مختصر اسلامی عقائد

EjazNews

س: تم کو کس نے پیداکیا ہے ؟
ج: ہم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔
س: زمین ، آسمان، چاند ، سورج ، ستاروں اور تمام انسانوں اور جانوروں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟
ج: اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے
س: اللہ تعالیٰ کسے کہتے ہیں؟
ج: اللہ ایک ایسی ذات و ہستی کا نام ہے جس کا ہونا ضروری ہے اور اس میں تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی روک نہیں سکتا۔ زمین، آسمان اور ہر جگہ اسی کی بادشاہی ہے و ہر ایک کی بات کوجانتا ہے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے رات کے اندھیرے میں اگر پتھر پر کوئی چیونٹی چل رہی ہے تو اس کے پاﺅں کی آہٹ کو بھی وہ سنتا اور اس کو دیکھتا بھی ہے۔ وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کے لئے موت نہیں ہے اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا وہ تمام عیبوں سے پاک ہے وہ سوتا نہیں اور نہ کھاتا پیتا ہے بلکہ سب کو وہ کھلاتا اور پلاتا ہے اور مارتا اور جلاتا ہے اسی کے حکم سے لوگ مرتے اور جیتے ہیں وہی مینہ برساتا اور ہوا چلاتا ہے وہی چاند اور سورج کو نکالتا اور چھپاتا ہے وہی ہر قسم کی سبزیوں اور اناجوں کو اگاتا ہے اور لوگوں کو مال و دولت دیتا ہے وہی بیمار کو اچھا کرتا ہے وہی روز ی اور اولاد دیتا ہے وہ ایک ہے اس کے ساتھ اس کا کوئی ساجھی نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں ہےب لکہ سب اسی کے محتاج ہیں اور وہی بندگی اور پوجا پاٹ کے لائق ہے وہ بندگی کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ اور نافرمانی کرنے سے ناخوش ہوتا ہے وہ اپنے کے ساتھ ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے وہی سب کو پالتا پوستا ہے اور ان کے علاوہ بے شمار خوبیاں ہیں جو انشاءاللہ اسلامی تعلیم کے دوسرے حصوں میں پڑھو گے۔
س: اللہ تعالیٰ کے ماننے والوں کو کیا کہتے ہیں؟
ج: اللہ تعالیٰ کے ماننے والوں کو مسلم یا مومن کہا جاتا ہے یعنی جو سچے دل سے اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاکر عمل کرے ۔
س: ایمان کسے کہتے ہیں؟
ج: اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے تمام حکموں کو سچے دل سے ماننے اور زبان سے اس کے اقرار کرنے اور اسی کے مطابق کام کرنے کو ایمان کہتے ہیں۔
س: کلمہ توحید کیا ہے ؟
ج: کلمہ توحید لا الہ الا اللہ یعنی اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے۔
س: کلمہ رسالت کیا ہے ؟
ج: ”محمد رسول اللہ “ہے یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں۔
س: کلمہ شہادت کسے کہتے ہیں؟
ج: کلمہ شہادت اشھد ان لا الہ الہ اللہ و اشھد ان محمدا رسول اللہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں۔
س: ان کلموں کا کیا مطلب ہے ؟
ج: اس کلمہ میں الٰہ کا جو لفظ ہے اس کے معنی معبود اور خدا کے ہیں اور خدا اس کو کہتے ہیں جو تمام چیزوں کا مالک و بادشاہاور سب کو پیدا کرنے اور پالنے پوسنے والا ہو، روزی دینے والا اور ہر ایک کی فریاد کو سننے والا ا ور وہ ہر قسم کی عبادتوں کا مستح ہو تو جب تم نے لا الہ الا اللہ کہا تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ سب سے پہلے تم نے یہ اقرار کرلیا کہ یہ دنیا بغیر اللہ کے نہیں بنی بلکہ اس کا بنانے والا کوئی ضرور ہے وہ ایک اللہ ہے بہت اللہ نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر بہت سے اللہ ہوتے تو دنیا کا کاروبار برباد ہو جاتاتو معلوم ہوا کہ صرف ایک ہی اللہ ہے اور وہی عبادت اور بندگی کے لائق ہے۔ یعنی عبادت و بندگی کی صرف اسی کی کی جائے اور اس کے علاوہ اور کسی مخلوق کی بندگی نہ کی جائے اور ہم سب اسی کے بندے اور غلام ہیں۔ اس کے سوا ہم کسی کے بندے اور غلام نہیں ہیںاور وہی ہمارا آقا اور مالک ہے اور اس کے سوا ہمارا کوئی آقا اور حاکم نہیں اور وہی تمام جہان کا خالق و مالک ہے اور اس کے علاوہ ہمارا اور کوئی خالق و مالک نہیں وہی ہر جگہ حاضر وناظر ہے۔ اور وہی مارنے وجلانے والا ہے اور وہی آرام و تکلیف دینے والا ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے کہ کسی کو مارے یا جلا سکے، یا آرام و تکلی پہنچا سکے اللہ کو اس طرح مان لینے کو توحید کہتے ہیں اور صرف ایک اللہ کے ماننے والے کو موحد کہتے ہیںا ور اگر (نعوذ باللہ منہ) دو یا دو سے زیادہ بہت سے اللہ مانے جائیں یا حقیقی اللہ کے ساتھ دوسروں معبودوں کی بندگی کی جائے تو اس کو شرک کہتے ہیں اورشرک کرنے والے کو مشرک کہتے ہیں اور یہ شرک بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ اس گناہ کو ہر گز معاف نہیں فرمائے گا اور نہ مشرک کو کبھی جنت میں داخل کرے گا ۔ پیارے بچو! تم کبھی بھی کسی حالت میں بھی شرک ہرگز نہ کرنا۔
س: رسول کس کو کہتے ہیں ؟
ج: رسول کے معنی ایلچی و قاصد اور پیغام پہنچانے والے کے ہیں اور شرعی محاورے میں رسول اس نیک انسان کو کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اپنی کتاب دے کر مخلوق کی ہدایت اور فلاح و بہبود ی کیلئے بھیجا ہو اسی کو نبی اور پیغمبر بھی کہتے ہیں۔
س: رسول کیسے لوگ ہوتے تھے ؟
ج: رسول اور پیغمبر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ و نیک بندے گناہوں سے پاک و صاف ہوتے تھے اور ہر قسم کی خوبیاں و بھلائیاں ان میں ہوتی تھیں ان کے پاس اللہ تعالیٰ اپنا حکم فرشتوں کے ذریعہ بھیجتا ہے اور وہ فرشتوں سے اللہ کا حکم سن کر اور پڑھ کر مخلوق کو سناتے تھے اچھی اچھی باتوںکا حکم کرتے اور بری باتوں سے روکتے تھے ماننے والوں کو جنت کی خوش خبری دیتے تھے اور نافرمانوں کو دوزخ کے عذاب سے ڈراتے تھے اور وہ ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان ہوتے تھے۔
س: کیا رسولوں کا حکم ماننا فرض ہے ؟
ج: ہاں رسولوں کا حکم ماننا فرض ہے۔
س: حکم ماننے سے کیا مطلب ہے؟
ج: مطلب یہ ہے کہ جو حکم و قانون اللہ تعالیٰ کی طرف وہ لائے تھے اس کی پیروی کرو جس طرح ان لوگوں نے اللہ کے حکموں کے مطابق اپنی زندگی بسر کر کے ہم کو بتلایا کہ تم بھی اپنی زندگی اسی طرح بسر کرو تو ہم کو بھی چاہئے کہ انھیں کے بتائے ہوئے احکام کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ اب تو تم کلمہ طیبہ کا مطلب سمجھ گئے ہو گے ،اس کی زیادہ تشریح اگلے حصوں میں سمجھ لینا۔
س: جی ہاں سمجھ گیا لیکن یہ بتائیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں پیدا ہوئے؟
ج: ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ملک عرب کے شہر مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔
س: آپ کے ماں باپ کا کیا نا م تھا؟
ج: آپﷺ کے باپ کا نام حضرت عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ تھا۔
س: آپ کو نبی اور رسول کس عمر میں بنایا گیا ؟
ج: جب آپﷺ کی عمر چالیس برس کی ہوئی تب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکو نبی اور رسول بنایا اور قرآن آپ کے اوپر اترنے لگا۔
س: آپ ﷺ نبی ہو جانے کے بعد کتنی مدت مکہ معظمہ میں رہے؟
ج: تیرہ سال تک نبی ہو جانے کے بعد مکہ معظمہ میں ٹھہرے۔
س: آپ ﷺ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کب کی؟
ج: تیرہ سال کے بعد یعنی جب آپﷺ کی عمر تریپن سال کی تھی جب کفار مکہ نے آپ کو بہت ستایا اور پریشان کیا تو اللہ کے حکم سے مدینہ منورہ میں وفات پائی۔(صلی اللہ علیہ وسلم)
س، جو شخض ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول نہ مانے تو وہ کیسا ہے ؟
ج: جو شخص آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول نہ مانے وہ کافر ہے۔
س: کیا آپﷺ کے بعد کوئی نبی یارسول پیدا ہو سکتا ہے ؟
ج: آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں آپ ﷺکے بعد کوئی نیا نبی نہیں پیدا ہو سکتا ۔
حضرت مولاناعبدالسلام بستوی دہلوی (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں:  پریاں کہاں رہتی ہیں
کیٹاگری میں : بچے