Haqoqul ebad

حقوق العباد

EjazNews

مختلف انسانی معاشروں اور غالب تہذیبوں نے غریب، محتاج، مسکین، مفلس اور مجبور کو ہمیشہ سے حقیر، کم تر اور قابلِ نفرت جانا۔ زمانۂ جاہلیت سے پہلے خود عرب میں بھی ان لوگوں پر عرصۂ حیات تنگ تھا۔ غریب ہونا ایک گالی اور ایک ایسا جرم تھا کہ جس کی سزا ساری زندگی ملتی رہتی، غریب اور اس کا خاندان معاشرے کے ہر صاحبِ حیثیت کا ادنیٰ غلام اور خادم سمجھا جاتا۔مگر یہ ظلم و ستم اور قہر و جبر کے غیر انسانی رویّےدرحقیقت، تاریخِ انسانی کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ دنیا میں جب اسلام کا سورج طلوع ہوا اور نبی آخرالزماں، محسنِ انسانیت، رحمت العالمین، حضرت محمد مصطفیٰﷺ مسند ِرسالت پر جلوہ افروز ہوئے، تو آپؐ نے اللہ کے احکامات کی روشنی میں غریب، محتاج اور مسکین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کے بارے میں لوگوں کو سخت ترین عذاب کی وعید سنائی اور انہیں پابند کیا کہ وہ اپنے مال کا ایک حصّہ ان بے کس لوگوں پر خرچ کریں، تاکہ وہ جنّت میں بہترین انعام پاسکیں۔ اللہ تعالیٰ، سورۃ الذٰرّیت میں فرماتا ہے’’ وہی متّقی لوگ بہشت کے باغوں اور چشموں کے کناروں پر عیش سے رہیں گے، جو اپنے مال کا ایک حصّہ دنیا میں غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘
سورۃ المعارج میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’جن کے مال میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں دونوں کا حصّہ مقرر ہے، یہی لوگ جنّت میں عزت و اکرام سے ہوں گے۔‘‘ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ تم ان غریب غربا کو دے کر کوئی احسان نہیں کرو گے، بلکہ اللہ نے تمہارے مال میں ان کا حصّہ مقرر فرما دیا ہے۔ چناں چہ اگر ان کا حصّہ پہنچائو گے، تو انعام کے مستحق ہوگے۔ صحابہ اکرامؓ نے حضور نبی کریمﷺ سے استفسار کیا کہ ’’یا رسول اللہ ﷺ! ہم اپنے مال کو کہاں خرچ کریں؟‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے احکامات نازل فرمائے۔’’آپﷺ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کہاں خرچ کریں؟ آپ فرما دیجیے کہ تم جو مال خرچ کرو، وہ والدین، رشتے داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو نیکی تم کروگے، اللہ تعالیٰ اس سے بہ خوبی واقف ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ)بلاشبہ، جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اللہ ان کے مال میں برکت فرماتے ہوئے اسے کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو جس قدر چاہے بڑھا چڑھا کر دولت عطا فرمائے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایسے سخی اور متّقی لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے۔’’جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال اس دانے جیسی ہے، جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے، بڑھا چڑھا کر دے۔ اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔‘‘ (البقرہ) ایک اورجگہ ارشادِ ربّانی ہے کہ’’ اپنے اس مختص کردہ مال میں سے ان تمام لوگوں کا حق ادا کر دو، جو اس کے مستحق ہیں۔ روزِ قیامت جب تم اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جائو گے، تو یہ تمہارے لیے باعثِ نجات اور جنّت کے حصول کا ذریعہ ہوگا۔ چناں چہ اللہ فرماتا ہے ’’پس قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کو ان کا حق دو۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے، جو اللہ تعالیٰ کےدیدار کے طالب ہیں۔ اور ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الروم)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ایک مرتبہ ایک شخص نے جنگل میں بادل سے ایک آواز سنی کہ فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کرو۔ وہ بادل چل پڑا اور اس نے بجری والی زمین پر پانی برسایا۔ وہاں کے نالوں میں سے ایک نالہ بھر گیا۔ وہ نالے کا پانی، جب آگے کی طرف بڑھا، تو وہ شخص اس پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ پانی جہاں پہنچا، وہاں ایک شخص باغ میں کھڑا اپنے پھائوڑے سے پانی کو اِدھر ادھر کررہا تھا۔ اس شخص نے باغ والے سے پوچھا، ’’اے اللہ کے بندے!تمہارا نام کیا ہے؟‘‘اس نے اپنا وہی نام بتایا، جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ اس شخص نے پوچھا ’’اے اللہ کے بندے!تم نے میرا نام کیوں پوچھا تھا؟