پڑھنے میں دل نہیں لگتا

EjazNews

’’پڑھائی، دنیا کا مشکل ترین کام ہے‘‘، پتا نہیں کن لوگوں کو پڑھنا لکھنا آسان لگتا ہے، اس سے زیادہ جان جوکھوں کا تو کوئی کام نہیں‘‘ یقیناً آپ نے بھی اس طرح کے جملے کئی بار کہے ہوں گے اور اگر آپ طالبِ علم ہیں، تب تو ایسے جملے صبح و شام دہراتے ہوں گے تاکہ خود کو مظلوم ثابت کیا جاسکے…!! بہ ہر حال، ہم آپ سے اس حد تک تو متفق ہیں کہ پڑھنا لکھنا واقعی ایک مشکل کام ہے، مگر اب ایسا بھی نہیں کہ یہ کوئی ناممکن مشن ہو۔ بس ذرا سی توجّہ دی جائے، تو منزل آسان سے آسان تر ہوتی چلی جاتی ہے، سو ذیل میں ہم اسی حوالے سے کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں۔
(1)کاغذ، قلم ساتھ رکھیں…اگر کورس کی کتابوں سے کئی دنوں بعد سامنا ہو، تو اِک انجانے خوف کے سبب دل دَھک دَھک کرنے لگتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ بندہ بھاگ کر کہیں جا چُھپے، مگر اچھے بچّے، جنھیں دنیا میں نام کمانا ہے، ایسا نہیں کرتے، بلکہ وہ حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ سو، اگر کبھی آپ کا دِل بھی پڑھنے پر آمادہ نہ ہو، لیکن پڑھنا ہو ضروری، تو ایک کاغذ اور قلم لے لیں اور جو پڑھنا چاہتے ہوں، اُسے لکھتے جائیں اور اپنے ہوش وحواس معطّل نہ ہونے دیں۔
(2)گھبرائیں مت… بعض دفعہ کام زیادہ ہوتا ہے، تو اُسے دیکھ کے ہی طلبہ گھبرا جاتے ہیں، جو ایک فطری بات ہے، مگر اس میں گھبرانے کی کوئی بات ہونی نہیں چاہیے۔ یاد رکھیے، کوئی بھی کام آنکھ جَھپکتے نہیں ہوتا اور ویسے بھی جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے، لہٰذا کام کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اپنے ذہن کو مکمل طور پر پُرسکون رکھیں۔
(3)مشکل پیراگراف… اگر کوئی پیراگراف مشکل لگ رہا ہے، تو اُسے دو، تین بار پڑھیں۔ پھر جو الفاظ مشکل ہوں، اُن کے معنی تلاش کریں اور الفاظ کے مطالب کو ذہن میں رکھتے ہوئے اُس پیراگراف کو ایک بار پھر پڑھیں۔ اگر ہو سکے تو جو پڑھ رہے ہیں، اُسے رَف کاپی پر لکھتے بھی جائیں، اس طرح ذہن کا فوکس ایک جگہ پر رہے گا۔
(4)ذہن کو پُرسکون رکھیے…طلبہ کے لیے ذہن کا پُرسکون ہونا لازم ہے۔ ممکن ہے پڑھائی کے علاوہ بھی آپ کے کچھ مسائل ہوں، لیکن ایسا صرف آپ کے ساتھ تو نہیں، اس طرح کے معاملات تو سبھی کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں، تو پھر ان مسائل کو پڑھتے وقت بھول جائیں اور یہ سمجھیں کہ آپ کے باقی تمام مسائل حل ہوچکے اور اب صرف پڑھنا ہے۔
(5)ٹارگٹ فکس کریں…اپنی پڑھائی کو کسی طے شدہ شیڈول کا پابند رکھیں۔ یعنی آدھے گھنٹے یا ایک گھنٹے میں آپ نے کتنا پڑھنا ہے۔ کوئی مشق کرنی ہے یا کچھ یاد کرنا ہے، تو اس کی حد مقرر کردیں کہ اسے اتنے وقت میں پورا کرنا ہے۔ اس طرح آپ باقی مضامین کو بھی مکمل وقت دے پائیں گے۔
