جدید ٹیکنالوجی سے کرائم روکنا آسان

EjazNews

ترقّی یافتہ دنیا میں شہریوں کے تحفّظ کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کے مربوط اور منظّم نظام کی تنصیب ایک معمول کی بات ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص لندن میں گھر سے سبزی لینے نکلے اور کچھ ہی دیر بعد واپس لوٹ آئے، تو محض اتنے سے عرصے میں بھی وہ کئی کیمروں میں محفوظ ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں ملزمان کی شناخت بہت جلد ہو جاتی ہے، مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں ابھی تک اس اہم ٹیکنالوجی سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ ہر کچھ دنوں کے بعد اس حوالے سے بلند بانگ اعلانات تو ہوتے ہیں، مگر پھر یہ خبریں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں کہ کراچی جیسے شہر کے اہم مقامات پر نصب کیمروں میں سے نصف سے زاید ناکارہ ہیں اور باقی سے بھی بس گزارہ ہی ہو رہا ہے۔ باقی بڑے شہروں کا حال بھی ایسا ہی ہے۔ کچھ برس قبل وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد کو’’ سیف سٹی‘‘ بنانے کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے ایک منصوبہ شروع کیا گیا، مگر بعد میں پتا چلا کہ ان کروڑوں روپوں سے جو کیمرے خریدے گئے، وہ انتہائی ناقص تھے اور یوں عملاً منصوبہ فلاپ ہوگیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم اس معاملے میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔
چوں کہ زینب کیس میں کوئی عینی گواہ موجود نہیں تھا، اس لیے ملزم تک پہنچنا اور اُس کی درست شناخت کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا، لیکن ڈی این اے کی شکل میں موجود ٹیکنالوجی نے اس مشکل کو حل کرنے میں بہت مدد دی۔ واقعے کے بعد 1150 افراد کے ڈی این اے حاصل کیے گئے، مگر پنجاب فرانزک لیب کے سربراہ، محمّد اشرف طاہر کے مطابق 814 ہی پر رزلٹ مل گیا۔ یہ ڈی این اے کیا ہے، اس کا ٹیسٹ کیسے کیا جاتا ہے اور اس سے مختلف کیسز میں کیسے مدد لی جا سکتی ہے…یقیناً اس حوالے سے بنیادی معلومات کا ہونا ازحد ضروری ہے۔ یوں سمجھیے کہ جیسے کوئی عمارت اینٹوں یا بلاکس سے مل کر بنتی ہے، اسی طرح انسانی جسم سیلز یا خلیوں سے مل کر بنتا ہے۔ طبّی ماہرین کے مطابق، انسانی جسم میں 10 کھرب سیل یا خلیے ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے مرکز میں ڈی این اے یعنی ڈی آکسی رائبو نیوکلیک ایسڈ پایا جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے لپٹے دھاگوں کی مانند ہر ڈی این اے میں دو لاکھ تک جینز ہوتے ہیں اور ہر جینز میں جسم کے کسی ایک حصّے کی معلومات پوشیدہ ہوتی ہیں، جنھیں’’ جینیٹک کوڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ڈی این اے کی مدد سے کسی بھی شخص کی جنس، بالوں، آنکھوں، جِلد کی رنگت، عُمر، جسمانی ساخت، لاحق بیماریوں، نسب اور خاندان سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے ضایع نہیں کیا جاسکتا، یہی وجہ ہے کہ ماہرین ہزاروں برس پُرانی حنوط شدہ مصری ممیوں اور ڈائنا سورز کے فوسلز سے لیے گئے ڈی این ایز کی مدد سے اُن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کام یاب ہوئے۔ ڈی این اے اسٹرکچر کو دو سائنس دانوں، جیمز واٹسن اور فرانسس کرک نے1953 ء میں دریافت کیا، لیکن اس ٹیکنالوجی کو مجرم کی شناخت کے لیے استعمال کرنے کا خیال، برطانوی ماہرِ، ڈاکٹر الیک جیفری نے پیش کیا۔ اب دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کو بہت سے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثلاً اگر کسی حادثے میں لاش ناقابلِ شناخت ہو، تو ڈی این اے ٹیسٹ ہی کے ذریعے اُس کے خاندان کی شناخت کی جاتی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے قریب طیارے کے ایک حادثے میں معروف نعت خواں اور مبلّغ، جنید جمشید سمیت بہت سے لوگ جاں بحق ہوئے، تو اُن کی لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ ہی کے ذریعے ممکن ہو سکی تھی۔ اسی طرح امریکا نے اسامہ بن لادن کے مارے جانے کا سب سے بڑا ثبوت، ڈی این اے ٹیسٹ ہی کی صُورت پیش کیا تھا۔ اس کے علاوہ، اگر کوئی اپنے آبائو اجداد کے متعلق جاننا چاہے، تو یہ بھی ڈی این اے ٹیسٹ ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ آپ نے سُنا ہوگا کہ اسرائیلی ماہرین دنیا بھر میں اپنے گمشدہ بارہویں قبیلے کی تلاش اسی ڈی این اے ٹیسٹ ہی کی مدد سے کر رہے ہیں۔ نیز، بعض قانونی اور خاندانی تنازعات میں ولدیت کے تعیّن کے لیے بھی اس ٹیسٹ سے مدد لی جاتی ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ مختلف جرائم کی کامیاب تفتیش کی صُورت میں سامنے آیا ہے۔ مختلف جرائم کی تفتیش کے دَوران، ماہرین جائے وقوعہ سے بال، پسینہ، تھوک، خون، انگلیوں کے نشانات وغیرہ حاصل کرکے ان سے ڈی این اے ٹیسٹ کرلیتے ہیں، جبکہ زینب جیسے واقعات میں متاثرہ اور مشتبہ افراد کے تولیدی مادّے سے ڈی این اے لیا جاتا ہے اور جس کا رزلٹ میچ کر جائے ،اُسے باقاعدہ ملزم نامزد کردیا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹیسٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا گیا ہو، تو یہ الزام ثابت کرنے کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔ طبّی ماہرین کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ کا طریقہ یہ ہے کہ جس شخص کا ٹیسٹ مطلوب ہو، اُس کے بال، خون، ہڈی یا گوشت کے نمونے لیے جاتے ہیں اور پھر لیبارٹری میں سب سے پہلے خلیے سے ڈی این اے کو الگ کیا جاتا ہے، بعدازاں اس ڈی این اے کو مختلف مشینز سے گزار کر ایک پروفائل تیار کیا جاتا ہے اور پھر اُسے دیگر پروفائلز سے میچ کیا جاتا ہے۔ پنجاب پولیس کے مطابق، ایک ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے پر دس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔
جہاں ترقّی یافتہ ممالک میں ڈی این اے ٹیسٹس کو نظامِ تفتیش میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، وہیں یہ مختلف حوالوں سے تنقید کی بھی زد میں ہے۔ اس ضمن میں قانونی حلقے برطانوی خاتون، اینی میری قتل کیس کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہیں، جس میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کو ڈی این اے ٹیسٹ کی میچنگ کی بنیاد پر سزا سُنائی گئی، مگر 8 ماہ بعد اُسے بے گناہ قرار دے کر رہا کرنا پڑا، کیوں کہ یہ ثابت ہوگیا تھا کہ جائے وقوعہ سے گزرتے ہوئے اُس کا بال اڑ کر مقتولہ کے قریب گر گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر راہ گیروں کے خلیے پائے جا سکتے ہیں، اس لیے محض ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر کسی کو حتمی طور پر ملزم قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ یہ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا میں تو ڈی این اے ٹیسٹس کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے پر بحث ہورہی ہے، مگر اپنے ہاں معاملہ اب بھی خاصا افسوس ناک ہے۔ اس وقت سرکاری طور پر صرف لاہور ہی میں فرانزک لیب کام کر رہی ہے، جس پر کام کا بہت زیادہ دباؤ ہے، کیوں کہ باقی صوبوں سے بھی کیسز وہیں بھیجے جاتے ہیں۔
’’ جیو فینسنگ‘‘ بھی ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے، جس سے ملزمان کو بے نقاب کرنے میں مدد ملتی ہے۔ گو کہ زینب کیس میں یہ ٹیکنالوجی کچھ زیادہ معاون ثابت نہ ہوسکی، مگر کچھ عرصے قبل کراچی کے علاقے، صفورا گوٹھ میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوّث گروہ کو اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے حراست میں لیا گیا تھا۔ دراصل جیو فینسنگ موبائل فون سگنلز کے ذریعے نشان دہی کی ٹیکنالوجی ہے، جو گلوبل پوزیشنگ سسٹم (جی پی ایس) کے ذریعے کام کرتی ہے۔ اس سافٹ ویئر کے ذریعے کسی مخصوص علاقے اور حدود میں، کسی خاص وقت میں ہونے والی موبائل فون کالز کا سراغ لگایا جا سکتا ہے، جس سے ملزمان تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔ تفتیش کاروں میں پولی گرافک ٹیسٹ بھی خاصا معروف ہے، جسے عرفِ عام میں جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ نفسیاتی نوعیت ہی کا ٹیسٹ ہے۔ اسے 2003ء میں یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا کے طالبِ علم، جان آگسٹس نے ایک پولیس افسر کی مدد سے متعارف کروایا تھا۔ اس ٹیسٹ کے دَوران ملزم کو مخصوص کرسی پر بٹھا کر مختلف طبّی آلات میں ایک طرح سے جکڑ دیا جاتا ہے، جن کی مدد سے اس کے بلڈ پریشر، نبض کی رفتار، دِل کی دھڑکن اور اسی نوعیت کی دیگر علامات پر نظر رکھی جاتی ہے۔ اگر سوالات کے دَوران وہ مطمئن اور نارمل رہتا ہے، تو اُسے کلیئر قرار دے دیا جاتا ہے، بہ صورتِ دیگر قصوروار ٹھہرتا ہے۔ ترقّی یافتہ ممالک میں یہ ٹیسٹ عام ہے، یہاں تک کہ اب ملازمتوں کے انٹرویوز میں بھی اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جارہا ہے، مگر ہمارے ہاں یہ کچھ زیادہ کام یاب نہیں ہوسکا، شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ہم جھوٹ اس مہارت سے بولتے ہیں کہ مشینز بھی منہ تکتی رہ جاتی ہیں…!!

یہ بھی پڑھیں:  سسرال سے عورتوں کو سیکھنا چاہئے