‘‘اس نے کہا، ’’بات یہ ہے کہ جس بادل نے اس باغ میں پانی برسایا ہے، میں نے اس بادل سے یہ آواز سنی تھی کہ فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کرو، اس آواز نے تمہارا نام لیا تھا۔ تم اس باغ میں کیا کرتے ہو؟‘‘اس نے کہا کہ’’ اب جب تم نے یہ پوچھا ہے، تو سنو۔ میں اس باغ کی پیداوار پر نظر رکھتا ہوں اور اس کی پیداوار کے ایک تہائی سے میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک تہائی غریب، مساکین، سائلوں اور مسافروں پر خرچ کردیتا ہوں اور ایک تہائی اس باغ پر خرچ کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم)اس خوب صورت حدیثِ مبارکہ میں ان لوگوں کے لیے خوش خبری ہے کہ جو اپنی دولت کا کچھ حصّہ غریب غربا پر خرچ کرتے ہیں اور جو اپنی دولت کو چھپا کر رکھتے ہیں، ان کے لیے سبق ہے۔ اگر اپنی دولت کو غریبوں پر خرچ کرو گے، تو اللہ غیب سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں وہاں سے رزق عطا فرمائے گا کہ جس کے بارے میں تم نے سوچا بھی نہ ہو گا۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غریب غربا کی امداد کی فضیلت بیان کرنے کے علاوہ خود مفلسی اور غربت کی فضیلت بھی واضح فرمائی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ وہ مفلس، محتاج اور مجبور لوگ، جو اپنی مفلسی اور محرومی کو صبر و شکر سے برداشت کرتے ہیں اور نیکی پر قائم رہتے ہیں، اللہ کے یہاں بڑے اجر کے مستحق ہیں اور وہ جنّت میں پہلے داخل ہونے والوں میں ہوں گے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے غریب مہاجرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ’’اے فقرائے مہاجرین کی جماعت! خوش ہو جائو۔ اس نور کامل کے باعث (جو تمہیں) قیامت کے دن ملے گا، تم دولت مندوں سے آدھا دن پہلے جنّت میں داخل ہوگے اور وہ (آدھا دن بھی) پانچ سو سال کا ہوگا۔‘‘ (سنن ابی دائود)حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’کیا میں تمہیں یہ نہ بتائوں کہ جنّت کے بادشاہ کون ہوں گے؟‘‘ہم نے عرض کیا، ’’کیوں نہیں، یا رسول اللہﷺ ضرور بتایئے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’جنّت کا بادشاہ وہ شخص ہوگا، جوکم زور ہے، لوگ اسے کم زور سمجھتے ہیں، وہ پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہے، کوئی اس کی پروا نہیں کرتا، مگر اللہ کی نگاہوں میں اس کا وہ مرتبہ ہے کہ اگر وہ خدا کے بھروسے پر قسم کھا لے، تو خدا اسے سچّا کر دیتا ہے۔‘‘ (ابنِ ماجہ)دنیا کا کاروبار چلانے کےلیے اللہ نے امیری اور غریبی کی درجہ بندی کی ہے، تاکہ ہر ایک دوسرے کا محتاج رہے اور معاملاتِ زندگی احسن طریقے سے چلتے رہیں۔ کسی کو کم دیا اور کسی کو زیادہ، پھر سب کے حقوق و فرائض متعین فرما دیئے، لیکن دنیا میں جو متّقی لوگ کم زور، غریب اور مفلس ہیں، اللہ نے روزِ قیامت ان کے لیے بڑے درجات اور بیش بہا انعامات مقرر فرمادیئے۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں جنّت کے دروازے پر کھڑا ہوا، تو دیکھا کہ (جنّت میں) داخل ہونے والے عموماً مسکین لوگ ہیں۔‘‘(صحیح مسلم) حضرت سہیلؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس سے گزرا۔ آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ ’’تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو، (یعنی تمہارا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے کہ یہ کیسا شخص ہے)۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ’’یہ اس قابل ہے کہ اگر یہ کہیں نکاح کا پیغام دے، تو اسے قبول کیا جائے اور اگر کسی کی سفارش کرے، تو اس کی سفارش قبول کی جائے اور اگر بات کرے، تو اس کی بات کو غور سے سنا جائے۔‘‘ حضرت سہیلؓ کہتے ہیں کہ پھر حضورﷺ خاموش ہوگئے۔ کچھ دیر بعد وہاں سے ایک اور شخص گزرا، تو حضورﷺ نے فرمایا کہ ’’اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا ’’یہ تو معمولی آدمی ہے اور اس قابل نہیں کہ اگر کہیں نکاح کا پیغام دے، تو اس کے ساتھ نکاح کیا جائے اور اگرکسی کی سفارش کرے، تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر بات کرے، تو اس کی بات کو غور سے نہ سنا جائے۔‘‘ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اگر دنیا ان جیسے امیروں سے بھری ہوئی ہو، تو ان سب سے یہ غریب بہتر ہے۔‘‘ (صحیح بخاری) حضرت ابو الدرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے اپنے کم زور، غریب لوگوں میں تلاش کرو، کیوں کہ تمہارے کم زور اور غریب لوگوں ہی کی وجہ سے تمہیں روزی دی جاتی ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کی جاتی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
