افغانستان بمقابلہ آسٹریلیا بنتا نہیں تھا

EjazNews

افغانستان کا پہلا میچ حریف افغانستان کے ساتھ ہوا ۔ یہ مقابلہ ایسا ہی تھا جیسے آپ افغانستان کا مقابلہ امریکہ سے کر لیں۔ آسٹریلیا اب تک کی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ جیتنے والی ٹیم ہے ۔دوسری جانب افغانستان کی ٹیم ابھی بالکل نئی نویلی ہے۔ لیکن اس کے باوجود افغان ٹیم نے بھرپور کھیل کا مظاہرہ کیا جس سے ان کی کارکردگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ غور کیجئے کہ پاکستان اور آسٹریلیا جیسی منجھے ہوئی ٹیمیں اپنی مدمقابل کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئیں لیکن اس کے برعکس افغانستان کی ٹیم نے ان دونوں ٹیم سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 207سکور بھی کیے اور آسٹریلیا کو 34.5اوورز تک مصروف بھی رکھا۔ سری لنکا کی ٹیم محض 136رنز پر اور پاکستانی ٹیم 105کے سکور پر پویلین میں واپس آگئی تھی۔ اس کے مقابل افغانستان کی ٹیم کی کارکردگی بہت اچھی رہی جس نے 207رنز بنائے اور آسٹریلیا جیسی منجھے ہوئی ٹیم کے سامنے 38.2اوورز تک جمی رہی۔
افغان ٹیم گلبدین، محمد شہزاد، نور علی زدران، حضرت اللہ، محمد نبی، حشمت اللہ شہیدی، نجیب اللہ، سمیع اللہ شنواری ،دولت زدران ، آفتاب عالم، حامد حسن، نجیب الرحمان، راشد خان، اصغر افغان اور رحمت شاہ پر مشتمل تھی جبکہ آسٹریلیا کی ٹیم میں ایرون فنچ، ڈیوڈ وارنر، عثمان خواجہ، اسٹیون اسمتھ، شان مارش، گلین میکسویل، مارکس اسٹوئنس، ایلکس کیری، پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جھائے رچرڈدسن، نیتھن کاؤلٹر نائیل، جیسن بہرن ڈروف، ایڈم زامپا اور نیتھن لایون شامل ہیں۔
افغانستان کی جانب سے نجیب اللہ زدران نے 51، رحمت شاہ 43سکور بنائے جبکہ آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ نے66 رنز بنا کر گلبدین کی گیند پر پویلین لوٹے خواجہ عثمان 15رنز جبکہ سٹیو سمتھ 15رنز بنا کر آئوٹ ہوئے ۔اور ڈیوڈوانرنے 89سکور کیے۔
آسٹریلیا اور افغانستان کا جوڑ کسی طرح سے بھی سمجھ سے بالا تر تھا لیکن اس کے باوجود افغان ٹیم نے جس طرح کی کارکر دگی دکھائی اس میں ان کو داد دینا بنتی ہے ۔ ان کی بیٹنگ لائن اور بولنگ پہلے سے بہت نکھری ہوئی ہے اور آنے والے وقتوں میں وہ منجھی ہوئی ٹیموں کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب ہو جائی گی۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت سرپرائز کا انتظار کرے جلد سرپرائز ملے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر