ہمیں دفاع نہیں ناقابل تسخیر دفاع کی ضرورت ہے

EjazNews

یہ اس وقت کی بات ہے جب موجودہ سپین مسلم ریاست تھی۔ سپین کا آخری حکمران ابو عبداللہ تھا۔ ہمسایہ ریاستوں سےسپین کی ریاست کی لڑائی معمول تھی۔ سپین کے سامنے یہ ریاستیں کمزور تھیں۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ دفاعی لحاظ سے مضبوط ہونا شروع ہو گئیں۔ان ریاستوں نے مل کر سپین کیخلاف گٹھ جوڑ بنالیا۔ سپین دفاعی لحاظ سے مکمل کمزور نہ ہوا تھا۔ لیکن امن کا متلاشی تھا اور کمزوری کی حد تک امن پسند بن گیا تھا۔ ملکہ ایزابیلا اور شاہ فرنینڈس اس وقت کے متشدد ترین حکمران تھے۔ انہوں نے مکمل سپین پر قبضہ کیلئے آپس میں شادی کر رکھی تھی۔ ابو عبداللہ کے سامنے امن کیلئے انہوں نے ایک تجویز رکھی کہ سپین اپنے بہترین 36 سپہ سالار بطور ضمانت ان کے حوالے کر دے تو وہ سپین کو امن پسند سمجھیں گے۔ ابوعبداللہ نے اپنی کابینہ سے یہ تجویز منوالی اور یہ بہترین سپہ سالار فرنینڈس نے قتل کروادئیے۔اور اس واقعہ کے ایک سال بعد سپین سے مسلمان حکومت ختم ہو گئی اور مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بنا لیا گیا۔ابوعبداللہ کے بارے میں تاریخی روایت ہے کہ اس کا سارا مال و متاع سمندری لٹیروں نے لوٹ لیا اور وہوہ افریقہ میں بھیک مانگا کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  بروغل فیسٹیول کیا ہے؟
اس دکھ کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں

آج ہمارے ہمسائے میں ایک ایسی ریاست موجود ہے۔جس کے دفاع کا خرچہ ہمارے دفاعی خرچے سے اربوں روپے زیادہ ہے لیکن ہمارے اس کو ہمارے دفاعی اخراجات سے اس قدر تکلیف ہے جس کا شائستہ الفاظ میں بیانیہ ممکن نہیں ہے۔اور بڑی ہوشیاری کے ساتھ ہماری فوج کیخلاف ایک منظم طریقے سے مہم چلائی جارہی ہے۔

یاد رکھئے یہ فوج ہوتی ہے جو ہماری حفاظت کیلئے جاگ رہی ہوتی ورنہ کئی ابھینندن آئے روز ہمارے بچوں پر بم برسا رہے ہوں۔ ہم جس طرح کے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں ہمیں صرف دفاع کی نہیں بلکہ ناقابل تسخیر دفاع کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