امام الانبیاء، سیّدالمرسلین، شاہِ عرب و عجم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ آپؐ نے غریبوں، مساکین اور محتاجوں کے ساتھ بھی عمدہ سلوک کا حکم فرمایا۔ حضورﷺ خود بھی ان لوگوں کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کرتے، ان کی خبر گیری کرتے اور صحابہؓ کو بھی اس کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ آپؐ اس وقت تک کھانا تناول نہ فرماتے، جب تک یہ یقین نہ کر لیتے کہ اصحابِ صفّہ نے کھانا کھالیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ غرباء، مساکین، محتاجوں اور یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی ہے۔ ان سے سختی اور تکبّر کے ساتھ بات کرنے اور درشت لہجہ اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ ’’جب یہ تم سے سوال کریں، تو ان سے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو۔‘‘ (سورۃ الضحیٰ)یعنی اگر انہیں منع بھی کرنا ہو، تو جھڑکنے کے بجائے پیار و محبت کے ساتھ منع کیا جائے۔ غریب، مسکین اور محتاج کے ساتھ ہتک آمیز رویّہ اللہ کو ناپسند ہے۔ قرآن مجید میں ایک اور جگہ ارشاد ِ ربّانی ہے: ’’اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو۔ جس طرح وہ شخص، جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے اور نہ قیامت پر، اس کی مثال اس پتھر کی طرح ہے، جس پر تھوڑی سی مٹّی ہو، پھر اس پر زوردار مینہ برسے اور وہ اسے بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے۔‘‘ (سورۃ البقرہ) حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ (حضرت علیؓ کے بھائی) حضرت جعفرؓبن ابی طالب، غریبوں اور مساکین سے بہت محبت رکھتے تھے اور ان کے پاس بیٹھتے تھے، ان سے باتیں کرتے تھے۔ ان کی اس صفت کے باعث، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیّت ’’ابوالمساکین‘‘ رکھی تھی۔ یعنی مساکین کے باپ (ابنِ ماجہ)۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں اور مساکین سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے دعا فرمائی کہ ’’اے اللہ!مجھے مسکین زندہ رکھ، حالتِ مسکینی میں رحلت ہو اور قیامت کے دن مساکین ہی کی جماعت سے اٹھانا۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیوں ایسا ہو؟‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’مساکین، امیر لوگوں سے چالیس سال پہلے جنّت میں داخل ہوں گے۔ اے عائشہؓ! مسکین کے سوال کو کبھی رَد نہ کرنا اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو۔ اے عائشہؓ! مساکین سے محبت رکھو اور انہیں اپنے قریب کرو، ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اپنا قرب نصیب فرمائے گا۔‘‘ (ترمذی)
اللہ کے خاص اور متّقی بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ غرباء، مساکین، محتاجوں، ضرورت مندوں اور مسافروں کو کھانا کھلاتے ہیں اور صرف رضائے الٰہی کو مدِنظر رکھتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ فرماتا ہے ’’اور وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ان کے نزدیک کھانا کھلانے کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہوتا ہے اور اس کے عوض ہم تم سے کوئی بدلہ اور شکرگزاری نہیں چاہتے۔‘‘ (سورۃ الدہر) حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بھوکے کو کھلائو، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو رہائی دلائو۔‘‘ (سنن ابودائود) اللہ کے رسولﷺاس پر نہ صرف خود عمل فرماتے، بلکہ صحابہؓ کو بھی تلقین فرماتے رہتے۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضور نبی کریمؐ نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا کہ میں ہوں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’آج تم میں سے کون جنازے کے ساتھ گیا ہے؟‘‘ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا ’’میں گیا ہوں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’آج تم میں سے کسی مسکین کو کس نے کھانا کھلایا ہے؟‘‘ حضرت ابوبکرؓنے عرض کیا ’’میں نے کھلایا ہے۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا ’’آج تم میں سے کسی مریض کی عیادت کس نےکی ہے؟