کراچی کا سیوریج خطرے کی گھنٹی بن گیا

EjazNews

کراچی میں پولیو وائرس کے مریض تو بہت کم ہو ں گے ۔ لیکن اس کا سیوریج کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں کے سیوریج نظام سے سیمپلز اکٹھے کیے گئے۔ یہ تمام نمونے 15پریل سے 16مئی کے دوران لیے آپ حیران رہ جائیں گے ان گٹروں کے سے جو سیمپلز لیے گئے ان سے اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ کراچی میں پولیس وائس ہے۔ ان میں بہت سے علاقے شامل ہیں لیکن ہم یہاں پر کسی علاقے کا نام نہیں لینا چاہتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں خوف کی فضاءقائم ہو جاتی ہے جس سے لوگ ان علاقوں میں جانے سے بھی گریز کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ چھونے سے پھیلنے والی بیماری نہیں ہوتی۔ کراچی کے سیوریج سے نمونے ڈبلیو ایچ کی ٹیم نے لئے تھے۔ جبکہ شنید ہے کہ لاہور سے لیے گئے سوریج نظام کے نمونوں سے بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ لیکن لاہور میں نمونے محکمہ صحت نے لیے ہیں۔ اور اسی طرح ملک کے مختلف علاقوں کے سیوریج سسٹم سے لیے گئے نمونوں سے وائریس کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ حصہ کراچی کا ہے۔ جبکہ دوسری طرف اگر ہم دیکھیں تو جو پولیو کے کیسز سامنے آئے ہیں ان میں سب سے زیادہ کیسز خیبر پختونخوا سے ہیں جن کی تعداد 8ہے اور 8میں سے 6کیسز کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے۔ پنجاب اورسندھ میں 3-3 کیس سامنے آئے ہیں۔
نوٹ کرنے والی چیز یہ ہے کہ دنیا بھرسے پولیو کا وائرس تقریباً ختم ہو چکا ہے ۔ دنیا کے دو واحد ممالک افغانستان اور پاکستان ہیں جن میں اس وائرس کی موجودگی زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز سب سے بڑے بین الاقوامی فورم پر سنی گئی ہے:ملیحہ لودھی