sarfraz ahmad

پاکستان کرکٹ ٹیم کسی ٹیم کو کمزور نہ سمجھنا

EjazNews

کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء پاکستان 12جون کو عالمی چیمپیئن آسٹریلیا کیخلاف میدان میں آئے گا جبکہ 16جون کو ہمسایہ ملک انڈیا سے مدمقابل ہوگا ، چھٹا میچ 23جون کو جنوبی افریقہ ، ساتواں میچ 26جون کو نیوزی لینڈ کے خلاف ، آٹھواں میچ 29جون کو افغانستان کے خلا ف،نواں میچ بنگلہ دیش کیخلاف 5جولائی کو لارڈز میں کھیلا جائے گا۔
اب بظاہراً دیکھا جائے تو اس میں دو میچ ایسے ہیں جو مشکل حریف ہیں اور باقی کے حریف پاکستان کے مدمقابل اتنے مضبوط نہیں ہیں لیکن اگر اسی سوچ کو اپنا کر کھیلا گیا تو یقین کیجئے وہی ہو گا جو پاکستانی ٹیم کے ساتھ ورلڈ کے 2019ء کے پہلے میچ میں ہوا ۔ یہ عبرتناک شکست پاکستانی ٹیم پر ایسی لگی ہے جس کو اب مٹایا نہیں جاسکتا ۔ اتنی بڑی ٹیم اور اتنی بری شکست کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اسی سوچ کا شامیانہ تھا جس کا ذکر ہم نے کیا کہ آسان حریف ہیں۔ ورلڈ کپ میں کسی کو آسان حریف سمجھنا ہی سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ یہاں پر کس وقت کون سی ٹیم کس پینتھرے کے ساتھ کھیلے اس کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ انگلینڈ کیخلاف بنگلہ دیش کو اگرچہ 106رنز سے شکست ہوئی لیکن اس کے باوجود اگر بنگلہ دیش کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو وہ مایوس کن نہیں تھی۔ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ جس انداز سے یہ ورلڈ کپ کھیل رہی ہیں نہیں لگتا کہ وہ کسی کا بھی آسان حریف ہیںوہ کسی بھی وقت اپ سیٹ پوزیشن پیدا کر سکتی ہیں۔ افغانستان کی ٹیم کی کارکردگی پہلے کی نسبت بہت نکھر چکی ہے ان کا کھیل میں جنون و جذبہ اور کوشش کی تعریف اگر نہ کی جائے تو یہ زیادتی ہوگی ۔ اگر یہ ٹیم اسی طرح کھیلتی رہی تو دور کی بات نہیں کہ افغانستان ورلڈ چیمپیئن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  کامیاب شادی کیلئے آئیے شادی شدہ جوڑوں سے کچھ سیکھتے ہیں
شائقین کرکٹ مختلف روپ بنا کر اپنی ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں

اب پاکستان کے اگلے تمام میچوں میں جن حریفوں سے مقابلے کے میچ ہیں وہ کوئیمحلے کی کرکٹ ٹیمیں نہیں ہیں بلکہ منجھی ہوئی ٹیمیں ہیں اس لیے کسی بھی خوش فہمی میں رہے بغیر اور کسی بھی خوش قسمتی کو یاد کیے بغیر پوری محنت اور لگن سے کھیلنا ہوگا ۔اور اس تصور کو کہیں دور پھیکنا ہوگا کہ آپ کے سامنے کھیلنے والا کمزور ہے اگر آپ یہ تصور اپنے دماغ میں لے آئے تو یقین کیجئے پھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ہار پکی ہے آپ کو جیت کیلئے کھیلنا ہے اور سامنے والی ٹیم کو اپنے سے مضبوط سمجھ کر کھیلنا ہے اور اپنی پوری کوشش کرنی ہے یہ کوشش ایسی چیز ہے جو دکھ جاتی ہے ۔
اب صورتحال آنے والے وقتوں میں سامنے آئے گی کیونکہ انگلش دیس میں ہونے والی بارش کا کوئی اعتبار نہیں پتہ نہیں کیوں ورلڈ کپ سے پہلے اس چیز کا انتظام نہیں کیا گیا کہ اگر بارش ہو جائے تو اس کیلئے کیا لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔ سری لنکن اور پاکستانی شائقین نے ورلڈ کپ کا میچ دیکھنے کیلئے اپنے تئی پوری کوشش کی ، ٹکٹ بھی خریدے ٹیمیں کھیلنے کیلئے میدان میں بھی موجود تھیں بس بارش تھی کہ تھم ہی نہیں رہی تھی۔ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے شائقین کو کس قدر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہوگا اس کا اندازہ صرف کرکٹ لور ہی بتا سکتا ہے ۔ دنیا کس قدر جدید ہے سب جانتے تھے کہ لندن کی بارش کا کوئی اعتبار نہیں یہ کب برس پڑے کسی کو کچھ پتہ نہیں کیا ہی اچھا ہوتا کچھ ایسا انتظام کر لیا جاتا کہ بارش برستی رہتی اور کھیل جاری رہتا ۔ آج انگلینڈ اربوں ڈالر بھی شائقین کرکٹ سے کما رہا ہے تو کیا اس پر خرچ نہیں کیے جاسکتے تھے بہر کیف آئی سی سی کی اپنی سوچ ہے اس کو شاید اس بات کا نہیں پتہ ہوگا کہ بے وقتی بارش یہاں معمول کا حصہ ہے۔
پاکستان اپنا ایک میچ اس بارش کی نظر کر چکا ہے ، اب آئندہ ہونے والے میچوں میں صورتحال کیا ہوگی یہ وقت ہی بتائے گا کہ بارش سے پوائنٹ ملتے ہیں یا پھر کھیل کر پوائنٹ ملتے ہیں۔ سرفراز احمد ویسے تو قسمت کے دھنی ہیں لیکن ان کی گزشتہ روز کی گئی پریس کانفرنس بھی اچھی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ ٹیم کو اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ بحرکیف پوری قوم پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت کیلئے پر امید ہے اور دعا گو ہے کہ ٹیم جیت کر آئے ۔ اور پورے ملک میں خوشیوں کی لہر دوڑ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ ہیرو میجر رابرٹ راجرز