‘‘ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا ’’میں نے کی ہے۔‘‘ اس پر حضورﷺ نے فرمایا ’’جس شخص میں یہ تمام باتیں جمع ہوگئیں، وہ جنّت میں جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم)۔ ہمارے معاشرے میں آج یہ شکایت عام ہے کہ رزق میں برکت نہیں رہی۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے رزق میں برکت آئے، روزی فراخ ہوجائے، تو انہیں چاہیے کہ اللہ کی راہ میں غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کی عادت ڈال لیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے ’’اور تم مساکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔‘‘(سورۃالفجر )ایک صحابیہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضورؐ سے عرض کیا ’’یا رسول اللہﷺ !فقیر میرے دروازے پر آتا ہے اور میرے پاس اس کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، مجھے اس وقت شرم آتی ہے۔‘‘ حضورﷺ نے فرمایا’’اس کو کچھ دے دو، اگرچہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘(ابو دائود) سائل کو جھڑکنا، اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ فعل ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا ’’اے آدم ؑ کے بیٹے، میں بیمار ہوا، تو تونے میری عیادت نہ کی۔‘‘ انسان کہے گا،’’اے میرے رب! میں تیری کس طرح عیادت کرتا، جب کہ تو رب العالمین ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا’’ کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا، تو تونے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا، تو مجھے اس کے پاس پاتا۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، ’’اے آدم ؑ کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا، تو تونے مجھے کھانا نہ دیا۔‘‘ انسان کہے گا کہ’’اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھانا دیتا، جب کہ تو رب العالمین ہے۔‘‘ اللہ فرمائے گا ’’کیا تجھے علم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا، تو تونے اسے کھانا نہ دیا۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اسے کھانا دیتا، تو اسے میرے پاس پاتا۔‘‘پھر اللہ رب العزت فرمائے گا ’’اے آدم ؑ کے بیٹے! میں نے تجھ سے پانی مانگا، تو تونے مجھے پانی نہ پلایا۔‘‘ انسان کہے گا، ’’اے میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا، جب کہ تو رب العالمین ہے۔‘‘ اللہ فرمائے گا ’’میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا، مگر تونے اسے پانی نہ پلایا۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اسے پانی پلاتا، تو اسے میرے پاس پاتا۔‘‘ (صحیح مسلم)
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشادہے ’’بے شک، صدقات یعنی زکوٰۃ، فقراء، مساکین اور اس کے عاملین اور دل جوئی اور غلام آزاد کرانے میں اور خلاصیِ قرض اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے مقررشدہ ہے اور اللہ حِلم والا، حکمت والا ہے۔‘‘ (سورئہ توبہ) اس آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ زکوٰۃ کے مال کا ایک مصرف غریب، مسکین، محتاج اور مجبور کی مدد کرنا ہے، چناں چہ اہلِ ثروت پر لازم ہے کہ وہ جب زکوٰۃ کا مال تقسیم کریں، تو انہیں چاہیے کہ ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کی مدد کریں، جو شرم کے باعث کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ ایسے لوگوں کی مدد کرنا، اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ سورئہ بقرہ میں فرماتا ہے کہ ’’تم جتنا کچھ خرچ کرو، یعنی خیرات اور جو کچھ نذر کرو، اسے اللہ خوب جانتا ہے۔‘‘ اسی حوالے سے سورئہ بنی اسرائیل میں بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اور عزیزو اقارب اور مساکین اور مسافروں کو ان کا حق دو اور فضول خرچی کے ذریعے بے جا خرچ نہ کرو۔‘‘ معاشرے کے تمام افراد کی ذمّے داری ہے کہ وہ غریب، مسکین، محتاج اور پریشان حال لوگوں کی مدد کریں، بیماروں کے علاج، یتیم بچّیوں کی شادی، غریب بچّوں کی تعلیم اور مقروضوں پر اپنے مال کو خرچ کریں۔ اللہ کی راہ میں دیا ہوا ان کا مال دنیا میں رزق میں برکت کا باعث بنے گا اور آخرت میں بے پناہ اجروثواب کا وعدہ تو اللہ نے کیا ہوا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ بس باقی ہوس، ہر چیز فنا ہونے والی ہے ماسوا اللہ تعالیٰ