hospital-child ward

ساہیوال میں جاں بحق بچوں کے والدین کس کیخلاف رپورٹ درج کرائیں

EjazNews

ساہیوال کے سرکاری ہسپتال کے چلڈر ن وارڈ میں اے سی خراب ہونے سے 5نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔ وزیراعلیٰ پنجا ب سردار عثمان بزدار نے واقع کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری صحت اور کمشنر ساہیوال ڈویژن سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ہسپتال انتظامیہ کا ایک لمبا چوڑا سٹاف ہوتا ہے جو ہر وقت ہسپتال میں موجود رہتا ہے ۔ کیا ان نومولود بچوں کو فوری طور پر کسی ایسے وارڈ میں شفٹ کرنا ممکن تھا کہ نہیں جہاں پر گرمی کی شدت کم ہو یہ تو تحقیقات ہی بتائیں گی ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن والدین کے بچے جاں بحق ہو ئے ہیں اب وہ رپورٹ کس کیخلاف درج کرائیں گے کیونکہ یہ بچے طبی موت نہیں مرے بلکہ یہ غفلت ، لاپرواہی کی وجہ سے موت کے منہ میں گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے واقع کی جامع تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب جامع تحقیقات تو ہوتی رہتی ہیں اور ہمارے ہاں جتنی جامع تحقیقات ہوتی ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی ہیں نہیں اور ان جامع تحقیقات کی کتنی رپورٹس منظر عام پر آتی ہیں یہ اپنی جگہ ایک سوال ہے۔
حکومت کی توجہ کا مرکز اس وقت سب سے زیادہ صحت ہےاور تعلیم ہے لیکن آج کا واقع تو ایسا ہے کہ جیسے نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی بتانے والا ہے۔ مرتے ہیں تو مریں کیوں سرکاری ہسپتال میں آئے تھے جاتے کسی ساہوکار کی جیب بھرنے کیلئے پرائیویٹ ہسپتال میں ۔ جہاں پر نہ اے سی خراب ہو تا ہے ، نہ کسی ویلیٹی نیٹر کی شکایت سامنے آتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے غفلت کے مرتکب افراد کے تعین اور ان کیخلاف کارروائی کی بھی ہدایت کر دی ہے۔ جبکہ صوبائی وزیر صحت نے بھی محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
ہم ہر موقع پر اس بات کی یاددہانی کراتے رہتے ہیں کہ جب بھی کوئی ایسا واقع ہو وہ کسی شعبے کا آپ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچا دیا اور قرار واقع مجرموں کو سزا دے دیں ایسے واقعات دوبارہ رونما نہیں ہوں گے۔ لیکن ہمارے ہاں اکثر و بیشتر دیکھنے میں آتا ہے کہ قربانی کا بکرا سب سے چھوٹا سٹاف بنتا ہے جس کا اس سارے عمل میں کردار صفر ہوتا ہے۔
اب والدین نے کسی نہ کسی کیخلاف رپورٹ درج کروانی ہے اور کروانی بھی چاہیے لیکن کس کیخلاف ؟ ریاست کے، ریاستی اداروں کے ، حکومت کے یا حکومتی اداروں کے ؟ یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیریوں کے حقوق کے لیے یورپی پارلیمنٹ میں خصوصی اجلاس، وزیراعظم آزاد کشمیر وفد کے ہمراہ شریک