(6)مشکل مضمون کا سامنا کریں…جو مضمون آسان ہو، اُسے پہلے ختم کرلیں۔ اس طرح آپ کو حوصلہ مل جائے گا کہ چلو ایک سے تو جان چُھوٹی…!! اس کے بعد ذرا مشکل، پھر اُس سے زیادہ مشکل مضمون کو ہاتھ لگائیں۔
(7) رٹّے سے بچیں… طلبہ کو رٹّے سے ہمشہ بچنا چاہیے، کیوں کہ رٹّے بازی سے امتحانات میں تو کام یابی مل جاتی ہے، مگر یہ صلاحیتوں کے نکھار میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ رٹّا آپ کی یادداشت کا قاتل ہے اور یہ ذہن کو محدود کردیتا ہے۔ اسی لیے جو بھی پڑھ رہے ہوں، سمجھ کر پڑھیں اور جو بات سمجھ نہ آئے، تو اُسے لکھ لیں۔ اب اس حوالے سے خود سے طرح طرح کے سوالات کریں اور اپنے علم کی بنیاد پر اُن سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کریں۔ اگر پھر بھی بات سمجھ نہیں آرہی، تو پھر آپ کے پاس دو آپشنز ہیں۔ ایک انٹرنیٹ سے مدد یا پھر استاد سے رجوع۔ آپ ان دونوں آپشنز کا استعمال کریں اور جہاں سوال لکھ رکھا تھا، وہاں اس کا جواب بھی درج کردیں۔ اب آپ کا ٹاپک کلئیر ہوچکا ہے، لہٰذا اُسے ایک بار پھر پڑھ لیں تاکہ اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔
(8) سبق کو زیادہ دیر تک یاد رکھنے کا طریقہ…کسی چیز کو یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو چیز آپ نے یاد کرلی ہے، اُسے آدھے گھنٹے بعد پھر دُہرایں۔ اُس کے بعد چار، پانچ گھنٹے کے بعد اُسے پھر دیکھیں۔ اور اگر اُسے زیادہ دیر یاد رکھنا چاہتے ہیں، تو ہفتے میں دو تین بار ضرور دیکھیں۔ یہ طریقہ آزمانے کے بعد اب آپ اُسے مشکل ہی سے بھول پائیں گے۔
(9)کورس کی فکر کریں… بیش تر طلبہ کے ذہن میں صرف یہی ہوتا ہے کہ امتحان میں کون سا سوال آئے گا…؟؟ یہ مسئلہ آپ کا نہیں، بلکہ پیپر بنانے والے کا ہے، لہٰذا آپ اس کی فکر چھوڑ دیں۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ جو کچھ کورس میں دیا گیا ہے، آپ کو اُس میں سے کتنا آتا ہے…؟ اگر تو آپ نے خاصی تیاری کرلی ہے، تب امتحان میں کون سا سوال آئے گا، یہ آپ کبھی نہیں پوچھیں گے۔ دراصل، ہمارے ذہن ہی کچھ اس طرح کے بن چکے ہیں کہ ہم صرف نمبرز حاصل کرنا چاہتے ہیں، حالاں کہ اگر ہم سیکھنے کی غرض سے پڑھنا شروع کریں، تو اچھے نمبرز آپ ہی آپ آ جائیں گے اور بالفرض نہ بھی آئے، تب بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ بہ ہر حال آپ رٹّے بازوں سے زیادہ باصلاحیت ہیں، تاہم اس بات کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ زیادہ نمبرز حاصل کرنے کی تیکنیکس ہی کو نظر انداز کردیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کھانے کے شوقین جاسوسی کردار