہ زیب ڈیزائن مل کر ایک زبردست شاہکار ترتیب دیتے ہیں۔ پھر اس لباس کو پہنے والا جسم بھی ایک نئے قالب میں ڈھل جاتا ہے۔

عمراور شخصیت کے لحاظ سے درست لباس کا انتخاب بھی ایک فن ہے اور اس سے بڑا فن وقت، موسم، عمر اور شخصیت کے لحاظ سے کسی لباس کا ڈیزائن کرنا ہے۔ لباس کی ڈیزائنگ یوں تو آج ایک رواج بن چکا ہے آج کل تو ہر دوسرا شخص بوتیک کھولے بیٹھا ہے اور خود کو ڈیزائنر کہلواتا ہے جبکہ حقیقت میں ڈیزائنگ کوئی آسان کام نہیں یہ ایک مشکل اور حساس فن ہے اسے اس کی تمام باریکیوں اور تقاضوں کے ساتھ سمجھنا اور برتنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں لیکن یہ حقیقت ہے ک ہ کائنات کے سارے حسین رنگ ’’وجود زن‘‘ کے دم سے ہیں لکن خود وجود زن کی حرارت جن رنگوں سے ہے وہ سجائو سنوار،بنائو سنگھار ککے مختلف رنگ ہیں جو پل پل بدل کر اسے ایک احساس تازہ سے آشنا کئے رکھتے ہیں۔
مثل مشہور ہے ’’کھائو من باتا، پہنو جگ بھاتا‘‘ عقلمند لوگ اس مقولے پر عمل کرتے ہیں، کیونکہ ’’جیسا دیس ویسا بھیس‘‘ اپنا نا ضروری ہوتا ہے۔ خوش لباس ہونا خاصا اہمیت رکھتا ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آ پ انتہائی قیمتی اور مہنگے کپڑے پہنیں ، بلکہ آپ کو یہ شعور ہو کہ کون سا رنگ ڈیزائن اور کپڑا آپ پر جچتا ہے، آپ ان کا ہی انتخاب کریں۔
انسانی فطرت ہے کہ وہ زندگی میں ہمیشہ نت نئے رنگ ڈھونڈتا ہے ایک ہی جیسی چیز اسے زیادہ دیر اچھی نہیں لگتی اور وہ بیزار ہو جاتا ہے، لہٰذا فیشن ہمیں اس یکسانیت سے نجات دلاتا ہے اور بیماری روز مرہ زندگی میں رعنائیاں اور رنگینیاں لاتا ہے۔
فیشن انسانی کی زندگی میں کئی انداز سے شامل ہو تا ہے کبھی لباس کی صورت ، کبھی زیورات کی صورت میں، کبھی سنگھار میں، کبھی زلفوں کی آرئاش میں، تو کبھی گھر کی سجاوٹ میں یعنی زندگی کے ہر موڑ پر ہر مرحلے میں فیشن کا عمل دخل رہتا ہے۔
فیشن ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے ہر شخص کی اپنی پسند ہوتی ہے جس کے مطاب وہ فیشن کو اپناتا ہے فیشن کی ایک لہر سی آتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس سے ہرشخص ہی متاثر ہو۔ فیشن بھی موسم کی طرح ہے ۔ آتا ہے، چلا جاتا ہے مگر پھر واپس آجاتا ہے۔ مجموعی شکل وہی ہوتی ہے بس دوسری بار اس میں تھوڑا بہت اضافہ یا کمی ہوجاتی ہے۔
کسی زمانے میں لباس کا فیشن کرنا صرف امراء طبقے تک ہی محدود تھا لیکن اب مڈل کلاس طبقہ بھی اس دوڑ میں شامل ہے ۔ جو خواتین خود سینا جانتی ہیں وہ سستے کپڑے کوبھی اچھے طریقے سے جدید فیشن کے عین مطابق تیار کر لیتی ہیں۔ دولتمند خواتین کیلئے چونکہ کپڑے کی قیمت کوئی اہمیت نہیں رکھتی اس لئے ان کے ملبوسات نہایت نفیس اور دیدہ زیب ہوتے ہیں۔مڈل کلاس خواتین بھی اپنی استطاعت کے مطابق فیشن کرتی ہیں اور اگر طریقے سے فیشن کیا ہوا ہو تو بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ کاٹن کی شلوار قمیض بہت خوبصورت لگتی ہے ہر عمر میں فیشن بدلتا رہتا ہے نئے فیشن کے آتے ہی پرانا ایسے غائب ہوتا ہے گویا آیا ہی نہیں تھا۔ بیس اور تیس کی دہائی میں پف والی آستین کی قمیض اور فراک فیشن میں تھے اس فیشن کو ان دہائیوں کی فلموں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ مشرقی ہو یا مغربی شمال ہو یا جنوب فیشن ہر جگہ اپنا رنگ دکھاتا ہے۔
فیشن، کامیابی، حسن اور عمر کے ساتھ ہے۔ ان سب کے درمیان ایک خاص اور واضح تناسب کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اسی کے بعد یہ آپ کی شخصیت کو نکھار بخشے گا کیونکہ جب کوئی بھی چیز توازن کے ساتھ ہو تو اس کا تاثر بہت بھرپور اور گہرا ہوتا ہے۔ بصورت دیگر آپ کی کشش ماند پڑ جاتی ہے۔

