Eid1

عید کا موقع ہے ،بازاروں کی رونق کہاں گئی

EjazNews

عید کا تہوار ہے ، مسلمانو ں کے لیے یہ خوشی کا بڑا تہوار ہے ۔ عید کے دن کی مناسبت سے سجنا سنورنا سب کو اچھا لگتا ہے اور لگنا بھی چاہیے۔ لیکن اس دفعہ لگتا ہے کہ جیسا بازاروں کو کسی کی نظر لگ گئی ہے ، خریداری کے بازار عید سے چند روز قبل بھی رونقوں کا وہ آئینہ نہیں دکھا رہے جس کے متقاضی ہوتے ہیں۔ ویسے تو ہم پاکستانی عید کے تہوار پر خوشی سے زیادہ افسردگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

عید کے موقع پر دکان کے باہر لگے سٹال سے خواتین خریداری کرتے ہوئے

کیونکہ رمضان کے پورے مہینے میں مہنگائی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے اور ایسی ایسی سائنسدانی کی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ آپ دنگ رہ جاتے ہیں کہ مہنگائی پچھلی حکومت میں ، اس سے پچھلی حکومت ، بھئی پچھلی حکومتیں جا چکی اب آپ ٹھیک کرو نا، لیکن اس مہنگائی مافیا کے سامنے پوری حکومتی مشینری بے بس نظر آتی ہے۔ بحرکیف اب یہ مہنگائی کا طوفان عید کے بعد ختم ہو جائے گا اور جن چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں واپس آنا شرو ع ہو جائیں گی۔ اب اہم مسئلہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے عید پر خریداری کرنی ہے۔ بچو ں کیلئے نئے کپڑے خریدنے ہیں، ہمارا فوٹو گرافر جب مختلف بازاروں کی تصاویر کھینچ کر لایا تو اس کا کہنا تھا کہ سر جی میں دو گھنٹے تک مختلف بازاراں چہ پھردا ریاں کتے رونق نظر آئی ہی نئی۔ (میں مختلف بازاروں میں پھرتا رہا لیکن رونق تھی ہی نہیں)۔

یہ بھی پڑھیں:  وویمن ٹی ٹونٹی کیمرے کی آنکھ سے
خواتین آرٹی فیشل جیولری کو دیکھتے ہوئے

ایک تو مہنگائی کا بوجھ عوام پر بڑھتا جارہا ہے ، دوسرا آپ دیکھیں سفید پوشی ختم ہو تی جارہی ہے۔ ہمارا سفید پوش طبقہ ایسے مواقع جب عیدین ہوں اپنی سفید پوشی چھپانے میں بڑی حد تک ناکام ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ سفید پوش طبقہ ہی ہوتا ہے جو کسی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے ۔ اس کو بچانے کی سب کو کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ سب کیلئے محنت کرتا ہے اور تھوڑی تھوڑی بچتوں سے بڑے بڑے کام کرتا ہے۔

جوتیوں کے سٹال پر موجود خواتین
بچوں کی جوتیوں کے سٹال پر موجود شخص اپنے بچے کے ماپ کی جوتی اسے پہناتے ہوئے