اب بغیر کٹوتی کے پاکستان پوسٹ سے رقوم بھجوائی جا سکتی ہیں:وفاقی وزیر مراد سعید

EjazNews

وفاقی وزیر مراد سعید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پوسٹ اور سرکاری بینک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔طے پانے والے معاہدے کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی ،پاکستان پوسٹ کے ذریعے رقوم بھیج سکیں گے۔پاکستان پوسٹ سے رقوم بھیجنے پر کوئی کٹوتی نہیں ہو گی۔ابتدائی مرحلے میں سروس 230 ڈاکخانوں پر میسر ہو گی، سروس کا دائرہ بتدریج 3 ہزار ڈاکخانوں تک بڑھا دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پوسٹ کو خسارے سے نکال دیا ہے، جلد ہی ترسیلات زر کی سہولت گھر کی دہلیز پر فراہم کریں گے۔پاکستان پوسٹ سے پھل اور میوہ جات کی برآمد بھی ہو سکے گی، برآمدات پر سبسڈی کارڈ دیا جائے گا۔
بظاہراً یہ ایک بہت اچھا اقدام ہے لیکن دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ پاکستان پوسٹ کا سسٹم کمپیوٹر کی بجائے ہاتھ سے لکھی کی ہوئی پرچیوں پر ہوتا ہے ۔ ماضی میں پاکستان پوسٹ کے ہاتھوں ڈسے ہوئے بہت سے افراد ہیں جن کی ڈگریاں باہر سے بھجوائی گئیں اور وہ کبھی ملی ہی نہیں یا پھر کسی نے ڈگری لینے کیلئے پاکستان پوسٹ سے لیٹر بھیجا تو وہ لیٹر کبھی یونیورسٹی تک پہنچا ہی نہیں اور کا غذ کا ایک ٹکڑا لیے دردر پھرنے والوں کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وفاقی وزیر پاکستان پوسٹ کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر دیں جس سے کس نے کب پیسے دئیے ہیں لیے ہیں ہر چیز کا ریکارڈ موجود ہو اور کسی قسم کی شکایت پیدا نہ ہوکیونکہ بیرون ملک کام کرنے والے دن رات کام کرتے ہیں اور جب وہ اپنے پیاروں کو پیسے بھیجتے ہیں تو دینے اور لینے والوں دونوں میں امید کی کرنیں ہوتی ہیں۔ یہ اقدام بے شک اچھا ہے کہ پاکستان پوسٹ خسارے سے نکل چکا ہے۔ پاکستان پوسٹ بہتری کی جانب جا رہا ہے لیکن اس جانب بھی تھوڑی توجہ کی ضرور ت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  2019ء میں زیر بحث رہنے والے اہم مقدمات