firdos ashiq awan

70سالہ گڑے سڑے نظام سے نجات دلانے کیلئے آئے ہیں:فردوس عاشق اعوان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کی مشیر برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دی، ان کا کہنا تھا کہ کابینہ میں12نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ معزز جج کیخلاف جو شکایات آئیں ان کی تصدیق کرکے اس شکایت کو سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دی گئی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل فیصلہ کرے گی اور یہ حکومت کا ذیلی ادارہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی شکایت کو عدلیہ ہی دیکھنے جارہی ہے تو یہ عدلیہ میں حملہ کیسے تصور ہوسکتا ہے کیونکہ عدلیہ اور سپریم جوڈیشل کونسل میں بیٹھے معزز جج صاحبان اور یہ ایک آزاد ادارہ ہے اور حکومت اس کے ہر فیصلے کو مانے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا جو واویلا اور پروپیگنڈا تھا ان کی سوچ کی کابینہ نے مذمت کی اور ہمارے قانونی اور آئینی معاملات ہیں اس پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کا جو راستہ اپنایا گیا اس کو عمران خان نے نہیں نکالا بلکہ آئین اور بھٹو کے آئین سے نکالا ہے اور آئینی حدود سے باہر نہیں گئے ہیں اور کابینہ نے اس اقدام کی حمایت کی۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق میڈیا سے توقع کرتی ہوں اور اپیل کرتی ہوں کہ جب تک سپریم جوڈیشل کونسل ترجیحات طے نہیں کرتی تب تک میڈیا میں عدالت لگا کر گفتگو نہ کریں اور جب تک فیصلہ نہ ہو کسی بھی جج کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سرپرستی میں پاکستان حقوق اللہ، حقوق العباد کا چیمپیئن بنے گا، جب تک حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد مکمل نہ ہوں تو اسلام مکمل نہیں وتا، وزیراعظم نے مکہ سمٹ میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے دنیا کو باور کرایا ہمارا اصل راستہ دین ہے، ہم نے دین اسلام کو دنیا میں پھر سے متعارف کرنا ہے۔
مشیر خصوصی کا کہنا تھا کہ جہاںرول آف لا کی بات ہے وہاں شریوں کے حقوق ضروری ہیں، ان کا کہنات ھا کہ ہمیں یکساں احتساب کے عمل کو آگے لے کر چلنا ہے، عوام، ادارے توقع کرتے ہیں سٹیٹس کو کا حصہ نہ بنیں، قوم نے ذمہ داری ڈالی ہے آئین و قانون کے تحت کام کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 70 سالہ گلے سڑے نظام سے پاکستان کونجات دلانے آئے ہیں، ہم سٹیٹس کو کا حصہ نہیں بنیں گے اور قوم نےجو ذمہ داری ہم پرعائد کی ہے اس کو قانون اور آئین کے مطابق ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  سی ویو پر بیوی کو لا کر بہت بڑی غلطی کی:وسیم اکرم