فیشن کا تعلق حسن اور عمر کےس اتھ ہے ان سب کے درمیان ایک خاص اور واضح تناسب کا ہونا بہت ضروری ے اس کے بعد یہ آپ کی شخصیت کو نکھار بخشے گا کیونکہ جب کوئی بھی چیز توازن کے ساتھ ہ تو اس کا تاثر بہت بھرپور اور گہرا ہوتا ہے بصورت دیگر آپ کی کشش ماند پڑ جاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ فیشن کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں تاکہ آپ کی شخصیت کو دوسروں میں منفرد ہونے کا موقع ملے۔
اسی طر ح خود کو صرف ایک ہی لباس یا رنگ تک محدود نہ کریں ورنہ آپ کو دیکھ کر دوسروں کو ہمیشہ یکسانیت کا احساس ہوگا اپنے لباس میں ہمیشہ جدت اور انفرادیت لانے کی کوشش کریں اگر آپ واقعی ایک خوش لباس خاتون بننا چاہتی ہیں تو اپنی شخصیت اور سٹائل کو بھرپور طریقے سے اجاگر کریں تاکہ آپ دوسروں میں نمایاں ہو سکیں اوریہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب آپ نے لباس کا انتخاب موسم محفل اور اپنی شخصیت کے مطابق کیا ہو۔
آپ کا لباس بہت ساری باتیں بزبان خاموش کہہ دیتا ہے۔ مثلاً آپ کا ذوق کیا ہے؟ آپ مزاج میں کیسی ہیں ؟ کتنی مہذب، کتنی با اخلاق ہیں؟ ہنس مکھ ہیں یا رنج و الم کی ماری ہوئی ہیں؟ یہ تمام باتیں ایک ایسا فرد باآسانی معلوم کر سکتا ہے جس کا مشاہدہ اچھا ہو۔
لباس کے بارے میں ضروری باتیں
یاد رکھیں فیشن کی اندھی تقلید کرنے سے آپ کا بجٹ متاثر ہوگا۔ لہٰذا پہلے کسی بھی نئے فیشن کا اچھی طرح جائز ہ لے لیں اور اس کے بعد یہ دیکھیں کہ وہ آپ پر سوٹ کرے گا بھی یا نہیں، اس کے بعد اسے اپنائیں۔ لباس کے استعمال کا مقصد آپ کو خوبصورت اور پروقار بنانا ہوتا ہے نہ کہ فیشن کی لپیٹ میں آکر کوئی بھی لباس استعمال کر کے شخصیت کو مضحکہ خیزبنانا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہماری باتوں پر عمل کر کے آپ ہر دلعزیز شخصیت بن جائیں گی۔
ثمرین فرید

یہ بھی پڑھیں:  ملتانی مٹی !بہترین قدرتی ماسک